خدیجہ بنت علیؑ

PER-000061 اہلِ بیت قوی امکان منسوب مقام امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
سیدہ خدیجہ بنت علی سلام اللہ علیہا امامی انسابی روایت میں امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی صاحبزادی کے طور پر محفوظ ہیں۔ شیخ مفید انہیں مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والی صاحبزادیوں میں شمار کرتے ہیں، مگر والدہ کا انفرادی نام نہیں بتاتے۔ قدیم انسابی مآخذ پہلے عبدالرحمن بن عقیل اور بعد میں ابو السنابل عبدالرحمن بن عبداللہ بن عامر بن کریز سے نکاح درج کرتے ہیں۔ ولادت، وفات، کربلا میں موجودگی اور تدفین کی صحیح تفصیلات یقینی طور پر ثابت نہیں۔
ولادت

ولادت کی تاریخ اور مقام یقینی طور پر محفوظ نہیں۔ کوئی متعین سال شامل نہیں کیا جاسکتا۔

وفات

دستیاب قدیم انسابی مآخذ میں وفات کی تاریخ، مقام اور حالات یقینی طور پر ثابت نہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

مسجدِ کوفہ معظمہ کے شمالی جانب باب الثعبان کے مقابل ایک معروف اور باقاعدہ زیارت گاہ سیدہ خدیجہ بنت امام علی سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے۔ مقامی مزاراتی تاریخ کے مطابق 1894ء میں اس چھوٹے قدیم مزار پر آٹھ پہلو گنبد بنایا گیا، 1996ء میں دوبارہ تعمیر ہوئی، 2008ء میں اسے مرکزی مزاراتی انتظامیہ میں شامل کیا گیا اور 2017ء سے 2019ء کے دوران وسیع جدید تعمیر نو شروع ہوئی؛ بعد میں حرم، صحن، ضریح اور انتظامی سہولتوں کو مزید ترقی دی گئی۔ تاہم ابتدائی نسبی اور تاریخی مآخذ اس مخصوص مقام کو ان کا قطعی مدفن ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے درست علمی تعبیر یہ ہے کہ یہ ان سے منسوب مزار ہے، ثابت شدہ قبر نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

سیدہ خدیجہ بنت علی سلام اللہ علیہا امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے وسیع علوی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ کتاب الارشاد میں شیخ مفید آپ کو امام علی علیہ السلام کی ان صاحبزادیوں میں نامزد کرتے ہیں جو مختلف ماؤں سے پیدا ہوئیں۔ عبارت آپ کی والدہ کی الگ تعیین نہیں کرتی، اس لیے بعد کے اندازوں سے کوئی نام شامل کرنے کے بجائے والدہ کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔ یہی قدیم فہرست اس پروفائل میں آپ کی شناخت کی مضبوط ترین بنیاد ہے۔

آپ کے بچپن، تعلیم، رہائش یا عوامی زندگی کے بارے میں مستقل معلومات بہت کم محفوظ ہیں۔ ولادت کی کوئی معتبر متعین تاریخ موجود نہیں، اور دستیاب قدیم انسابی ریکارڈ زندگی کا قابل اعتماد زمانی سلسلہ فراہم نہیں کرتا۔ آپ کو بعد کی دوسری خواتین خدیجہ بنت علی، خصوصاً علی بن الحسین کی نسل سے تعلق رکھنے والی ہم نام شخصیات، سے الگ رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ ان کے نکاح اور اولاد دوسری نسلوں سے متعلق ہیں۔

ابن حبیب کی کتاب المحبر عبدالرحمن بن عقیل سے سیدہ خدیجہ بنت علی سلام اللہ علیہا کا نکاح درج کرتی ہے۔ ابن ابی الدنیا بھی یہی نکاح محفوظ کرتے اور سعید و عقیل کو اولاد بتاتے ہیں۔ بعد کی انسابی کتاب لباب الانساب بھی عبدالرحمن بن عقیل سے تعلق کی تائید کرتی ہے، مگر اولاد میں حمیدہ کا نام لیتی ہے۔ اولاد کی فہرست کا اختلاف جوں کا توں محفوظ رکھا گیا ہے، جبکہ اصل نکاح مضبوط طور پر ثابت ہے۔

مآخذ مزید بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عقیل کے بعد آپ کا نکاح ابوالسنابل عبدالرحمن بن عبداللہ بن عامر بن کریز سے ہوا۔ ابن ابی الدنیا ان کا مکمل نام اور نسب محفوظ کرتے ہیں، جبکہ ابن حزم بنی عبد شمس کے نسب میں اس نکاح کی الگ تائید کرتے ہیں۔

بعد کے زیارتی اور مناقبی بیانات کبھی آپ کو کربلا، اسیری، کوفہ میں وفات یا کسی منسوب مزار سے جوڑتے ہیں۔ یہاں استعمال ہونے والے قدیم انسابی شواہد ان واقعات یا کسی مخصوص قبر کو یقینی طور پر ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے ذمہ دار تاریخی پروفائل آپ کی ثابت شدہ صاحبزادی ہونے اور نکاحی نسبتوں کو محفوظ کرتا، اولاد کے اختلاف کو واضح رکھتا، اور ولادت، وفات، کربلا میں موجودگی اور تدفین کو غیر متعین چھوڑتا ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

سیدہ خدیجہ بنت علی سلام اللہ علیہا کی تاریخی اہمیت اس لیے ہے کہ ان کا نام امام علی علیہ السلام کی کم معروف صاحبزادیوں میں ایک مستقل علوی شناخت محفوظ کرتا ہے۔ یہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اہل بیت کی خواتین کی تاریخ صرف مشہور شخصیات تک محدود نہیں اور وسیع خاندان کی تشکیل کے لیے انسابی مآخذ کا محتاط تقابل ضروری ہے۔

آپ کے دو منقول نکاح ابو طالب کی نسل اور دوسرے قریشی گھرانوں کے خاندانی و معاشرتی روابط بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اولاد کی مختلف فہرستیں بتاتی ہیں کہ رشتوں کے معلوماتی اندراجات میں مضبوط ثبوت، مختلف روایت اور نامعلوم امر کو الگ رکھنا کیوں ضروری ہے۔

آپ کی میراث کا صحیح تحفظ علمی احتیاط میں ہے: شناخت اور مضبوط نکاحی رشتے محفوظ کیے جائیں، مگر والدہ، تاریخیں، کربلا کے واقعات یا قبر ایجاد نہ کیے جائیں۔ اس طریقے سے اہل بیت کی ایک کم معروف خاتون کو بعد کی زیارتی نسبتوں کو قدیم حقیقت بنائے بغیر معتبر تاریخی مقام ملتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Volume 1, pages 354-355 | https://lib.eshia.ir/27035/1/354 | identity as a daughter of Imam Ali and mother left individually unnamed among different mothers
Al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib al-Baghdadi | Page 57 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/12205/57 | marriage to Abd al-Rahman ibn Aqil and later marriage to Abu al-Sanabil
Maqtal Amir al-Mu'minin Ali ibn Abi Talib | Ibn Abi al-Dunya | Report 137, page 107 in the displayed edition | https://islamport.com/l/don/2242/138.htm | Abd al-Rahman ibn Aqil marriage, Sa'id and Aqil attribution, and later Abu al-Sanabil marriage
Lubab al-Ansab wa al-Alqab wa al-A'qab | Al-Bayhaqi | Genealogical entry; pagination varies by edition | https://islamport.com/l/nsb/5113/19.htm | marriage to Abd al-Rahman ibn Aqil, Hamida attribution, and later marriage
Jamharat Ansab al-Arab | Ibn Hazm | Volume 1, page 75 | https://lib.eshia.ir/40506/1/75 | full identification of Abu al-Sanabil Abd al-Rahman ibn Abd Allah ibn Amir ibn Kurayz as her husband
Al-Majdi fi Ansab al-Talibiyyin | Ali ibn Muhammad al-Alawi al-Umari | Volume 1, page 18 | https://lib.eshia.ir/15100/1/18/%D8%AE%D8%AF%D9%8A%D8%AC%D8%A9 | independent Alid genealogical notice connecting Khadija bint Ali with the Ibn Kurayz family
Kufa Mosque Secretariat official website | 5 March 2018 | https://masjed-alkufa.com/index.php/permalink/4296.html | confirms the administered shrine and construction of its administrative wing
Iraqi Network Magazine | 6 October 2021 | https://magazine.imn.iq/mnwah/4057-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%8A%D8%AF%D8%A9-%D8%AE%D8%AF%D9%8A%D8%AC%D8%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B9%D9%84%D9%8A%D8%B9-%D8%B4%D9%87%D9%8A%D8%AF%D8%A9%D9%8F.html | local shrine history, including the 1894 dome, 1996 rebuilding, 2008 administrative incorporation, and 2017–2019 reconstruction; devotional biography claims are treated as local tradition
Iraqi Network Magazine | 1 July 2026 | https://magazine.imn.iq/mnwah/9566-%D9%85%D8%B1%D9%82%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%8A%D8%AF%D8%A9-%D8%AE%D8%AF%D9%8A%D8%AC%D8%A9-%D9%81%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D9%83%D9%88%D9%81%D8%A9-%D8%B4%D8%A7%D9%87%D8%AF-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%D9%8A-%D9%88%D9%85%D8%A3%D8%B3%D8%A7%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%A7%D8%A6%D9%84%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%8A%D8%A9.html | current location beside the northern side of the Great Mosque of Kufa and details of the expanded modern complex

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔