عبد اللہ بن جحش

PER-000186 خاندان کی شخصیت مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
عبد اللہ بن جحش بن رئاب رضی اللہ عنہ بنو اسد کے حلیفِ قریش، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کے فرزند اور ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے۔ وہ ابتدائی مسلمان، حبشہ و مدینہ کے مہاجر، غزوۂ بدر کے شریک اور سریۂ نخلہ کے امیر تھے۔ نخلہ کے واقعے میں حرمت والے مہینے کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا جسے سیرت کی روایت سورۂ بقرہ کی آیت ۲۱۷ کے نزول سے جوڑتی ہے۔ وہ شوال ۳ ہجری، یعنی ۶۲۵ء کے غزوۂ احد میں قتل ہوئے اور ان کے جسم کے ساتھ مثلہ کیا گیا۔ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی نسبت متعدد مآخذ میں ہے، مگر دوسرے قدیم سلسلے ان کے سابق شوہروں کے نام مختلف بتاتے ہیں؛ اس لیے موجود ازدواجی نسبت متنازع درجے پر درست ہے۔
ولادت

پیدائش کا درست سال اور مقام معتبر مآخذ میں متعین نہیں۔ وہ مکہ کے اسدی حلیف خاندان میں پلے بڑھے اور احد میں ان کی عمر چالیس سے کچھ زیادہ بتائی گئی ہے، مگر قطعی سنِ پیدائش اخذ نہیں کیا گیا۔

وفات

وہ شوال ۳ ہجری، یعنی ۶۲۵ء میں غزوۂ احد کے دوران قتل ہوئے اور ان کے جسم کے ساتھ مثلہ کیا گیا۔ قاتل کے نام میں روایات کا اختلاف ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

ابن اسحاق نے ان کے خاندان سے نقل کیا کہ انہیں ان کے ماموں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا گیا۔ یہ قدیم مگر خاندانی روایت ہے؛ آج کوئی الگ قطعی شناخت شدہ قبر یا معتبر مخصوص نقشاتی نقطہ ثابت نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا پورا نسب عبد اللہ بن جحش بن رئاب بن یعمر بن صبرہ بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ ہے۔ ان کے والد جحش بن رئاب اور والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب تھیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں؛ یوں عبد اللہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کے بہن بھائیوں میں زینب بنت جحش، حمنہ، ابو احمد اور عبید اللہ شامل تھے۔

ابن سعد اور ابن عبدالبر کے مطابق عبد اللہ اور ان کے بھائی دار ارقم کے مرحلے سے پہلے اسلام لائے تھے۔ وہ دوسری ہجرت میں حبشہ گئے، پھر مکہ واپس آئے اور بعد میں مدینہ ہجرت کی۔ اس دوہری ہجرت نے انہیں ان ابتدائی صحابہ میں شامل کیا جنہوں نے مکی دباؤ، حبشہ کی پناہ اور مدنی جماعت کے قیام تینوں مراحل دیکھے۔ انہوں نے غزوۂ بدر میں بھی شرکت کی، جو ان کی بدری حیثیت کو مضبوط تاریخی بنیاد دیتی ہے۔

رجب ۲ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مختصر مہاجر دستے کا امیر بنا کر نخلہ کی طرف بھیجا اور ایک بند خط دیا جسے دو دن کے سفر کے بعد کھولنا تھا۔ خط میں قریش کی نقل و حرکت کی خبر لینے کا حکم تھا اور ساتھیوں کو مجبور نہ کرنے کی ہدایت تھی۔ وہاں قریشی قافلے سے جھڑپ ہوئی، عمرو بن حضرمی قتل ہوا اور دو افراد گرفتار ہوئے۔ چونکہ دن کے رجب میں ہونے یا نہ ہونے پر شبہ تھا، واقعہ نے حرمت والے مہینے میں قتال کا سنجیدہ سوال پیدا کیا؛ ابن اسحاق کی روایت اسے سورۂ بقرہ کی آیت ۲۱۷ کے پس منظر سے جوڑتی ہے۔

عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی ازدواجی نسبت میں احتیاط ضروری ہے۔ ابن عبدالبر، ذہبی، ابن حجر اور بعض دوسرے مآخذ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کو ان کی زوجہ کہتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ احد میں عبد اللہ کے قتل کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا۔ اس کے مقابل ابن اسحاق سے منقول ترتیب زینب کے سابق شوہروں میں جہْم یا طفیل اور عبیدہ بن حارث کے نام دیتی ہے۔ اس حقیقی ماخذی اختلاف کی وجہ سے محفوظ ازدواجی تعلق کو متنازع رکھنا درست ہے، نہ اسے قطعی مانا گیا اور نہ حذف کیا گیا۔

غزوۂ احد سے پہلے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی دعا کی روایت مشہور ہے۔ عبد اللہ نے دعا کی کہ وہ دشمن سے لڑتے ہوئے قتل ہوں اور ان کی ناک و کان کاٹے جائیں، پھر وہ اللہ کے حضور کہیں کہ یہ سب تیری اور تیرے رسول کی راہ میں ہوا۔ احد میں وہ واقعی قتل ہوئے اور ان کے جسم کے ساتھ مثلہ کیا گیا، اسی بنا پر بعد کی سوانح میں انہیں المجدع فی اللہ کہا گیا۔ قاتل کے نام اور بعض جنگی جزئیات میں اختلاف ہے، اس لیے صرف ثابت نتیجہ یعنی احد میں قتل اور مثلہ محفوظ کیا گیا ہے۔

ان کی وفات شوال ۳ ہجری، یعنی ۶۲۵ء کے غزوۂ احد میں ہوئی۔ ابن اسحاق نے ان کے خاندان سے یہ خبر نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے ماموں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا، اور ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ یہ خبر انہوں نے صرف اہل خاندان سے سنی تھی۔ اس لیے تدفین کو ایک قدیم خاندانی نسبت اور غالب امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے، الگ قطعی شناخت شدہ قبر یا نقشاتی مقام کے طور پر نہیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی زندگی ابتدائی اسلام کے کئی بنیادی مراحل کو ایک شخص میں جمع کرتی ہے: دار ارقم سے پہلے اسلام، حبشہ و مدینہ کی ہجرتیں، بدر میں شرکت اور احد میں وفات۔ ان کا خاندانی تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی قریب تھا، جبکہ ان کی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بعد میں ام المؤمنین بنیں۔

سریۂ نخلہ میں ان کی قیادت ابتدائی مدنی ریاست کی خفیہ اطلاع، فوجی نظم اور حرمت والے مہینے کے قانونی و اخلاقی سوال کو سمجھنے میں اہم ہے۔ اس واقعے کی روایت یہ بھی دکھاتی ہے کہ ابتدائی جنگی فیصلوں پر فوراً مذہبی و اخلاقی بحث ہوتی تھی، اور سیرت نے اسے قرآنی رہنمائی کے پس منظر میں محفوظ کیا۔

ان کا احد میں قتل، مثلہ اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تدفین کی خاندانی روایت اسلامی یاد میں قربانی کی نمایاں مثال ہے۔ ساتھ ہی زوجہ اور قبر سے متعلق اختلاف یہ سکھاتا ہے کہ احترام کے باوجود ہر روایت کو یکساں تاریخی یقین نہیں دیا جا سکتا؛ اسی لیے اس پروفائل نے ثابت حقیقت، متنازع نکاح اور محتمل تدفین کو الگ رکھا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | Vol. 3, p. 84, entry 39 | https://ftp.shamela.ws/book/146/894 | full lineage, kunya, mother Umayma bint Abd al-Muttalib, early conversion, Abyssinian migration, and Medinan migration
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 2, pp. 877-880, entry 1484 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/1520/ | identity, parents, migrations, Badr, Nakhla leadership traditions, Uhud prayer, mutilation, death, and burial report
Al-Sira al-Nabawiyya | Ibn Hisham transmitting Ibn Ishaq | Vol. 1, p. 602 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/58/694/ | sealed letter, command not to compel companions, Nakhla mission, and sacred-month context
Al-Sira al-Nabawiyya | Ibn Hisham transmitting Ibn Ishaq | Vol. 2, p. 97 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/58/977/ | early family report that Abd Allah was buried with Hamza and Ibn Ishaq's explicit source caution
Siyar A'lam al-Nubala | al-Dhahabi | Maghazi section, Uhud, pp. 408-409 in the accessed edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/6273/ | early conversion, Abyssinian migration, Badr participation, prayer before Uhud, and mutilation tradition
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | Vol. 8, p. 157, entry 11236, Zaynab bint Khuzayma | https://shamela.ws/book/9767/4070 | Abd Allah spouse report and alternative Tufayl-Ubayda husband sequence
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 4, p. 1853, entry 3359, Zaynab bint Khuzayma | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/3397/ | spouse report attributed to Ibn Shihab and competing Tufayl-Ubayda sequence

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔