صحیح تاریخِ ولادت معلوم نہیں۔ ایک روایت کے مطابق ۵ یا ۶ ہجری میں نکاح کے وقت عمر بیس برس تھی، جو صرف ساتویں صدی عیسوی کے اوائل کا تقریبی اندازہ دیتی ہے۔
جویریہ بنت حارثؓ
PER-000169
اہلِ بیت
مصدقہ
مشترک قبرستانی نقطہ
مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور بنو مصطلقِ خزاعہ کے سردار حارث بن ابی ضرار کی صاحبزادی تھیں۔ غزوۂ مریسیع کے بعد، جسے قدیم مآخذ ۵ یا ۶ ہجری میں رکھتے ہیں، انہوں نے آزادی کے لیے مکاتبت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگی، نکاح کی پیشکش قبول کی اور ان کی نسبت سے ان کی قوم کے ایک سو گھرانے آزاد ہوئے۔ انہوں نے ذکر و عبادت سے متعلق احادیث روایت کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ میں رہیں، اور مختلف روایتوں کے مطابق ۵۰ یا ۵۶ ہجری میں وفات کے بعد جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
مدینہ میں وفات ہوئی؛ روایتیں ۵۰ ہجری یا ربیع الاول ۵۶ ہجری بیان کرتی ہیں۔ مروان بن حکم کے نمازِ جنازہ پڑھانے کی روایت ہے، جبکہ صحیح عمر غیر یقینی ہے۔
مدینہ کے جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ اس انتظامی فائل میں کوئی بنیادی مزار یا نقشاتی ربط موجود نہیں، اور یہ اختیاری ربط نہ ہونا تاریخی تدفینی روایت کے خلاف دلیل نہیں ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
آپ کا نام جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار مصطلقیہ خزاعیہ تھا۔ آپ کے والد بنو مصطلق کے سردار تھے، جو خزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ ابن حجر اور دوسرے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ پہلے آپ کا نام برّہ تھا، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رکھا۔ سنِ ولادت یقینی طور پر معلوم نہیں۔ ابن سعد نے ایک روایت محفوظ کی ہے کہ نکاح کے وقت آپ کی عمر بیس برس تھی، لیکن عمر اور وفات سے متعلق بعد کی روایتیں مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں، اس لیے اسے قطعی پیدائشی ریکارڈ کے بجائے منقول تخمینہ سمجھنا چاہیے۔
بنو مصطلق کے خلاف مریسیع کے مقام پر ہونے والی مہم میں آپ کی زندگی نے نیا رخ اختیار کیا؛ ابتدائی مآخذ اسے ۵ یا ۶ ہجری میں رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے آپ کا نکاح اپنی قوم میں ہوا تھا۔ سابق شوہر کے نام میں مآخذ مسافع بن صفوان اور صفوان بن مالک جیسی مختلف صورتیں بیان کرتے ہیں، اور وہ اسی مہم کے آس پاس وفات پا گئے۔ بنو مصطلق کی شکست کے بعد جویریہ رضی اللہ عنہا قیدیوں میں تھیں اور ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے کسی رشتہ دار کے حصے میں آئیں۔ انہوں نے اپنی آزادی کے لیے رقم ادا کرنے کا معاہدۂ مکاتبت کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول بیان کے مطابق جویریہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اپنے آپ کو اپنی قوم کے سردار کی بیٹی بتایا اور مکاتبت کی رقم میں مدد مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم ادا کرکے ان سے نکاح کی پیشکش کی، جسے انہوں نے قبول کیا۔ روایت ان کی براہِ راست درخواست اور رضامندی محفوظ کرتی ہے؛ اس میں غیر منقول مکالمہ یا نیت شامل نہیں کرنی چاہیے۔ نکاح کے ذریعے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں داخل ہوئیں اور قرآن کے مطابق ام المؤمنین کا عوامی مقام پایا۔
اس نکاح کا فوری اجتماعی اثر ہوا۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ بنو مصطلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار بن گئے ہیں تو انہوں نے اپنے قبضے میں موجود قیدی آزاد کردیے۔ سنن ابی داؤد اور سوانحی روایت ایک سو گھرانوں کی آزادی کا عدد محفوظ کرتی ہیں۔ اسی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جویریہ رضی اللہ عنہا کو اپنی قوم کے لیے غیر معمولی برکت والی خاتون قرار دیا۔ مآخذ اس آزادی کے اثر کو ثابت کرتے ہیں، لیکن یہ دعویٰ کہ پوری قوم نے فوراً اسلام قبول کرلیا، الگ شہادت کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
مدینہ میں وہ اس نبوی گھرانے کا حصہ بنیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بعد کی نسلوں تک پہنچائیں۔ امام ذہبی کی سوانحی تحریر ان سے منسوب سات احادیث شمار کرتی اور ابن عباس، کریب، مجاہد اور دوسرے راویوں کا نام لیتی ہے۔ تعداد کم ہونے کے باوجود ان روایتوں کا اثر نمایاں ہے، کیونکہ ان میں سے بعض عبادت اور عملی فقہی رہنمائی میں بہت مشہور ہوئیں۔ ان کا مقام بنو مصطلق اور نبوی گھرانے کے درمیان جنگ کے بعد بھی ایک ذاتی و سماجی ربط محفوظ کرتا ہے۔
ان کی سب سے معروف روایت ذکرِ الٰہی سے متعلق ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے بعد ان کے پاس سے نکلے، جبکہ وہ ذکر میں مشغول رہیں، اور بعد میں دن چڑھے واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا مختصر ذکر سکھایا جس میں اللہ کی تسبیح مخلوق کی تعداد، رضائے الٰہی، عرش کے وزن اور کلماتِ الٰہی کی وسعت کے مطابق بیان ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں وہ جمعہ کے دن روزے سے تھیں اور انہیں اس دن کو اکیلا مخصوص نہ کرنے کی ہدایت دی گئی، جب اسے جمعرات یا ہفتے کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ یہ روایتیں عبادت اور عملی حکم دونوں کی ترسیل میں ان کی موجودگی دکھاتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ مدینہ میں رہیں۔ ان کی وفات کی روایتیں مختلف ہیں: ابن سعد اور بعض بعد کے سوانح نگار ۵۰ ہجری بیان کرتے ہیں، جبکہ دوسری منقول تاریخ ربیع الاول ۵۶ ہجری بتاتی ہے۔ دونوں روایتیں وفات کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں رکھتی اور بیان کرتی ہیں کہ مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ان تاریخوں کے ساتھ بیان ہونے والی عمریں مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں، اس لیے کسی ایک قطعی عمر پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔
جویریہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ کے جنت البقیع میں نبوی گھرانے کے دوسرے افراد کے ساتھ دفن کیا گیا۔ ان کی دائمی تاریخی یاد تین مضبوط طور پر منقول پہلوؤں پر قائم ہے: ام المؤمنین کی حیثیت، ان کے نکاح کے بعد بنو مصطلق کے قیدیوں کی آزادی، اور عبادت و عملی دینی رہنمائی کی روایت میں ان کی شرکت۔ ان کی سوانح یہ سبق بھی دیتی ہے کہ مریسیع کے سال، سابق شوہر کے نام، عمر اور سالِ وفات کی مختلف روایتوں کو چھپانے کے بجائے دیانت سے محفوظ رکھا جائے۔
بنو مصطلق کے خلاف مریسیع کے مقام پر ہونے والی مہم میں آپ کی زندگی نے نیا رخ اختیار کیا؛ ابتدائی مآخذ اسے ۵ یا ۶ ہجری میں رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے آپ کا نکاح اپنی قوم میں ہوا تھا۔ سابق شوہر کے نام میں مآخذ مسافع بن صفوان اور صفوان بن مالک جیسی مختلف صورتیں بیان کرتے ہیں، اور وہ اسی مہم کے آس پاس وفات پا گئے۔ بنو مصطلق کی شکست کے بعد جویریہ رضی اللہ عنہا قیدیوں میں تھیں اور ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے کسی رشتہ دار کے حصے میں آئیں۔ انہوں نے اپنی آزادی کے لیے رقم ادا کرنے کا معاہدۂ مکاتبت کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول بیان کے مطابق جویریہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اپنے آپ کو اپنی قوم کے سردار کی بیٹی بتایا اور مکاتبت کی رقم میں مدد مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم ادا کرکے ان سے نکاح کی پیشکش کی، جسے انہوں نے قبول کیا۔ روایت ان کی براہِ راست درخواست اور رضامندی محفوظ کرتی ہے؛ اس میں غیر منقول مکالمہ یا نیت شامل نہیں کرنی چاہیے۔ نکاح کے ذریعے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں داخل ہوئیں اور قرآن کے مطابق ام المؤمنین کا عوامی مقام پایا۔
اس نکاح کا فوری اجتماعی اثر ہوا۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ بنو مصطلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار بن گئے ہیں تو انہوں نے اپنے قبضے میں موجود قیدی آزاد کردیے۔ سنن ابی داؤد اور سوانحی روایت ایک سو گھرانوں کی آزادی کا عدد محفوظ کرتی ہیں۔ اسی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جویریہ رضی اللہ عنہا کو اپنی قوم کے لیے غیر معمولی برکت والی خاتون قرار دیا۔ مآخذ اس آزادی کے اثر کو ثابت کرتے ہیں، لیکن یہ دعویٰ کہ پوری قوم نے فوراً اسلام قبول کرلیا، الگ شہادت کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
مدینہ میں وہ اس نبوی گھرانے کا حصہ بنیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بعد کی نسلوں تک پہنچائیں۔ امام ذہبی کی سوانحی تحریر ان سے منسوب سات احادیث شمار کرتی اور ابن عباس، کریب، مجاہد اور دوسرے راویوں کا نام لیتی ہے۔ تعداد کم ہونے کے باوجود ان روایتوں کا اثر نمایاں ہے، کیونکہ ان میں سے بعض عبادت اور عملی فقہی رہنمائی میں بہت مشہور ہوئیں۔ ان کا مقام بنو مصطلق اور نبوی گھرانے کے درمیان جنگ کے بعد بھی ایک ذاتی و سماجی ربط محفوظ کرتا ہے۔
ان کی سب سے معروف روایت ذکرِ الٰہی سے متعلق ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے بعد ان کے پاس سے نکلے، جبکہ وہ ذکر میں مشغول رہیں، اور بعد میں دن چڑھے واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا مختصر ذکر سکھایا جس میں اللہ کی تسبیح مخلوق کی تعداد، رضائے الٰہی، عرش کے وزن اور کلماتِ الٰہی کی وسعت کے مطابق بیان ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں وہ جمعہ کے دن روزے سے تھیں اور انہیں اس دن کو اکیلا مخصوص نہ کرنے کی ہدایت دی گئی، جب اسے جمعرات یا ہفتے کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ یہ روایتیں عبادت اور عملی حکم دونوں کی ترسیل میں ان کی موجودگی دکھاتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ مدینہ میں رہیں۔ ان کی وفات کی روایتیں مختلف ہیں: ابن سعد اور بعض بعد کے سوانح نگار ۵۰ ہجری بیان کرتے ہیں، جبکہ دوسری منقول تاریخ ربیع الاول ۵۶ ہجری بتاتی ہے۔ دونوں روایتیں وفات کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں رکھتی اور بیان کرتی ہیں کہ مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ان تاریخوں کے ساتھ بیان ہونے والی عمریں مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں، اس لیے کسی ایک قطعی عمر پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔
جویریہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ کے جنت البقیع میں نبوی گھرانے کے دوسرے افراد کے ساتھ دفن کیا گیا۔ ان کی دائمی تاریخی یاد تین مضبوط طور پر منقول پہلوؤں پر قائم ہے: ام المؤمنین کی حیثیت، ان کے نکاح کے بعد بنو مصطلق کے قیدیوں کی آزادی، اور عبادت و عملی دینی رہنمائی کی روایت میں ان کی شرکت۔ ان کی سوانح یہ سبق بھی دیتی ہے کہ مریسیع کے سال، سابق شوہر کے نام، عمر اور سالِ وفات کی مختلف روایتوں کو چھپانے کے بجائے دیانت سے محفوظ رکھا جائے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
جویریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تاریخی طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس نے جنگ کے بعد کی صورت حال کو بڑے پیمانے کی آزادی میں بدل دیا۔ بنو مصطلق کے ایک سو گھرانوں کی رہائی سوانحی ادب کی نمایاں مثال ہے کہ ایک نکاح نے نبوی جماعت اور حالیہ شکست خوردہ قبیلے کے درمیان نیا سماجی تعلق پیدا کیا۔
ان سے منقول احادیث نے عبادت اور فقہ میں انہیں مستقل مقام دیا۔ صحیح مسلم کا صبح کا ذکر آج بھی وسیع پیمانے پر پڑھا جاتا ہے، جبکہ صحیح بخاری کی جمعہ کے روزے والی روایت نفلی روزے کے فقہی مباحث میں حصہ رکھتی ہے۔ اس طرح ان کا اثر ان کے نکاح کے سیاسی و سماجی حالات سے آگے بڑھتا ہے۔
ان کی سوانح منہجی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ ابتدائی و کلاسیکی مآخذ شناخت، نکاح اور عمومی میراث پر متفق ہیں، مگر مہم کے سال، سابق شوہر کے نام، عمر اور سالِ وفات میں اختلاف رکھتے ہیں۔ ان اختلافات کو محفوظ رکھتے ہوئے جنت البقیع کی تدفین بیان کرنا زیادہ درست اور محترمانہ تاریخ فراہم کرتا ہے۔
ان سے منقول احادیث نے عبادت اور فقہ میں انہیں مستقل مقام دیا۔ صحیح مسلم کا صبح کا ذکر آج بھی وسیع پیمانے پر پڑھا جاتا ہے، جبکہ صحیح بخاری کی جمعہ کے روزے والی روایت نفلی روزے کے فقہی مباحث میں حصہ رکھتی ہے۔ اس طرح ان کا اثر ان کے نکاح کے سیاسی و سماجی حالات سے آگے بڑھتا ہے۔
ان کی سوانح منہجی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ ابتدائی و کلاسیکی مآخذ شناخت، نکاح اور عمومی میراث پر متفق ہیں، مگر مہم کے سال، سابق شوہر کے نام، عمر اور سالِ وفات میں اختلاف رکھتے ہیں۔ ان اختلافات کو محفوظ رکھتے ہوئے جنت البقیع کی تدفین بیان کرنا زیادہ درست اور محترمانہ تاریخ فراہم کرتا ہے۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
مصدقہ
ماخذ
Al-Isabah fi Tamyiz al-Sahabah | Ibn Hajar al-Asqalani | Entry 11008, vol. 8, p. 73 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/9767/3986 | Identity, Banu al-Mustaliq lineage, Muraysi' chronology, manumission contract, marriage, name change and worship reportSunan Abi Dawud | Abu Dawud al-Sijistani | Hadith 3931 | https://sunnah.com/abudawud:3931 | Her request for assistance, marriage and the release of one hundred Banu al-Mustaliq households
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2726a-b | https://sunnah.com/muslim:2726a | Morning remembrance transmitted by Juwayriya
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadith 1986 | https://sunnah.com/bukhari:1986 | Report concerning fasting Friday by itself
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 2, biographical entry; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/172/ | Biographical evaluation, narrators, reported hadith count and death traditions
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Entry 4134, vol. 8; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/1686/2759 | Lineage, former husband traditions, Muraysi' narrative, marriage and death reports
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔