حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ

PER-000401 صحابی / صحابیہ قوی امکان مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بنو عبد الاشہل کے سردار، قبیلہ اوس کے بڑے رہنما اور ابتدائی مسلم مدینہ کے نہایت بااثر انصاری قائدین میں سے تھے۔ کلاسیکی سیرت ان کے قبولِ اسلام کو ہجرت سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوت سے جوڑتی ہے؛ سعد رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد بنو عبد الاشہل میں اسلام تیزی سے پھیلا۔ بعد میں وہ بدر، احد اور غزوۂ خندق میں شریک ہوئے اور انصار کے مرکزی سیاسی و عسکری رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ غزوۂ خندق نے مدینہ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ دشمن مختلف سمتوں سے آ گئے، نگاہیں خوف سے پھر گئیں، دل حلق تک پہنچ گئے اور مومن سختی سے جھنجھوڑ دیے گئے۔ صحیح بخاری خندق کھودتے وقت سردی، تھکن اور بھوک کا ذکر کرتی ہے، اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا۔ کلاسیکی تفسیر کے مطابق بحران اس وقت مزید خطرناک ہو گیا جب بنو قریظہ، جن کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ تھا، اس معاہدے سے پھر گئے اور احزاب کا ساتھ دیا؛ یوں خندق کے سامنے موجود بڑی دشمن فوج کے ساتھ مدینہ کی دوسری سمت سے بھی خطرہ پیدا ہو گیا۔ اسی جنگ میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی درمیانی رگ میں تیر لگا، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی نگہداشت کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا۔ احزاب کے واپس چلے جانے کے بعد بنو قریظہ کا محاصرہ ہوا اور آخرکار انہوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تحکیم قبول کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔ بنو قریظہ کا اوس کے ساتھ پرانا حلیفانہ تعلق تھا، اس لیے اوس کے سردار سعد رضی اللہ عنہ کا حَکم بننا قبائلی پس منظر میں قابلِ فہم تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم ان کا فیصلہ براہِ راست محفوظ کرتی ہیں: بنو قریظہ کے جنگجو قتل کیے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا جائے؛ رسول اللہ ﷺ نے اس فیصلے کی توثیق فرمائی۔ اس فیصلے کو اسی فوری جنگی پس منظر میں سمجھنا زیادہ درست ہے: محاصرۂ مدینہ، معاہدہ توڑنا، ہتھیار ڈالنا اور باقاعدہ قبول شدہ تحکیم۔ بعد کی غیر ضروری عددی تفصیلات اس بنیادی واقعے کو سمجھنے کے لیے لازم نہیں۔ بعد میں خندق کا زخم دوبارہ کھلا اور ۵ ہجری میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کا سبب بنا۔ صحیح بخاری میں یہ مشہور فرمان بھی محفوظ ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرشِ رحمان ہل اٹھا۔
ولادت

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی درست تاریخِ پیدائش معتبر طور پر ثابت نہیں۔ کلاسیکی سوانحی مواد کے مطابق ۵ ہجری میں وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً سینتیس برس تھی۔ اس عمر سے صرف ہجرت سے پہلے کی تقریبی پیدائش اخذ کی جا سکتی ہے، قطعی عیسوی تاریخ نہیں۔ اس لیے کسی مخصوص دن یا مہینے کو یقینی تاریخِ پیدائش کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

وفات

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ۵ ہجری میں مدینہ منورہ میں اس زخم کے نتیجے میں وفات پا گئے جو انہیں غزوۂ خندق میں لگا تھا۔ صحیح بخاری بازو کی درمیانی رگ کے زخم اور بعد میں مہلک خون بہنے کو بیان کرتی ہے۔ کلاسیکی زمانی ترتیب ان کی وفات بنو قریظہ کی تحکیم کے کچھ ہی عرصے بعد، تقریباً ذوالقعدہ کے آخر یا ذوالحجہ ۵ ہجری کے آغاز میں رکھتی ہے۔ مشہور سوانحی روایت میں ان کی عمر تقریباً سینتیس سال بیان ہوئی ہے، مگر وفات کا عین دن معتبر طور پر ثابت نہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

مقام کی نوعیت: مشترک قبرستان سے نسبت ثابت؛ انفرادی قبر کا عین نقطہ ثابت نہیں۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنت البقیع، مدینہ منورہ میں مدفون ہوئے۔ ابن سعد اور ذہبی ایسی روایات نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور صحابہ نے وہاں ان کی تدفین میں حصہ لیا۔ قبرستان کی شناخت مضبوط ہے، مگر کوئی معتبر جدید شہادت جنت البقیع کے اندر سعد رضی اللہ عنہ کی انفرادی قبر کی درست جگہ متعین نہیں کرتی۔ اس پروفائل میں کسی بھی منظم نقشہ جاتی حوالہ کو صرف جنت البقیع کے مشترک قبرستانی مقام کی نمائندگی کرنی چاہیے، سعد رضی اللہ عنہ کی عین قبر کی نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ قبیلہ اوس کے انصاری رہنما اور بالخصوص بنو عبد الاشہل کے سردار تھے۔ عموماً ان کی شناخت سعد بن معاذ بن نعمان اور کنیت ابو عمرو کے ساتھ کی جاتی ہے۔ مدینہ میں ان کی سماجی حیثیت اسلام سے پہلے بھی قائم تھی، اور بعد کے مسلم مصادر انہیں اوس کے بڑے سرداروں میں شمار کرتے ہیں۔

ان کا قریبی خاندان غیر معمولی طور پر اچھی طرح محفوظ ہے۔ والد معاذ بن نعمان، والدہ کبشہ بنت رافع، اور ابن سعد کے مطابق زوجہ ہند بنت سماک بن عتیک تھیں۔ دو بیٹوں، عمرو اور عبد اللہ، کے نام معتبر طور پر ثابت ہیں۔ بیٹیوں کی کوئی مکمل فہرست ثابت نہیں ہوئی۔

سعد رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہجرت سے پہلے یثرب میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی فیصلہ کن دعوت سے وابستہ ہے۔ کلاسیکی سیرت میں اسید بن حضیر اور سعد کے مصعب کی تعلیم سننے، اسلام قبول کرنے، اور پھر سعد کے اپنی قوم سے خطاب کرنے کا ذکر ہے۔ روایت کے مطابق ان کے اسلام کے بعد بنو عبد الاشہل نے بڑے پیمانے پر اسلام قبول کیا۔ عین الفاظ سیرت کی روایتی نقل سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن قبولِ اسلام کا ماحول اور اس کے بعد سعد کا قائدانہ کردار کلاسیکی تراجم میں مضبوط طور پر قائم ہے۔

ان کے اسلام لانے نے ہجرتِ نبوی سے پہلے مدنی معاشرے کے توازن کو بدلنے میں مدد دی۔ اوس کے بڑے رہنما کی حیثیت سے سعد رضی اللہ عنہ نے ابھرتی ہوئی مسلم جماعت کو سماجی قوت فراہم کی اور شہر کے مرکزی انصاری رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔

کلاسیکی کتبِ تراجم سعد رضی اللہ عنہ کی بدر، احد اور غزوۂ خندق میں شرکت بیان کرتی ہیں۔ ان معرکوں میں شرکت انصار میں ان کی قیادت اور مدینہ کی دفاعی جدوجہد میں ان کے براہِ راست کردار دونوں کی عکاسی کرتی ہے۔

غزوۂ خندق ان کی زندگی کے آخری دور کا سب سے شدید بحران تھا۔ ایک بڑی اتحادی فوج مدینہ کے خلاف جمع ہوئی، جبکہ خندق نے کھلے رخ سے دشمن کے پیادہ اور سوار دستوں کا داخلہ روک دیا۔ قرآن اس موقع کو نہایت مؤثر الفاظ میں بیان کرتا ہے: دشمن مختلف سمتوں سے آئے، نگاہیں خوف سے پھر گئیں، دل حلق تک پہنچ گئے اور مومن ایک سخت آزمائش میں ڈال کر بری طرح جھنجھوڑ دیے گئے۔

یہ مشکل صرف ذہنی خوف نہیں تھی بلکہ جسمانی مشقت بھی تھی۔ صحیح بخاری بیان کرتی ہے کہ مہاجرین اور انصار سرد صبح میں خندق کھود رہے تھے اور تھکن و بھوک کا شکار تھے۔ ایک دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے دوران رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے کچھ نہ کھانے کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا۔ یوں مدافعین کو سردی، سخت مزدوری، خوراک کی قلت اور مسلسل فوجی نگرانی ایک ساتھ برداشت کرنا پڑ رہی تھی۔

کلاسیکی تفسیر قرآن کے بیان کردہ خوف کے پیچھے ایک اور سنگین عسکری خطرہ بھی واضح کرتی ہے۔ بنو قریظہ کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ تھا اور ان کے قلعے مدینہ کی دوسری سمت واقع تھے۔ ابن کثیر کے مطابق محاصرے کے دوران انہوں نے معاہدہ توڑ کر احزاب کی مدد کی۔ جب بڑی دشمن فوج پہلے ہی خندق کے سامنے موجود تھی اور عورتیں اور بچے شہر کے محفوظ حصوں میں تھے، تو دوسری سمت سے دشمنی کا امکان اس بحران کو کہیں زیادہ خطرناک بنا دیتا تھا۔

اسی غزوۂ خندق میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو تیر لگا جو ان کے بازو کی درمیانی رگ میں پیوست ہوا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں ان کے لیے خیمہ قائم کروایا تاکہ قریب رہ کر ان کی عیادت اور نگہداشت کی جا سکے۔ زخم شدید رہا اور بعد میں یہی ان کی وفات کا براہِ راست سبب بنا۔

احزاب کی فوج کے واپس چلے جانے سے مدینہ کا بیرونی محاصرہ ختم ہوا، لیکن بنو قریظہ کا معاملہ باقی تھا۔ قرآن ۳۳:۲۶–۲۷ اہلِ کتاب کے اس گروہ کے انجام کا ذکر کرتا ہے جس نے احزاب کی مدد کی، اگرچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتا۔ بعد میں بنو قریظہ کا محاصرہ ہوا اور آخرکار انہوں نے ہتھیار ڈال کر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو قبول کیا۔ کلاسیکی مصادر بتاتے ہیں کہ بنو قریظہ جاہلیت کے زمانے سے اوس کے حلیف تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ اوس کے سردار تھے، اس لیے ان کا معاملہ سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے لانا اس وقت کے قبائلی تعلقات کے لحاظ سے قابلِ فہم تھا۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اسی حالت میں لایا گیا جب وہ خندق کے زخم سے متاثر تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ، پھر بتایا کہ بنو قریظہ ان کے فیصلے پر اترے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ بنو قریظہ کے جنگجو قتل کیے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس فیصلے کی توثیق فرمائی۔ اس فیصلے کو اسی مکمل ترتیب کے اندر سمجھنا زیادہ واضح ہے: مدینہ ایک بڑی اتحادی فوج کے محاصرے میں تھا، اہلِ مدینہ خوف، بھوک اور تھکن کا سامنا کر رہے تھے، اسی جنگی بحران میں ایک موجود معاہدہ ٹوٹا، پھر بیرونی لشکر واپس گیا، بنو قریظہ نے ہتھیار ڈالے اور انہوں نے خود سعد رضی اللہ عنہ کی تحکیم قبول کی۔ مضبوط ترین حدیثی تعبیر جنگجوؤں کے بارے میں ہے؛ بعد کی عددی روایات اس بنیادی واقعے کو سمجھنے کے لیے ضروری نہیں۔

سعد رضی اللہ عنہ کا زخم مستقل طور پر مندمل نہ ہوا۔ صحیح بخاری مسلسل خون بہنے کا ذکر کرتی ہے، اور کلاسیکی تاریخ ان کی وفات کو بنو قریظہ کے فیصلے کے کچھ ہی عرصے بعد ۵ ہجری میں رکھتی ہے۔ یوں خندق میں لگا یہی زخم ان کی وفات کا براہِ راست سبب بنا۔

ان کی وفات سے وابستہ سب سے مشہور روایت صحیح بخاری میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذ کی وفات پر عرشِ رحمان ہل اٹھا۔ ترمذی اسی مضمون کی جنازے کے سیاق والی روایت نقل کرتے اور اسے حسن صحیح قرار دیتے ہیں۔ یہ روایت سعد رضی اللہ عنہ کے فضائل کی معتبر حدیثی روایت کا حصہ ہے اور اسے محض بعد کی صوفیانہ یا اولیائی حکایت نہیں سمجھنا چاہیے۔

کلاسیکی سوانحی ادب ان کی عمرِ وفات تقریباً سینتیس سال بھی نقل کرتا ہے۔ اس سے صرف ہجرت سے پہلے کی تقریبی پیدائش کا اندازہ ہو سکتا ہے؛ اسے جدید تقویم کی کسی قطعی تاریخِ پیدائش میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ صحابہ کے درمیان ایک بڑا اجتماعی واقعہ یاد کیا گیا۔ ابن سعد اور ذہبی ایسی روایات نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور صحابہ نے تدفین کی تیاری اور قبر میں اترنے میں حصہ لیا۔

ان کی تدفین جنت البقیع، مدینہ منورہ، سے مضبوط طور پر ثابت ہے۔ یہ قبرستانی نسبت متعدد کلاسیکی روایات سے پختہ ہے اور کسی موجودہ انفرادی نشان زدہ قبر کے دعوے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

زیرِ نظر مصادر سے جنت البقیع کے اندر سعد رضی اللہ عنہ کی قبر کا عین نقطہ قابلِ اعتماد طور پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخی طور پر ذمہ دار نتیجہ یہی ہے: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنت البقیع میں مدفون ہوئے، مگر ان کی انفرادی قبر کی ٹھیک جگہ غیر متعین ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تاریخی اہمیت کا ایک سبب یہ ہے کہ ان کے قبولِ اسلام نے ہجرت سے پہلے یثرب کی مذہبی اور سیاسی ساخت کو بدلنے میں مدد دی۔ اوس کے بڑے رہنما اور بنو عبد الاشہل کے سردار کی حیثیت سے ان کے اسلام نے ابتدائی مسلم جماعت کو طاقتور سماجی پشت پناہی دی اور ان کی قوم میں اسلام کے پھیلاؤ کو تیز کیا۔

بدر، احد اور خندق میں ان کی شرکت نے انہیں مدنی دور کی بڑی عسکری کشمکشوں کے مرکز میں رکھا۔ خاص طور پر خندق ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے فیصلہ کن ہے: قرآن شدید خوف کی تصویر پیش کرتا ہے، جبکہ صحیح احادیث مدافعین کی بھوک، سردی اور تھکن کو محفوظ کرتی ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا اپنا شدید زخم بھی اسی دفاع کے دوران لگا، اس لیے ان کی آخری سوانح براہِ راست محاصرۂ مدینہ کے بحران سے جڑی ہوئی ہے۔

بنو قریظہ کی تحکیم کو اسی جنگی بحران کے بعد کے مرحلے کے طور پر سمجھنا چاہیے، کسی الگ تھلگ عدالتی واقعے کے طور پر نہیں۔ کلاسیکی تفسیر ان کے معاہدہ توڑنے کو احزاب کے محاصرے کے اندر رکھتی ہے، جبکہ بخاری و مسلم ان کے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے اور جنگجوؤں و اہل و عیال کے بارے میں سعد کے فیصلے کو براہِ راست ثابت کرتی ہیں۔ اس ترتیب میں واقعہ پڑھنے سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے کردار اور فیصلے کی تاریخی سنگینی کہیں زیادہ واضح ہوتی ہے۔

ان کی وفات پر عرشِ رحمان کے ہلنے کی روایت سعد رضی اللہ عنہ کو صحابہ کے فضائل کی معتبر حدیثی روایت میں منفرد مقام دیتی ہے۔ چونکہ یہ الفاظ صحیح بخاری میں محفوظ اور دیگر مصادر سے مؤید ہیں، اس لیے یہ ان کی بعد از وفات یادداشت کے مضبوط ترین ماخذی درجے سے تعلق رکھتے ہیں۔

آخر میں، جنت البقیع میں ان کی ثابت شدہ تدفین انہیں مدینہ کے اولین مقدس قبرستان سے جوڑتی ہے۔ آج ان کی انفرادی قبر کا عین نقطہ معلوم نہ ہونا بذاتِ خود تاریخی طور پر اہم ہے: مشترک قبرستان سے نسبت یقینی ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کے اندر کسی ایک شخص کی قبر کی جگہ وقت کے ساتھ گم ہو جائے۔

خاندانی روابط

ماخذ

The Qur'an | Revelation of Allah | Surah al-Ahzab 33:26-27 | https://quran.com/33/26-27 | بنو قریظہ کے واقعے کا قرآنی سیاق؛ آیات میں سعد رضی اللہ عنہ کا نام نہیں
Jami' al-Bayan an Ta'wil Ay al-Qur'an | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Tafsir of Qur'an 33:26 | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura33-aya26.html | بنو قریظہ کی شناخت اور ان کے فیصلے کو سعد بن معاذ کے سپرد کرنے کی صریح روایت
Tafsir al-Qur'an al-Azim | Isma'il ibn Umar Ibn Kathir | Tafsir of Qur'an 33:26 | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura33-aya26.html | بنو قریظہ، سعد کے زخم، دعا اور تحکیم کا کلاسیکی تفسیری سیاق
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 463, Book of Prayer | https://sunnah.com/bukhari:463 | سعد کے خندق والے زخم، مسجد کے خیمے میں علاج اور مہلک خون بہنے کی صحیح روایت
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3043, Book of Jihad | https://sunnah.com/bukhari:3043 | بنو قریظہ کا سعد کے فیصلے کو قبول کرنا؛ رسول اللہ ﷺ کا انصار کو اپنے سردار کے لیے کھڑے ہونے کا فرمان اور سعد کے حکم کی توثیق
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 4121, Book of Maghazi | https://sunnah.com/bukhari:4121 | بنو قریظہ کی تحکیم کو غزوۂ احزاب کے بعد کے مرحلے میں رکھنے والی بخاری کی مستقل روایت
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 1768a, Book of Jihad and Expeditions | https://sunnah.com/muslim:1768a | بنو قریظہ کے ہتھیار ڈالنے اور سعد کے فیصلے کی مستقل صحیح مسلم روایت
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3803, Merits of the Ansar | https://sunnah.com/bukhari:3803 | اس واقعے کی اعلیٰ درجے کی اصل: رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہ سعد کی وفات پر عرشِ رحمان ہل اٹھا
Jami' al-Tirmidhi | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Hadith 3848, Virtues of Sa'd ibn Mu'adh | https://sunnah.com/tirmidhi:3848 | عرش والی روایت کا جنازے کے سیاق میں مؤید متن؛ ترمذی نے حسن صحیح کہا
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | Vol. 10, p. 301, entry 2225 | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/2388/ | درست نسب، ابو عمرو کنیت، اوس کی قیادت، والدہ کبشہ، قبولِ اسلام، بدر/احد/خندق اور وفات
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Sa'd ibn Mu'adh biography | https://islamweb.net/ar/library/content/60/6297/ | مصعب کے ذریعے اسلام، بنو عبد الاشہل میں اسلام کا پھیلاؤ، خاندان، عسکری زندگی، وفات اور تدفین کا مجموعی بیان
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Companion volume, Sa'd ibn Mu'adh, around pp. 289-290 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/68/ | ابن سعد/واقدی سے عمر، نبوی نمازِ جنازہ اور البقیع میں صریح تدفین
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 2, p. 603, entry 958 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/979/ | صحابی کی سوانح: نسب، والدہ، مصعب کے ذریعے اسلام، بدر/احد/خندق اور زخم سے وفات
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Vol. 3, displayed p. 321 | https://ablibrary.net/book_content/b/17773/321 | زوجہ ہند بنت سماک، بیٹے عمرو و عبد اللہ، خاندانی تسلسل اور مصعب کے ذریعے اسلام
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Women's section, Hind bint Simak, displayed p. 247 | https://www.masaha.org/book/view/2061/page/247 | ہند کا سعد سے نکاح، اس سے پہلے اوس سے نکاح، اور بیٹوں عمرو و عبد اللہ کی مستقل تصدیق
Al-Bidaya wa al-Nihaya | Isma'il ibn Umar Ibn Kathir | Year 5 AH, death of Sa'd ibn Mu'adh | https://islamweb.net/ar/library/content/59/350/ | احزاب/قریظہ کے بعد ۵ ہجری میں وفات اور کلاسیکی جنازہ و وفات کا سیاق
Al-Bidaya wa al-Nihaya | Isma'il ibn Umar Ibn Kathir | Beginning of Islam of the Ansar | https://www.islamweb.net/amp/ar/library/content/59/220/ | مصعب، اسید اور سعد کے اسلام کی تفصیلی ابن اسحاقی روایت
Sahih/Rijal narrator dossier | Sunnah.com | Sa'd ibn Mu'adh narrator 17772 | https://sunnah.com/narrator/17772 | شناخت، والدہ، غزوات، مہلک زخم، بنو قریظہ اور صحیح روایات کا مجموعی رجال مواد
Project Miracle Master Person Map | Internal project registry | CAND-0098 / PER-000401 | internal project registry | پروجیکٹ میں سعد بن معاذ اور ان کی وفات پر عرش ہلنے والی نبوی روایت کی قطعی شناختی mapping
Project Jannat al-Baqi cemetery anchor | PERSON-V4 geography standard | Jannat al-Baqi shared cemetery point | https://www.google.com/maps?q=24.467120610807285,39.61336728379692 | صرف جنت البقیع کا مشترک قبرستانی anchor؛ کسی انفرادی قبر کے عین coordinates نہیں
The Qur'an | Revelation of Allah | Surah al-Ahzab 33:10-12 | https://quran.com/33/10-12 | describes the fear, surrounding pressure and severe testing during the Confederates' siege of Madinah
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 4099, Book of Maghazi | https://sunnah.com/bukhari:4099 | cold, exhaustion and hunger while the Muhajirun and Ansar dug the trench
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 4101, Book of Maghazi | https://sunnah.com/bukhari:4101 | Jabir reports three days without food during the trench digging and the Prophet tying a stone to his stomach
Tafsir al-Qur'an al-Azim | Isma'il ibn Umar Ibn Kathir | Tafsir of Qur'an 33:10 and 33:26 | https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura33-aya10.html ; https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura33-aya26.html | classical context for the Confederates' siege, Banu Qurayza treaty-breaking and subsequent arbitration

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔