ان کی تاریخ اور مقام ولادت زیرِ مطالعہ مآخذ میں یقینی طور پر محفوظ نہیں۔
ام عون بنت محمد بن جعفر
PER-000179
خاندان کی شخصیت
مصدقہ
مقامِ تدفین نامعلوم
مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
ام عون بنت محمد بن جعفر بن ابی طالب، جنہیں ام جعفر بھی کہا گیا ہے، ایک ہاشمی خاتون اور راویۂ حدیث تھیں۔ کلاسیکی رجال کے مآخذ انہیں محمد بن حنفیہ کی زوجہ، عون بن محمد کی والدہ اور اسماء بنت عمیس کی نواسی قرار دیتے ہیں؛ ان خاندانی اور روایتی اشارات کے علاوہ ان کی ولادت، وفات اور تدفین کی قابلِ اعتماد تفصیل محفوظ نہیں۔
ان کی وفات کی تاریخ، مقام اور حالات یقینی طور پر محفوظ نہیں۔
ان کا مدفن نامعلوم ہے؛ کوئی مخصوص قبر یا مزار تاریخی طور پر ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
ام عون اپنے والد محمد بن جعفر کے ذریعے جعفر بن ابی طالب کی نسل سے تعلق رکھتی تھیں۔ زیرِ مطالعہ مآخذ میں ان کا ذاتی نام یقینی طور پر محفوظ نہیں اور انہیں ام عون اور ام جعفر کی کنیتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی مآخذ چار مربوط نشانوں سے ان کی شناخت واضح کرتے ہیں: والد محمد بن جعفر بن ابی طالب، نانی اسماء بنت عمیس، شوہر محمد بن حنفیہ اور بیٹا عون بن محمد۔
مزی کی تہذیب الکمال انہیں قریشی ہاشمی خاتون، محمد بن حنفیہ کی زوجہ اور عون کی والدہ بتاتی ہے۔ اس سے نسبی مآخذ میں مذکور زوجیت کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ دوسری ام عون یا ام جعفر نامی خواتین سے ممتاز رہتی ہیں۔ والد کا خالی دستیاب نسبی معلومات تبدیل نہیں کیا گیا، اگرچہ مکمل نسب محمد بن جعفر بن ابی طالب کو مضبوط طور پر ثابت والد بناتا ہے۔
ان کا نمایاں تاریخی نقش ایک راویہ کا ہے۔ انہوں نے اپنی نانی اسماء بنت عمیس سے روایت کی، جبکہ ان کے بیٹے عون اور ام عیسیٰ جزار، جنہیں خزاعیہ بھی کہا گیا، نے ان سے روایت لی۔ سنن ابن ماجہ کی ایک سند میں اسماء کا وہ بیان انہی کے ذریعے محفوظ ہے جس میں جعفر بن ابی طالب کی شہادت کے دن رسول اللہ ﷺ نے اہل جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے کی ہدایت دی، کیونکہ وہ اپنے غم میں مشغول تھے۔
اس روایت کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔ ام عون اس پہلے واقعے کی عینی شاہد نہیں تھیں بلکہ انہوں نے اپنی نانی اسماء سے خاندانی یادداشت منتقل کی۔ ابن حجر نے انہیں تیسرے طبقے کی مقبولہ کہا، جبکہ بعد کی تنقیدی گفتگو یاد دلاتی ہے کہ ان سے بہت کم راویوں نے نقل کیا اور ان کی مفصل مستقل توثیق محفوظ نہیں۔ یہ احتیاط مخصوص اسناد کے درجے سے متعلق ہے، رجال کے مآخذ میں مذکور خاتون کی واضح شناخت سے نہیں۔
زیرِ مطالعہ کسی معتبر ماخذ نے ان کی تاریخ یا مقام ولادت، صحیح تاریخ وفات، الگ عوامی کردار یا مدفن محفوظ نہیں کیا۔ لہٰذا ان کی ذمہ دار سوانح ثابت ہاشمی نسب، محمد بن حنفیہ سے نکاح، عون کی والدہ ہونے اور اسماء بنت عمیس سے روایات منتقل کرنے کے کردار پر قائم ہے۔ نئی شہادت کے بغیر کوئی قبر یا مزار ان سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
مزی کی تہذیب الکمال انہیں قریشی ہاشمی خاتون، محمد بن حنفیہ کی زوجہ اور عون کی والدہ بتاتی ہے۔ اس سے نسبی مآخذ میں مذکور زوجیت کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ دوسری ام عون یا ام جعفر نامی خواتین سے ممتاز رہتی ہیں۔ والد کا خالی دستیاب نسبی معلومات تبدیل نہیں کیا گیا، اگرچہ مکمل نسب محمد بن جعفر بن ابی طالب کو مضبوط طور پر ثابت والد بناتا ہے۔
ان کا نمایاں تاریخی نقش ایک راویہ کا ہے۔ انہوں نے اپنی نانی اسماء بنت عمیس سے روایت کی، جبکہ ان کے بیٹے عون اور ام عیسیٰ جزار، جنہیں خزاعیہ بھی کہا گیا، نے ان سے روایت لی۔ سنن ابن ماجہ کی ایک سند میں اسماء کا وہ بیان انہی کے ذریعے محفوظ ہے جس میں جعفر بن ابی طالب کی شہادت کے دن رسول اللہ ﷺ نے اہل جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے کی ہدایت دی، کیونکہ وہ اپنے غم میں مشغول تھے۔
اس روایت کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔ ام عون اس پہلے واقعے کی عینی شاہد نہیں تھیں بلکہ انہوں نے اپنی نانی اسماء سے خاندانی یادداشت منتقل کی۔ ابن حجر نے انہیں تیسرے طبقے کی مقبولہ کہا، جبکہ بعد کی تنقیدی گفتگو یاد دلاتی ہے کہ ان سے بہت کم راویوں نے نقل کیا اور ان کی مفصل مستقل توثیق محفوظ نہیں۔ یہ احتیاط مخصوص اسناد کے درجے سے متعلق ہے، رجال کے مآخذ میں مذکور خاتون کی واضح شناخت سے نہیں۔
زیرِ مطالعہ کسی معتبر ماخذ نے ان کی تاریخ یا مقام ولادت، صحیح تاریخ وفات، الگ عوامی کردار یا مدفن محفوظ نہیں کیا۔ لہٰذا ان کی ذمہ دار سوانح ثابت ہاشمی نسب، محمد بن حنفیہ سے نکاح، عون کی والدہ ہونے اور اسماء بنت عمیس سے روایات منتقل کرنے کے کردار پر قائم ہے۔ نئی شہادت کے بغیر کوئی قبر یا مزار ان سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ام عون دو نمایاں ہاشمی شاخوں کے درمیان نسوانی رابطے کے طور پر تاریخی اہمیت رکھتی ہیں: جعفر بن ابی طالب کی نسل اور علی بن ابی طالب کے فرزند محمد بن حنفیہ کا گھرانہ۔ ان کا نکاح اور بیٹا عون ایک حقیقی خاندانی ربط محفوظ کرتے ہیں جسے بعد کی زیارتی توسیع کے بغیر ثابت کیا جا سکتا ہے۔
خواتین کی روایتِ حدیث کی تاریخ میں بھی ان کا مقام اہم ہے۔ اسماء بنت عمیس اور بعد کے راویوں کے درمیان ان کی موجودگی جعفر کی شہادت اور سوگوار گھرانے کی دیکھ بھال سے متعلق خاندانی یادداشت محفوظ کرتی ہے، جبکہ محدود رجالی مواد ہر انفرادی سند کے بارے میں دیانت دار احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
خواتین کی روایتِ حدیث کی تاریخ میں بھی ان کا مقام اہم ہے۔ اسماء بنت عمیس اور بعد کے راویوں کے درمیان ان کی موجودگی جعفر کی شہادت اور سوگوار گھرانے کی دیکھ بھال سے متعلق خاندانی یادداشت محفوظ کرتی ہے، جبکہ محدود رجالی مواد ہر انفرادی سند کے بارے میں دیانت دار احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
محمد بن جعفر بن ابی طالب
مصدقہ
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
محمد ابن حنفیہ بن علیؑ
مصدقہ
🌱 اولاد
ماخذ
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Vol. 35, entry 7995, pp. 374-375 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/11429/ | Full lineage, kunyah variants, marriage to Muhammad ibn al-Hanafiyya, motherhood of Awn, grandmother Asma bint Umays, teachers and transmittersSunan Ibn Majah | Ibn Majah | Book 6, Hadith 1611 | https://sunnah.com/ibnmajah:1611 | Chain naming Umm Awn bint Muhammad ibn Jafar transmitting from her grandmother Asma the report about preparing food for Jafar's bereaved household
Taqrib al-Tahdhib | Ibn Hajar al-Asqalani | Entry 8750; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/30072/2175 | Kunyah variant, third-generation classification and the judgment maqbulah
Tahrir Taqrib al-Tahdhib | Bashshar Awwad Maruf and Shuayb al-Arnaut | Entry 8750; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/127715/1740 | Later critical qualification that her narrator status is not extensively documented
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔