مدینہ میں ۶۱ھ سے پہلے ولادت ہوئی؛ درست سال اور کربلا کے وقت عمر معتبر طور پر ثابت نہیں۔
سکینہ بنت حسینؑ
PER-000087
اہلِ بیت
قوی امکان
مشترک قبرستانی نقطہ
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
سکینہ بنت حسین علیہا السلام امام حسین ابن علی علیہ السلام اور رباب بنت امرؤ القیس کی بیٹی تھیں، اور سیدہ فاطمہ زہرا علیہا السلام و امام علی علیہ السلام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت میں شامل تھیں۔ قدیم امامی اور سنی سوانحی ماخذ ان کے والدین پر متفق ہیں، جبکہ بعد کی کتابیں ذاتی نام کے مختلف اقوال نقل کرتی ہیں اور عموماً سکینہ کو وہ نام یا لقب مانتی ہیں جس سے وہ مشہور ہوئیں۔ انہوں نے ۶۱ ہجری کے سانحۂ کربلا کے بعد زندگی پائی اور اس زندہ بچ جانے والے گھرانے کا حصہ رہیں جس کی مدینہ واپسی نے واقعے کی یاد آئندہ نسلوں تک پہنچائی۔ ان کے متعدد نکاح نسبی اور سوانحی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں، مگر صحیح ترتیب، بعض مجوزہ نکاحوں کی نوعیت اور اولاد کی نسبت پر ماخذ یکساں نہیں۔ ان کی وفات زیادہ مشہور قول کے مطابق مدینہ میں ۱۱۷ ہجری، مطابق ۷۳۵ عیسوی، ہوئی اور بقیع میں تدفین غالب گمان ہے، اگرچہ قبر کی قطعی شناخت محفوظ نہیں۔
زیادہ تر سوانحی مآخذ وفات مدینہ میں ربیع الاول ۱۱۷ھ، مطابق ۷۳۵ء، بتاتے ہیں؛ درست دن قطعی طور پر ثابت نہیں۔
مدینہ کے جنت البقیع میں تدفین غالب ہے۔ ابن سعد کی روایت جنازے کی تیاری بقیع میں رکھتی اور شیبہ بن نصاح کی امامت بیان کرتی ہے، لیکن قطعی قبر محفوظ نہیں۔ مدینہ سے باہر بعد کی قبر منسوبات کو ثابت شدہ نہیں مانا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
سکینہ بنت حسین سلام اللہ علیہا اہلِ بیت کے مرکزی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ شیخ مفید نے «الارشاد» میں انہیں امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں شمار کیا اور ان کی والدہ رباب بنت امرؤ القیس کو بتایا، جو کم سن عبداللہ بن حسین کی بھی والدہ تھیں۔ ابن سعد بھی یہی مادری نسبت نقل کرتے ہیں۔ بعد کے سوانحی مآخذ میں ان کا ذاتی نام آمنہ، امینہ یا امیمہ بتایا گیا اور سکینہ کو وہ نام یا لقب قرار دیا گیا جس سے وہ مشہور ہوئیں؛ چونکہ قدیم ترین اشارات میں یہ اقوال یکساں نہیں، اس لیے انہیں قطعی شناختی حقیقت کے بجائے منقول متبادل ناموں کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔
ان کا درست سالِ ولادت ثابت نہیں۔ وہ واقعۂ کربلا سے پہلے پیدا ہوئیں اور مدینہ میں امام حسین علیہ السلام اور رباب کے گھرانے میں پرورش پائی۔ بعض جدید اور متأخر روایات ۶۱ھ میں ان کی متعین عمر بیان کرتی ہیں، لیکن دستیاب ابتدائی اشارات کوئی مستحکم عدد نہیں دیتے۔ اس لیے زیادہ محفوظ تعبیر یہ ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی وہ صاحبزادی تھیں جو سانحے کے وقت خاندانی قافلے میں موجود تھیں، مگر بعد کی عمر بندی کو قطعی تاریخ نہ بنایا جائے۔
سکینہ سلام اللہ علیہا کی تاریخی اور مذہبی یاد کربلا سے جدا نہیں۔ بعد کے تواریخی اور امامی سوانحی مآخذ انہیں واقعۂ طف کے دوران امام حسین علیہ السلام کے گھرانے کی خواتین اور دیگر بازماندگان کے ساتھ رکھتے ہیں، اور پھر کوفہ و شام کے سفر کے بعد مدینہ واپسی کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کا زندہ بچنا اور خاندان کے ساتھ واپس آنا کربلا کی مستحکم یاد کا حصہ ہے، لیکن بہت سے تفصیلی خطبات، خواب، آغوش میں لینے اور ڈرامائی مناظر متأخر مقتل و مناقبی ادب میں ملتے ہیں۔ اس فائل میں بنیادی حقیقت برقرار ہے، جبکہ ہر تفصیلی روایت کو اس کے اپنے ماخذی وزن کے مطابق دیکھا گیا ہے۔
کربلا کے بعد انہوں نے زیادہ تر مدینہ کے اہلِ بیت کے علمی و خاندانی حلقے میں زندگی گزاری۔ ابن حبان لکھتے ہیں کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے روایت کرتی تھیں اور اہلِ کوفہ نے ان سے نقل کیا، جبکہ ذہبی بھی ان کی اپنے والد سے محدود روایت کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نام سے منسوب محفوظ حدیثی مواد کم ہے اور ہر انفرادی سند الگ نقد کا محتاج ہے؛ تاہم سوانحی ریکارڈ انہیں صرف سوگوار خانوادے کی رکن نہیں، بلکہ خاندانی یاد اور روایات کی ایک منتقل کنندہ خاتون کے طور پر بھی محفوظ کرتا ہے۔
ان کی ازدواجی تاریخ کو کلی قبول یا کلی رد کے بجائے درجہ وار اعتماد کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ابن عساکر نے زبیری اور ابن سعد سے نقل کرتے ہوئے عبداللہ بن حسن سے ابتدائی نکاح یا نسبت بیان کی ہے، جو کربلا میں رخصتی سے پہلے شہید ہوئے، پھر مصعب بن زبیر، عبداللہ بن عثمان حزامی، زید بن عمرو بن عثمان اور بعض دیگر مجوزہ نکاح ذکر کیے ہیں۔ ابن سعد نے مستقل طور پر مصعب، عبداللہ بن عثمان، زید، ابراہیم بن عبدالرحمن اور اصبغ سے متعلق ایک روایت نقل کی، جبکہ ابن خلکان نے ترتیب کچھ مختلف دی۔ بعد کی امامی کتاب اعیان الشیعہ بھی اس پورے سلسلے کو محض رد نہیں کرتی بلکہ متعدد روایات اور ان کے اختلافات محفوظ کرتی ہے۔ لہٰذا متعدد نکاح وسیع طور پر منقول ہیں، مگر صحیح ترتیب، بعض نکاحوں کے وقوعِ کامل اور مخصوص اولاد کی نسبت میں ہر ماخذ کو الگ احتیاط سے پرکھنا ضروری ہے۔
ان کی بعد از وفات شہرت کی دوسری بڑی تہ ادبی کتابوں سے بنی۔ «وفیات الاعیان»، «سیر اعلام النبلاء» اور «الاغانی» جیسی کتابیں انہیں فصیح، باوقار، سخی اور شعر کی پہچان رکھنے والی خاتون کے طور پر پیش کرتی اور شاعروں کے ان کے فیصلے یا عطا کے طالب ہونے کی حکایات نقل کرتی ہیں۔ ان روایات نے عربی ادبی حافظے پر گہرا اثر ڈالا، مگر وہ بنیادی نسبی اشارات سے متأخر ہیں اور سب کا تاریخی وزن یکساں نہیں۔ یہاں نہ ہر حکایت کو بلا نقد قبول کیا گیا ہے اور نہ پورے ادبی ذخیرے کو فرقہ وارانہ بنیاد پر رد کیا گیا؛ بلکہ قدیم شناختی معلومات اور بعد کے ادبی بیانیے میں واضح فرق رکھا گیا ہے۔
ان کی وفات کا سب سے مشہور سال ۱۱۷ھ، مطابق ۷۳۵ء، اور مقام مدینہ ہے۔ ابن حبان واضح طور پر مدینہ اور ۱۱۷ھ لکھتے ہیں، جبکہ ابن سعد کی جنازے کی روایت میں والی کی تاخیر، بقیع میں تیاری اور شیبہ بن نصاح کی امامت کا ذکر ہے۔ اس بنا پر جنت البقیع میں تدفین غالب ہے، مگر قابلِ شناخت قبر محفوظ نہیں۔ دوسرے شہروں سے منسوب بعد کی قبروں کو اس لیے ثابت شدہ مدفن نہیں مانا گیا۔ ان کی دائمی تاریخی شناخت اہلِ بیت سے نسب، کربلا سے بقا، خاندانی یاد کی منتقلی اور متنوع مگر تنقیدی جانچ کے محتاج سوانحی و ادبی ذخیرے پر قائم ہے۔
ان کا درست سالِ ولادت ثابت نہیں۔ وہ واقعۂ کربلا سے پہلے پیدا ہوئیں اور مدینہ میں امام حسین علیہ السلام اور رباب کے گھرانے میں پرورش پائی۔ بعض جدید اور متأخر روایات ۶۱ھ میں ان کی متعین عمر بیان کرتی ہیں، لیکن دستیاب ابتدائی اشارات کوئی مستحکم عدد نہیں دیتے۔ اس لیے زیادہ محفوظ تعبیر یہ ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی وہ صاحبزادی تھیں جو سانحے کے وقت خاندانی قافلے میں موجود تھیں، مگر بعد کی عمر بندی کو قطعی تاریخ نہ بنایا جائے۔
سکینہ سلام اللہ علیہا کی تاریخی اور مذہبی یاد کربلا سے جدا نہیں۔ بعد کے تواریخی اور امامی سوانحی مآخذ انہیں واقعۂ طف کے دوران امام حسین علیہ السلام کے گھرانے کی خواتین اور دیگر بازماندگان کے ساتھ رکھتے ہیں، اور پھر کوفہ و شام کے سفر کے بعد مدینہ واپسی کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کا زندہ بچنا اور خاندان کے ساتھ واپس آنا کربلا کی مستحکم یاد کا حصہ ہے، لیکن بہت سے تفصیلی خطبات، خواب، آغوش میں لینے اور ڈرامائی مناظر متأخر مقتل و مناقبی ادب میں ملتے ہیں۔ اس فائل میں بنیادی حقیقت برقرار ہے، جبکہ ہر تفصیلی روایت کو اس کے اپنے ماخذی وزن کے مطابق دیکھا گیا ہے۔
کربلا کے بعد انہوں نے زیادہ تر مدینہ کے اہلِ بیت کے علمی و خاندانی حلقے میں زندگی گزاری۔ ابن حبان لکھتے ہیں کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے روایت کرتی تھیں اور اہلِ کوفہ نے ان سے نقل کیا، جبکہ ذہبی بھی ان کی اپنے والد سے محدود روایت کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نام سے منسوب محفوظ حدیثی مواد کم ہے اور ہر انفرادی سند الگ نقد کا محتاج ہے؛ تاہم سوانحی ریکارڈ انہیں صرف سوگوار خانوادے کی رکن نہیں، بلکہ خاندانی یاد اور روایات کی ایک منتقل کنندہ خاتون کے طور پر بھی محفوظ کرتا ہے۔
ان کی ازدواجی تاریخ کو کلی قبول یا کلی رد کے بجائے درجہ وار اعتماد کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ابن عساکر نے زبیری اور ابن سعد سے نقل کرتے ہوئے عبداللہ بن حسن سے ابتدائی نکاح یا نسبت بیان کی ہے، جو کربلا میں رخصتی سے پہلے شہید ہوئے، پھر مصعب بن زبیر، عبداللہ بن عثمان حزامی، زید بن عمرو بن عثمان اور بعض دیگر مجوزہ نکاح ذکر کیے ہیں۔ ابن سعد نے مستقل طور پر مصعب، عبداللہ بن عثمان، زید، ابراہیم بن عبدالرحمن اور اصبغ سے متعلق ایک روایت نقل کی، جبکہ ابن خلکان نے ترتیب کچھ مختلف دی۔ بعد کی امامی کتاب اعیان الشیعہ بھی اس پورے سلسلے کو محض رد نہیں کرتی بلکہ متعدد روایات اور ان کے اختلافات محفوظ کرتی ہے۔ لہٰذا متعدد نکاح وسیع طور پر منقول ہیں، مگر صحیح ترتیب، بعض نکاحوں کے وقوعِ کامل اور مخصوص اولاد کی نسبت میں ہر ماخذ کو الگ احتیاط سے پرکھنا ضروری ہے۔
ان کی بعد از وفات شہرت کی دوسری بڑی تہ ادبی کتابوں سے بنی۔ «وفیات الاعیان»، «سیر اعلام النبلاء» اور «الاغانی» جیسی کتابیں انہیں فصیح، باوقار، سخی اور شعر کی پہچان رکھنے والی خاتون کے طور پر پیش کرتی اور شاعروں کے ان کے فیصلے یا عطا کے طالب ہونے کی حکایات نقل کرتی ہیں۔ ان روایات نے عربی ادبی حافظے پر گہرا اثر ڈالا، مگر وہ بنیادی نسبی اشارات سے متأخر ہیں اور سب کا تاریخی وزن یکساں نہیں۔ یہاں نہ ہر حکایت کو بلا نقد قبول کیا گیا ہے اور نہ پورے ادبی ذخیرے کو فرقہ وارانہ بنیاد پر رد کیا گیا؛ بلکہ قدیم شناختی معلومات اور بعد کے ادبی بیانیے میں واضح فرق رکھا گیا ہے۔
ان کی وفات کا سب سے مشہور سال ۱۱۷ھ، مطابق ۷۳۵ء، اور مقام مدینہ ہے۔ ابن حبان واضح طور پر مدینہ اور ۱۱۷ھ لکھتے ہیں، جبکہ ابن سعد کی جنازے کی روایت میں والی کی تاخیر، بقیع میں تیاری اور شیبہ بن نصاح کی امامت کا ذکر ہے۔ اس بنا پر جنت البقیع میں تدفین غالب ہے، مگر قابلِ شناخت قبر محفوظ نہیں۔ دوسرے شہروں سے منسوب بعد کی قبروں کو اس لیے ثابت شدہ مدفن نہیں مانا گیا۔ ان کی دائمی تاریخی شناخت اہلِ بیت سے نسب، کربلا سے بقا، خاندانی یاد کی منتقلی اور متنوع مگر تنقیدی جانچ کے محتاج سوانحی و ادبی ذخیرے پر قائم ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
سکینہ سلام اللہ علیہا کی پہلی اہمیت امام حسین علیہ السلام کے گھرانے اور کربلا سے زندہ بچنے والی نسل میں ان کے براہِ راست مقام کی وجہ سے ہے۔ ان کی زندگی ۶۱ھ سے پہلے کے نبوی خانوادے کو سانحے کے بعد مدینہ میں اس کی یاد کے تحفظ سے جوڑتی ہے۔ اگرچہ بعد کی جزئی روایات مختلف ہیں، ان کا نام ان نسائی شخصیات میں شامل ہوگیا جن کے ذریعے سوگ، خاندانی حافظہ اور کربلا کا اخلاقی پیغام منتقل ہوا۔
ابتدائی اسلامی حافظے میں خواتین کی تاریخ کے لیے بھی وہ اہم ہیں۔ سوانحی کتابیں انہیں اپنے گھرانے سے روایت کرنے والی خاتون کے طور پر یاد کرتی ہیں، جبکہ ادبی مجموعے ان کی شخصیت، رائے، سخاوت اور شائستہ گفتگو کا تصور پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں یادوں کو بلا تنقید ایک تصویر میں ضم نہیں کرنا چاہیے، لیکن مل کر وہ دکھاتی ہیں کہ اہلِ بیت کی ایک خاتون نسب، حدیث، مناقب اور ادب کی مختلف روایتوں میں نمایاں رہ سکتی تھیں۔
آخر میں ان کا پروفائل ماخذوں کو منضبط طور پر الگ رکھنے کی ایک اہم مثال ہے۔ والدین اور وفات کا مشہور قول نسبتاً مضبوط ہیں، جبکہ درست تاریخِ ولادت، نکاحوں کی ترتیب، اولاد، ادبی مجالس اور کربلا کی انفرادی ڈرامائی روایات کے لیے درجہ وار اعتماد ضروری ہے۔ ایک محتاط ریکارڈ مشترک حقائق محفوظ کرتا، ہر مختلف فیہ تفصیل کے ماخذی دائرے کو واضح کرتا اور نکاح یا ادبی زندگی کی کسی ایک تشکیل کو بلا سوال قطعی تاریخ نہیں بناتا۔
ابتدائی اسلامی حافظے میں خواتین کی تاریخ کے لیے بھی وہ اہم ہیں۔ سوانحی کتابیں انہیں اپنے گھرانے سے روایت کرنے والی خاتون کے طور پر یاد کرتی ہیں، جبکہ ادبی مجموعے ان کی شخصیت، رائے، سخاوت اور شائستہ گفتگو کا تصور پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں یادوں کو بلا تنقید ایک تصویر میں ضم نہیں کرنا چاہیے، لیکن مل کر وہ دکھاتی ہیں کہ اہلِ بیت کی ایک خاتون نسب، حدیث، مناقب اور ادب کی مختلف روایتوں میں نمایاں رہ سکتی تھیں۔
آخر میں ان کا پروفائل ماخذوں کو منضبط طور پر الگ رکھنے کی ایک اہم مثال ہے۔ والدین اور وفات کا مشہور قول نسبتاً مضبوط ہیں، جبکہ درست تاریخِ ولادت، نکاحوں کی ترتیب، اولاد، ادبی مجالس اور کربلا کی انفرادی ڈرامائی روایات کے لیے درجہ وار اعتماد ضروری ہے۔ ایک محتاط ریکارڈ مشترک حقائق محفوظ کرتا، ہر مختلف فیہ تفصیل کے ماخذی دائرے کو واضح کرتا اور نکاح یا ادبی زندگی کی کسی ایک تشکیل کو بلا سوال قطعی تاریخ نہیں بناتا۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام حسین ابن علیؑ
قوی امکان
والدہ
رباب بنت امرؤ القیس
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Kitab al-Irshad fi Ma'rifat Hujaj Allah ala al-Ibad | Shaykh al-Mufid | Vol. 2, p. 135 | https://books.rafed.net/view/429/page/135 | directly lists Sukayna among Imam Husayn's children and identifies al-Rabab bint Imru al-Qays as her motherAl-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Vol. 8, p. 475 | https://shamela.ws/book/9351/3853 | parentage, later marriage sequence, children attributed in this tradition, funeral proceedings at al-Baqi
Tarikh Madinat Dimashq | Ibn Asakir | Vol. 69, p. 205 | https://ftp.shamela.ws/book/71/31382 | reported personal-name variants, transmission from her father, and the al-Zubayri/Ibn Sa'd marriage dossier
Al-Thiqat | Ibn Hibban | Vol. 4, entry on Sukayna bint al-Husayn | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1079/3521/%D8%B3%D9%83%D9%8A%D9%86%D8%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86 | death in Medina in 117 AH and transmission from her household
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 5, p. 263 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/828/%D8%B3%D9%83%D9%8A%D9%86%D8%A9 | later Sunni biographical summary, limited transmission, marriage and literary-memory reports, death in 117 AH
Wafayat al-A'yan | Ibn Khallikan | Vol. 2, p. 394 | https://shamela.ws/book/1000/866 | influential later biographical and adab portrait; used with caution for literary-memory claims
A'yan al-Shi'a | Sayyid Muhsin al-Amin | Vol. 3, p. 492 | https://lib.eshia.ir/71735/3/492 | Imami compilation preserving parentage, multiple marriage reports and their variants, Medina burial preference, and rejection of external grave attributions
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔