عبیدہ بن حارث

PER-000188 خاندان کی شخصیت مصدقہ مخصوص مقام معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہ بنو مطلب کے جلیل القدر ابتدائی مسلمان، مہاجر، غزوۂ بدر کے مجاہد اور زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔ انہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا، مدینہ ہجرت کی، بطنِ رابغ کی ایک اولین مہم کی قیادت کی اور بدر کے آغاز میں مبارزت کے دوران شدید زخمی ہوئے۔ واپسی پر صفراء میں سنہ ۲ھ میں وفات پائی اور قدیم روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہیں دفن کیا۔
ولادت

تاریخ اور مقامِ پیدائش یقینی طور پر معلوم نہیں۔ کلاسیکی روایات انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقریباً دس سال بڑا اور وفات کے وقت تریسٹھ یا چونسٹھ سال کا بتاتی ہیں۔

وفات

غزوۂ بدر میں شدید زخمی ہونے کے بعد وادیِ صفراء میں ماہِ رمضان سنہ ۲ھ کے آخری عشرے میں وفات پائی۔ عمر کے بارے میں ۶۳ اور ۶۴ سال کے اقوال ملتے ہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

قدیم روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وادیِ صفراء میں ذاتِ اجذال، مضیق کے مقام پر عین الجدول کے نیچے دفن کیا۔ تاریخی تدفین مضبوط ہے۔ مقام کی لوکیشن نقشے کے صفحے پر دستیاب ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبد مناف رضی اللہ عنہ قریش کے بنو مطلب خاندان سے تھے، جو بنو ہاشم کے قریبی نسبی رشتہ دار اور حلیف تھے۔ ان کے والد حارث بن مطلب اور والدہ سخیلہ بنت خزاعی بن حویرث ثقفیہ تھیں؛ ابن سعد اور ابن حبان دونوں یہ نسب محفوظ کرتے ہیں۔

وہ اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور دارِ ارقم کے مرحلے سے پہلے مسلمان ہونے کی روایت ملتی ہے۔ انہوں نے اپنے بھائیوں طفیل اور حصین کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔ کلاسیکی تراجم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقریباً دس سال بڑا، باوقار اور مسلمانوں میں بلند مرتبہ شخص بتاتے ہیں، اگرچہ پیدائش کی صحیح تاریخ محفوظ نہیں۔

ہجرت کے بعد انہیں بطنِ رابغ کی طرف مہاجرین کے ایک دستے کا امیر مقرر کیا گیا۔ روایات دستے کی تعداد ساٹھ یا اسی بیان کرتی ہیں۔ وہاں قریش کے دستے سے آمنا سامنا ہوا اور محدود تیراندازی ہوئی؛ اسی مہم میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے تیر کو اسلام کی پہلی جنگی تیراندازی کہا جاتا ہے۔ بعض سیرت نگار عبیدہ کے لواء کو اسلام کا پہلا لواء کہتے ہیں، جبکہ مہمات کی ترتیب میں دوسرے اقوال بھی موجود ہیں۔

غزوۂ بدر میں وہ حمزہ بن عبد المطلب اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے ساتھ قریش کے تین مبارزوں کے مقابل نکلے۔ ابن سعد اور ابن حبان کی روایت میں ان کا مقابل شیبہ بن ربیعہ سے تھا، جبکہ بعض دوسری نقلوں میں عتبہ کا نام آتا ہے۔ لڑائی میں ان کی پنڈلی یا ٹانگ شدید کٹ گئی، پھر حمزہ اور علی نے ان کے حریف کو ختم کیا اور عبیدہ کو لشکر میں واپس لایا گیا۔

زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کلاسیکی سوانح اور انساب میں محفوظ ہے۔ زینب اس سے پہلے ان کے بھائی طفیل کے نکاح میں تھیں اور طلاق کے بعد عبیدہ سے نکاح ہوا۔ ابن سعد عبیدہ کے کئی بیٹے اور بیٹیاں بیان کرتے ہیں، مگر ان بچوں کو زینب بنت خزیمہ کی اولاد ثابت نہیں کرتے؛ اس لیے ایسا دعویٰ شامل نہیں کیا گیا۔ موجودہ محفوظ زوجیت کا ربط درست اور برقرار ہے۔

بدر سے مدینہ واپسی کے دوران ان کے زخم نے شدت اختیار کی اور وہ ماہِ رمضان سنہ ۲ھ کے آخری عشرے میں وادیِ صفراء میں وفات پا گئے۔ عمر کے بارے میں تریسٹھ اور چونسٹھ سال کے اقوال ملتے ہیں۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صفراء کے مقام ذاتِ اجذال، مضیق میں عین الجدول کے نیچے دفن کیا، اور ایک راوی نے بعد میں ان کی قبر دیکھی تھی۔ تاریخی تدفین مضبوط طور پر منقول ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی اہمیت ابتدائی اسلامی جماعت کے ان بزرگ مہاجرین میں ہے جنہوں نے مکہ کے دباؤ کے دور میں اسلام قبول کیا، مدینہ ہجرت کی اور نئے معاشرے کے دفاع میں اولین مہمات میں حصہ لیا۔ بطنِ رابغ کی قیادت ان کے اعتماد اور عسکری ذمہ داری کی علامت ہے۔

بدر کی مبارزت میں ان کی شرکت اسلامی تاریخ کے فیصلہ کن آغاز سے وابستہ ہے۔ شدید زخم کے باوجود ان کا لشکر کے ساتھ واپس لایا جانا اور صفراء میں وفات پانا انہیں بدر کے نمایاں شہداء میں شمار کرتا ہے، جبکہ حریف کے نام اور عمر کے جزوی اختلاف کو ماخذی دیانت کے ساتھ محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ان کی سوانح کو بعد میں ام المؤمنین بننے والی معروف خاتون سے جوڑتا ہے۔ اس رشتے کو مضبوط ماخذ سے برقرار رکھتے ہوئے نقشے کے صفحے پر دستیاب مقام کا مختصر ذکر کرنا، اور بچوں یا باقاعدہ تصدیق شدہ جدید مزار کے غیر ثابت دعووں سے اجتناب ایک متوازن تاریخی پروفائل فراہم کرتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

الطبقات الكبرى | ابن سعد | جلد سوم، صفحہ ۳۶ اور متعلقہ ترجمہ | https://www.masaha.org/book/view/2056/page/36 | مکمل نسب، والدہ سخیلہ، اولاد، ابتدائی اسلام، ہجرت اور بنیادی سوانح
الطبقات الكبرى | ابن سعد | بدر اور تدفین کی روایت، ترجمہ ۲۹۲۲ | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=402&book=802&chapter_id=3&e=854&f=-1&show=bab | بدر کی مبارزت، شدید زخم، سنہ ۲ھ میں وفات، عمر ۶۳ سال اور صفراء میں رسول اللہ کے ہاتھوں تدفین
الثقات | ابن حبان | جلد سوم، صفحات ۳۱۲ تا ۳۱۳ | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1079/1237/index.php | والدین، کنیت، شیبہ سے مقابلہ، صفراء میں وفات اور عمر ۶۳ سال
انساب الاشراف | بلاذری | جلد اول، صفحہ ۴۲۹ | https://lib.eshia.ir/40503/1/429 | زینب بنت خزیمہ سے نکاح، بدر کا زخم، صفراء میں وفات اور عمر ۶۴ سال
الطبقات الكبرى | ابن سعد | جلد ہشتم، زینب بنت خزیمہ کا ترجمہ | https://shamela.ws/book/1686/2758 | زینب کا پہلے طفیل اور پھر عبیدہ سے نکاح اور بدر کے بعد بیوگی
سیر اعلام النبلاء | ذہبی | جلد اول، صفحہ ۲۵۶ | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/56/%D8%B9%D8%A8%D9%8A%D8%AF%D8%A9-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B1%D8%AB | سبقتِ اسلام، بھائیوں کے ساتھ ہجرت، عمر، منزلت اور صفراء میں وفات
سبل الہدی والرشاد | محمد بن یوسف صالحی شامی | بطن رابغ کی سریہ کا باب | https://www.islamweb.net/ar/library/content/200/17006/%D8%B3%D8%B1%D9%8A%D8%A9-%D8%B9%D8%A8%D9%8A%D8%AF%D8%A9-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%A7%D8%B1%D8%AB-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8-%D8%A5%D9%84%D9%89-%D8%A8%D8%B7%D9%86-%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%BA | ابتدائی سریہ، ساٹھ یا اسی مہاجرین اور اولین لواء کی روایت

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔