درست تاریخ اور مقامِ ولادت نامعلوم ہیں۔ خاندانی نسل اور اساتذہ انہیں پہلی صدی ہجری کے آخری دور میں رکھتے ہیں، مگر کوئی قطعی سالِ ولادت محفوظ نہیں۔
محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
عمر بن علی بن ابی طالب اور اسماء بنت عقیل بن ابی طالب کے بیٹے؛ محمد ابن الحنفیہ نہیں۔ والدین کے کوڈ الگ درست شناختی رجسٹری آڈٹ مکمل ہونے تک مقرر نہیں کیے گئے۔
PER-000202
خاندان کی شخصیت
مصدقہ
مقامِ تدفین نامعلوم
سنی ماخذی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب ایک مدنی علوی خاندانی شخصیت اور راویِ حدیث تھے جن کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ کلاسیکی نسبی و سوانحی مآخذ انہیں عمر بن علی بن ابی طالب اور اسماء بنت عقیل بن ابی طالب کا فرزند بتاتے ہیں اور محمد بن حنفیہ سے واضح طور پر الگ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد اور امام علی زین العابدین علیہ السلام سے روایت کی، جبکہ اپنے دادا امام علی علیہ السلام سے منقول روایت مرسل سمجھی جاتی ہے۔ ان کا نکاح خدیجہ بنت علی زین العابدین علیہا السلام سے ہوا اور ان سے متعدد اولاد محفوظ ہے۔ درست سالِ ولادت و وفات اور مدفن نامعلوم ہیں۔
وہ ۱۳۲ھ میں عباسی خلافت کے آغاز پر زندہ تھے۔ ایک نسبی ماخذ عمرِ وفات ۶۳ سال بتاتا ہے، مگر درست سال، مقام اور حالاتِ وفات نامعلوم ہیں۔
مدفن نامعلوم ہے۔ کسی معتبر قدیم نسبی یا سوانحی ماخذ سے قبر، مزار، یادگاری مقام، شہرِ تدفین یا نقشاتی مقام ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
محمد، امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فرزند عمر، جو عمر الاطرف کے نام سے معروف ہیں، کے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ اسماء بنت عقیل بن ابی طالب تھیں، جس سے عمری شاخ کا عقیلی خاندان سے تعلق قائم ہوا۔ مکمل سلسلۂ نسب شناخت کے لیے بنیادی ہے، کیونکہ یہ محمد بن علی بن ابی طالب معروف بہ محمد بن حنفیہ نہیں، اور نہ انہیں بعد کے ملتے جلتے ناموں والے راویوں سے ملانا درست ہے۔
ابن سعد کی «طبقات» اور مصعب زبیری کی «نسب قریش» دونوں آزاد طور پر یہی والدین درج کرتی ہیں۔ ایک بعد کی علوی نسبی کتاب کے مطابق عمر الاطرف کی جاری نسل محمد ہی کے ذریعے آگے بڑھی۔
رجالِ حدیث میں وہ ابو عبداللہ، قریشی، ہاشمی، علوی اور مدنی راوی کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے اپنے والد عمر، اپنے چچا زاد امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام اور روایتی فہرستوں کے مطابق اپنے چچا محمد بن حنفیہ سمیت دوسرے مدنی اہلِ علم سے روایت کی۔ اپنے دادا امام علی علیہ السلام سے ان کی روایت مرسل ہے، کیونکہ براہِ راست سماع ثابت نہیں۔
ابن سعد انہیں کم حدیث روایت کرنے والا بتاتے ہیں۔ بعد کے رجالی خلاصوں میں مثبت احکام بھی محفوظ ہیں: ذہبی نے انہیں ثقہ اور ابن حجر نے صدوق کہا، ساتھ ہی دادا سے روایت کے مرسل ہونے کی وضاحت کی۔ ان سے ان کے بیٹوں عبداللہ، عبیداللہ اور عمر کے علاوہ ابن جریج اور محمد بن اسحاق جیسے راویوں نے بھی نقل کیا۔
نسبی مآخذ ان کا نکاح خدیجہ بنت علی زین العابدین علیہا السلام سے درج کرتے ہیں۔ «نسب قریش» عمر، عبداللہ، عبیداللہ اور ام کلثوم کو ان دونوں کی اولاد بتاتی ہے۔ ابن سعد جعفر نامی ایک اور بیٹے کا ذکر کرتے ہیں جس کی والدہ ام ہاشم بنت جعفر تھیں؛ زیرِ نظر عبارت صرف مادریت ثابت کرتی ہے، اس لیے اس سے نیا منظم زوجی رشتہ نہیں بنایا گیا۔ ان اولاد کے ذریعے محمد عمری علوی شاخ کے اہم جد بنے۔
وہ عباسی خلیفہ ابو العباس سفاح کی خلافت کے آغاز، یعنی ۱۳۲ھ، میں زندہ تھے۔ «سر السلسلہ العلویہ» ان کی عمرِ وفات ۶۳ سال بتاتی ہے، مگر درست سال، مقام اور حالاتِ وفات معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ کسی قابل اعتماد قدیم ماخذ میں قبر، مزار یا شہرِ تدفین ثابت نہیں، اس لیے مدفن نامعلوم ہے۔
ابن سعد کی «طبقات» اور مصعب زبیری کی «نسب قریش» دونوں آزاد طور پر یہی والدین درج کرتی ہیں۔ ایک بعد کی علوی نسبی کتاب کے مطابق عمر الاطرف کی جاری نسل محمد ہی کے ذریعے آگے بڑھی۔
رجالِ حدیث میں وہ ابو عبداللہ، قریشی، ہاشمی، علوی اور مدنی راوی کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے اپنے والد عمر، اپنے چچا زاد امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام اور روایتی فہرستوں کے مطابق اپنے چچا محمد بن حنفیہ سمیت دوسرے مدنی اہلِ علم سے روایت کی۔ اپنے دادا امام علی علیہ السلام سے ان کی روایت مرسل ہے، کیونکہ براہِ راست سماع ثابت نہیں۔
ابن سعد انہیں کم حدیث روایت کرنے والا بتاتے ہیں۔ بعد کے رجالی خلاصوں میں مثبت احکام بھی محفوظ ہیں: ذہبی نے انہیں ثقہ اور ابن حجر نے صدوق کہا، ساتھ ہی دادا سے روایت کے مرسل ہونے کی وضاحت کی۔ ان سے ان کے بیٹوں عبداللہ، عبیداللہ اور عمر کے علاوہ ابن جریج اور محمد بن اسحاق جیسے راویوں نے بھی نقل کیا۔
نسبی مآخذ ان کا نکاح خدیجہ بنت علی زین العابدین علیہا السلام سے درج کرتے ہیں۔ «نسب قریش» عمر، عبداللہ، عبیداللہ اور ام کلثوم کو ان دونوں کی اولاد بتاتی ہے۔ ابن سعد جعفر نامی ایک اور بیٹے کا ذکر کرتے ہیں جس کی والدہ ام ہاشم بنت جعفر تھیں؛ زیرِ نظر عبارت صرف مادریت ثابت کرتی ہے، اس لیے اس سے نیا منظم زوجی رشتہ نہیں بنایا گیا۔ ان اولاد کے ذریعے محمد عمری علوی شاخ کے اہم جد بنے۔
وہ عباسی خلیفہ ابو العباس سفاح کی خلافت کے آغاز، یعنی ۱۳۲ھ، میں زندہ تھے۔ «سر السلسلہ العلویہ» ان کی عمرِ وفات ۶۳ سال بتاتی ہے، مگر درست سال، مقام اور حالاتِ وفات معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ کسی قابل اعتماد قدیم ماخذ میں قبر، مزار یا شہرِ تدفین ثابت نہیں، اس لیے مدفن نامعلوم ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
محمد کی بنیادی اہمیت نسبی ہے۔ عمر الاطرف کی باقی رہنے والی نسل ان کے ذریعے آگے بڑھی، اور ان کی والدہ کے ذریعے عقیلی خاندان اور زوجہ خدیجہ کے ذریعے حسینی خاندان سے اس علوی شاخ کا ربط قائم ہوا۔
وہ پہلی صدی ہجری کے آخر اور دوسری صدی ہجری کے آغاز کے مدنی روایتی حلقے سے بھی متعلق ہیں۔ ان کا مختصر حدیثی ذخیرہ عمر بن علی اور امام علی زین العابدین علیہ السلام کی روایات کو ان کے بیٹوں اور بعد کے محدثین تک پہنچاتا ہے، جبکہ امام علی علیہ السلام سے روایت کی مرسل حیثیت واضح رکھی گئی ہے۔
یہ پروفائل رجسٹری حفاظت کے لحاظ سے اہم ہے، کیونکہ اسی وسیع خاندان میں محمد بن عمر اور محمد بن علی نام کے کئی افراد ہیں۔ درست والد، والدہ، زوجہ اور نسل محفوظ رکھنا انہیں محمد بن حنفیہ اور بعد کے علوی راویوں سے الگ رکھتا ہے، بغیر اس کے کہ غیر ثابت ولادت، وفات یا مدفن کی تفصیلات گھڑی جائیں۔
وہ پہلی صدی ہجری کے آخر اور دوسری صدی ہجری کے آغاز کے مدنی روایتی حلقے سے بھی متعلق ہیں۔ ان کا مختصر حدیثی ذخیرہ عمر بن علی اور امام علی زین العابدین علیہ السلام کی روایات کو ان کے بیٹوں اور بعد کے محدثین تک پہنچاتا ہے، جبکہ امام علی علیہ السلام سے روایت کی مرسل حیثیت واضح رکھی گئی ہے۔
یہ پروفائل رجسٹری حفاظت کے لحاظ سے اہم ہے، کیونکہ اسی وسیع خاندان میں محمد بن عمر اور محمد بن علی نام کے کئی افراد ہیں۔ درست والد، والدہ، زوجہ اور نسل محفوظ رکھنا انہیں محمد بن حنفیہ اور بعد کے علوی راویوں سے الگ رکھتا ہے، بغیر اس کے کہ غیر ثابت ولادت، وفات یا مدفن کی تفصیلات گھڑی جائیں۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
عمر بن علیؑ
مصدقہ
والدہ
اسماء بنت عقیل بن ابی طالب
مصدقہ
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Vol. 5, p. 385, entry 1131 | https://ftp.shamela.ws/book/1686/1813 | exact parentage; children and their mothers; heard from his father and Ali ibn al-Husayn; few reports; alive at the beginning of Abu al-Abbas's caliphateNasab Quraysh | Mus'ab ibn Abd Allah al-Zubayri | descendants of Umar ibn Ali, displayed p. 80 | https://shamela.ws/book/2922/76 | Umar ibn Ali and Asma bint Aqil as parents; Khadija bint Ali ibn al-Husayn as wife and mother of Umar, Abd Allah, Ubayd Allah and Umm Kulthum
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Muhammad ibn Umar ibn Ali biographical entry; pagination varies by edition | https://sunnah.com/narrator/7205 | kunya, Medinan identity, teachers and students, mursal narration from his grandfather, Ibn Sa'd's limited-hadith note and later narrator appraisals
Sirr al-Silsila al-Alawiyya | Sahl ibn Abd Allah al-Bukhari | Vol. 1, p. 97 | https://lib.eshia.ir/10871/1/97 | continuing line of Umar al-Atraf through Muhammad; mother Asma bint Aqil; reported death age of 63; children by Khadija
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Vol. 16, p. 94, Abd Allah ibn Muhammad entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/3841/ | corroborates Khadija bint Ali ibn al-Husayn as mother of Muhammad's children and preserves transmission through his son Abd Allah
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔