زینب بنت خزیمہؓ

PER-000166 اہلِ بیت مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ام المؤمنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا بنو ہلال کی معزز خاتون اور رسول اللہ ﷺ کی زوجہ تھیں۔ وہ نکاحِ نبوی سے پہلے ہی محتاجوں کو کھانا کھلانے اور ان کی خبرگیری کے سبب اُمّ المساکین کے لقب سے معروف تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سے ان کا نکاح ۳ھ میں ہوا اور وہ مختصر مدت بعد ۴ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پا گئیں۔ ان کی سوانح سخاوت اور خدمتِ خلق کی مضبوط یاد محفوظ کرتی ہے، جبکہ ان کے سابق نکاحوں، مدتِ ازدواج اور بعض خاندانی نسبتوں میں مآخذ کا اختلاف صاف طور پر برقرار رہتا ہے۔
ولادت

مکہ معظمہ یا حجاز میں ولادت کا عمومی ذکر ملتا ہے، مگر معتبر قدیم مآخذ صحیح سال اور دن محفوظ نہیں کرتے۔ بعد کی عمر کے اندازوں سے قطعی تاریخ اخذ نہیں کی گئی۔

وفات

مدینہ منورہ میں ۴ھ میں وفات پائی۔ ایک معروف روایت ربیع الآخر اور تقریباً ۸ ماہ کے ازدواجی قیام کا ذکر کرتی ہے، جبکہ دوسری روایات ربیع الاول یا صرف ۲ سے ۳ ماہ بیان کرتی ہیں۔ عمر تقریباً ۳۰ سال بتائی گئی ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور انہیں مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ ان کی تاریخی تدفین بقیع میں مضبوط سیرتی و نسبی مآخذ سے ثابت ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا پورا نسب زینب بنت خزیمہ بن حارث بن عبد اللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ عامریہ ہلالیہ بیان کیا جاتا ہے۔ ابن عبد البر نے لکھا کہ اہلِ نسب نے اس بنیادی سلسلے میں اختلاف نہیں کیا، اور ان کے والد خزیمہ بن حارث تھے۔ بعض بعد کے نسبی بیانات انہیں حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی مادری بہن قرار دیتے ہیں، لیکن ابن عبد البر نے اس نسبت کی محدود روایت کی طرف توجہ دلائی؛ اس لیے اسے قطعی حقیقت کے بجائے منقول خاندانی نسبت کے طور پر رکھا گیا ہے۔

ان کا سب سے معروف لقب اُمّ المساکین تھا۔ ابن سعد، ابن عبد البر، ابن حبان اور طبرانی کے محفوظ بیانات اس لقب کو محتاجوں کے ساتھ ان کے مستقل حسنِ سلوک، کھانا کھلانے اور صدقہ کرنے سے جوڑتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ لقب ان کے نکاحِ نبوی سے پہلے، حتیٰ کہ جاہلی دور میں بھی معروف بتایا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سماجی خدمت محض مختصر ازدواجی دور کی یاد نہیں، بلکہ ان کی پہلے سے قائم شخصیت اور عادت تھی۔

رسول اللہ ﷺ سے پہلے ان کے نکاح کے بارے میں قدیم اور بعد کے مآخذ یکساں نہیں۔ ابن سعد کی روایت میں پہلے حضرت طفیل بن حارث رضی اللہ عنہ سے نکاح، پھر طلاق، اس کے بعد ان کے بھائی حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے نکاح اور غزوۂ بدر میں ان کی شہادت مذکور ہے۔ ابن عبد البر نے زہری سے حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا، جو غزوۂ احد میں شہید ہوئے، جبکہ دوسرے بیانات حصین یا جہم بن عمرو کا نام بھی لاتے ہیں۔ اس اختلاف کے سبب کسی ایک سابق شوہر کو بلاشرط قطعی قرار دینا مناسب نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ۳ھ میں نکاح فرمایا۔ ابن سعد اور ابن حجر کی محفوظ روایت کے مطابق یہ نکاح رمضان میں، ہجرت کے تقریباً اکتیس ماہ بعد ہوا۔ بعض روایات میں حضرت قبیصہ بن عمرو ہلالی رضی اللہ عنہ کو نکاح کا سرپرست بتایا گیا، جبکہ دوسری روایت میں انہوں نے اپنا معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سپرد کیا۔ مہر کی مقدار کے بارے میں بھی مختلف الفاظ ملتے ہیں؛ اس لیے بنیادی تاریخی نکتہ نکاح کا زمانہ اور ان کا ام المؤمنین بننا ہے، نہ کہ ایک متنازع جزئی مقدار۔

ان کا قیام بیتِ نبوی میں بہت مختصر رہا، جس کے سبب ان سے متعلق گھریلو اور تعلیمی روایات دوسری ازواجِ مطہرات کی نسبت کم محفوظ ہیں۔ بعض مآخذ ۸ ماہ بیان کرتے ہیں، جبکہ ابن حجر اور ابن عبد البر نے ۲ یا ۳ ماہ کی روایت بھی نقل کی۔ یہی محدود مدت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ان سے منسوب طویل حدیثی ذخیرہ، مفصل سیاسی کردار یا بہت سے ذاتی اقوال محفوظ نہیں۔ ان کی تاریخی شناخت بنیادی طور پر ام المؤمنین ہونے، اُمّ المساکین کے لقب اور خدمتِ محتاجاں سے قائم ہے۔

طبرانی کے ذریعے زہری سے منقول خبر انہیں کثرت سے مساکین کو کھانا کھلانے والی خاتون قرار دیتی ہے۔ ابن حجر نے ابن سعد سے ایک الگ روایت بھی نقل کی ہے جس میں ایک ہلالیہ خاتون اپنی خادمہ آزاد کرنا چاہتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے رشتہ داروں کی عملی ضرورت پوری کرنے کا مشورہ دیا؛ تاہم روایت میں نام صراحت سے نہیں، اس لیے اسے ان کی یقینی شخصی سوانح کا مرکزی واقعہ نہیں بنایا گیا۔ یہ احتیاط اس اصول کو محفوظ رکھتی ہے کہ خیراتی شہرت مضبوط ہے، مگر ہر ہلالیہ روایت لازماً انہی سے متعلق نہیں۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا ۴ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پا گئیں۔ ابن کلبی کی روایت، جسے ابن حجر نے نقل کیا، ربیع الآخر اور ۸ ماہ کے ازدواجی قیام کا ذکر کرتی ہے؛ دوسرے مآخذ ربیع الاول یا ۲ سے ۳ ماہ کا قول بھی لاتے ہیں۔ ابن سعد سے منقول اندازہ ان کی عمر تقریباً ۳۰ سال بتاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں وفات پانے والی دوسری زوجہ اور مدینہ میں وفات پانے والی ازواج میں پہلی تھیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کی تاریخی اہمیت ان کے اُمّ المساکین کے لقب میں سمٹتی نہیں بلکہ اس سماجی اخلاق میں ظاہر ہوتی ہے جس نے محتاجوں کو کھانا کھلانے اور ان کی عزت کی حفاظت کو عبادت اور شرافت کا حصہ بنایا۔ ان کی خیرات نکاحِ نبوی سے پہلے معروف تھی، اس لیے ان کی سوانح ابتدائی اسلامی معاشرے میں خواتین کی مستقل سماجی خدمت کا نمایاں نمونہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے گھر میں ان کا مختصر قیام انہیں ام المؤمنین کے منصب سے محروم نہیں کرتا، بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ تاریخی اثر ہمیشہ طویل مدت یا کثرتِ روایات پر منحصر نہیں ہوتا۔ ان کے بارے میں محدود مواد محقق کو غیر ثابت تقریروں، جنگی خدمات یا گھریلو واقعات سے سوانح بڑھانے کے بجائے مضبوط نکات—نسب، سخاوت، نکاح، وفات اور تدفین—پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔

ان کے سابق نکاح، مدتِ ازدواج اور مادری رشتوں کے اختلافات اسلامی سوانح نگاری میں ماخذی احتیاط کی اہم مثال ہیں۔ ان کی یاد کو عزت دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مشترک تاریخی حقیقت کو واضح رکھا جائے، اختلافی روایات کو ان کے درجے کے ساتھ بیان کیا جائے اور اُمّ المساکین کی عملی اخلاقیات کو آج بھی محتاجوں کی خدمت، کھانا کھلانے اور انسانی وقار کے تحفظ سے جوڑا جائے۔

خاندانی روابط

ماخذ

al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Vol. 8, pp. 91-92, entry 4133 | https://shamela.ws/book/1686/2758 | Stable lineage, Umm al-Masakin title before Islam, al-Tufayl and Ubayda marriage report, marriage in Ramadan 3 AH, eight-month duration, death in 4 AH, funeral prayer, burial in al-Baqi and age estimate
al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 4, p. 1853, entry 3359 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/3397/%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%8A | Undisputed basic lineage, Khuzayma ibn al-Harith as father, pre-Islamic title, Abd Allah ibn Jahsh and al-Tufayl variants, and limited maternal-sister report
al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | Vol. 8, p. 157, entry 11236 | https://shamela.ws/book/9767/4070 | Lineage, title, competing earlier-marriage reports, Ramadan 3 AH marriage, two-to-three or eight-month duration, death in 4 AH, age estimate and caution about the unnamed Hilali woman report
Ansab al-Ashraf | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | p. 429 in the Hamidullah edition, entry 890 | https://shamela.ws/book/1379/455 | Father and lineage, al-Tufayl and Ubayda sequence, Ramadan 3 AH marriage, death in Rabi al-Akhir 4 AH, funeral prayer and burial in al-Baqi
al-Thiqat | Ibn Hibban | Vol. 3, p. 145 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1079/705/index.php | Banu Hilal lineage, wife of the Prophet, Umm al-Masakin title and death during the Prophet's lifetime
al-Mu'jam al-Kabir | al-Tabarani | Vol. 24, report 148 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/84/19750/%D8%B2%D9%8A%D9%86%D8%A8-%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%AE%D8%B2%D9%8A%D9%85%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%87%D9%84%D8%A7%D9%84%D9%8A%D8%A9-%D9%88%D9%87%D9%8A-%D8%A3%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%83%D9%8A%D9%86 | Al-Zuhri report explaining the title Umm al-Masakin through frequent feeding of poor people
Subul al-Huda wa al-Rashad | Muhammad ibn Yusuf al-Salihi al-Shami | Vol. 11, pp. 205-206 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/420/3292/%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%A7%D8%B3%D8%B9-%D9%81%D9%8A-%D8%A8%D8%B9%D8%B6-%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D8%A3%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%A4%D9%85%D9%86%D9%8A%D9%86-%D8%B2%D9%8A%D9%86%D8%A8-%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%AE%D8%B2%D9%8A%D9%85%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%87%D9%84%D8%A7%D9%84%D9%8A%D8%A9 | Consolidated marriage variants, dower reports, death-month and duration variants, age estimate and burial in al-Baqi

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔