حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد میں ۳ ہجری / ۶۲۵ عیسوی میں شہید ہوئے۔ جسمانی لنگڑاہٹ کے باعث انہیں شرعی رخصت حاصل تھی، مگر روایات بتاتی ہیں کہ انہوں نے شرکت کی شدید خواہش ظاہر کی اور میدان میں نکلے۔ اُحد میں ان کے بیٹے خلاد بھی شہید ہوئے۔ سیرت اور تاریخی مصادر عمرو کی شہادت کو قطعی طور پر اُحد کے شہداء کے ساتھ رکھتے ہیں، جبکہ ان کی وفات کے لیے اس سے الگ کسی بعد کی تاریخ کی معتبر بنیاد نہیں ملتی۔
حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ
Amr ibn al-Jamuh's lineage is given as Amr ibn al-Jamuh ibn Zayd ibn Haram ibn Ka'b ibn Ghanm ibn Ka'b ibn Salimah, continuing through the Khazraj. He belonged to the Ansar, the Khazraj, Banu Salimah and its Banu Ghanm branch, and classical biography remembers him among the influential elders of his people. His wife was Hind bint Amr ibn Haram, sister of Abd Allah ibn Amr ibn Haram. Ibn Sa'd explicitly states the marriage, while the maghazi tradition likewise presents Hind after Uhud as Amr's wife, Khallad's mother and Abd Allah's sister. Classical biographical material names four sons—Mu'adh, Mu'awwidh, Khallad and Abd al-Rahman—and one daughter, Hind. No certain permanent registry codes for these relatives were recovered from the available project material, so no relationship code has been invented. The Uhud material further clarifies the family network: Khallad was martyred with his father Amr, while Hind bint Amr ibn Haram appears in the narrative carrying the bodies of her husband Amr, her son Khallad and her brother Abd Allah ibn Amr ibn Haram.
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
قدیم اور کلاسیکی روایت اس بات پر مضبوط ہے کہ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کو اُحد کے بعد ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ اہلِ سیر و آثار کے ہاں ان دونوں کی اُحد میں شہادت اور ایک قبر میں تدفین پر اختلاف نہیں۔ موطا میں ایک بلاغی روایت ہے کہ کئی دہائیوں بعد سیلاب کے خطرے کی وجہ سے دونوں کو منتقل کرنے کے لیے قبر کھولی گئی اور اجساد میں غیر معمولی حفاظت دیکھی گئی؛ ابن عبدالبر اس روایت کے معنی کو متعدد صحیح طرق سے متصل قرار دیتے ہیں۔ اس جزئی واقعے کو ماخذ کے اسی درجے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ قبرستانِ شہدائے اُحد تاریخی طور پر اسی میدانِ شہادت کا محفوظ اجتماعی مقام ہے۔ جدید تحقیقی ریکارڈ زیادہ تر شہداء کی انفرادی قبروں کی یقینی شناخت نہیں کرتا، اس لیے محفوظ نقشہ جاتی مقام صرف مشترک قبرستان کو ظاہر کرتا ہے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی مخصوص قبر کو نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
یثرب میں اسلام کے وسیع پھیلاؤ سے پہلے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ ایک بااثر قبائلی بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ابن اسحاق کی سیرت کی روایت کے مطابق ان کے گھر میں لکڑی کا ایک بت تھا جسے ابن ہشام کی روایت میں منات کہا گیا ہے، اور وہ اسے صاف کرتے اور تعظیم دیتے تھے۔ بنو سلمہ کے نوجوان مسلمانوں، جن میں ان کے بیٹے معاذ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نے رات کے وقت کئی مرتبہ اس بت کو اٹھا کر گندگی کے گڑھے میں پھینک دیا۔ یہ واقعہ سخت حدیثی معیار والی کتاب کے بجائے قدیم سیرت کی روایت ہے، مگر ان کے آبائی عبادتی نظام سے اسلام تک پہنچنے کی بنیادی تاریخی حکایت اسی سے محفوظ ہوئی ہے۔
اسی سیرتی بیان میں ان کا قبولِ اسلام اس اختیار سے علیحدگی کے طور پر سامنے آتا ہے جو وہ پہلے بت کے لیے مانتے تھے۔ جب وہ شے نہ اپنی حفاظت کر سکی اور نہ بار بار ہونے والی بے حرمتی روک سکی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے معبودِ باطل کی کمزوری کو پہچانا اور اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعے کی تاریخی اہمیت محض تمسخر میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ایک نمایاں بزرگ نے دلیل اور مدینہ میں پہنچنے والے قرآنی پیغام کو رسم، مرتبے اور عادت پر غالب آنے دیا۔ ان کے اسلام سے بنو سلمہ کے اندر مسلم جماعت کو بھی تقویت ملی، کیونکہ وہ قبیلے کے محترم رہنماؤں میں سے تھے۔
ان کا گھرانہ مدینہ کی پہلی مسلم نسل کے متعدد سرگرم افراد سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ سوانحی مآخذ ان کے بیٹوں معاذ، معوذ اور خلاد کو ابتدائی معرکوں سے وابستہ کرتے ہیں، جبکہ خلاد رضی اللہ عنہ بعد میں اپنے والد کے ساتھ اُحد میں شہید ہوئے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہند بنت عمرو بن حرام، حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کی بہن اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد کی بہن تھیں۔ یہی نکاحی رشتہ واضح کرتا ہے کہ مآخذ حضرت عمرو اور حضرت عبداللہ کو باہم برادرِ نسبتی کیوں کہتے ہیں اور مشترک تدفین کی روایت میں دونوں کی درست شناخت کیسے ہوتی ہے۔
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو نمایاں لنگڑاہٹ تھی۔ جسمانی عذر کی وجہ سے ان پر جہاد لازم نہ تھا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے بیٹوں نے انہیں لشکر میں جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان کے بیٹے انہیں روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اسی معذور ٹانگ کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شرعی عذر کو تسلیم فرمایا، لیکن بیٹوں سے کہا کہ انہیں نہ روکیں، شاید اللہ تعالیٰ انہیں شہادت عطا فرمائے۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مسند احمد میں منقول روایت میں حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جائیں تو کیا جنت میں اپنی اسی ٹانگ کے ساتھ صحیح حالت میں چلیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا، اور شہادت کے بعد ان کے جنت میں درست ٹانگ کے ساتھ چلنے کا ذکر منقول ہے۔ ہیثمی نے بتایا کہ احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، سوائے یحییٰ بن نصر انصاری کے جنہیں ابن حبان نے ثقہ کہا، جبکہ ابن حجر اور شعیب ارناؤوط نے سند کو حسن قرار دیا۔ اسی روایت کے بعض الفاظ میں ایک شریکِ تدفین کو “بھتیجا” کہا گیا ہے، مگر ابن عبد البر نے اسے “چچا زاد” کی تصحیح کے ساتھ نقل کیا؛ اس جزوی نسبی اختلاف کو دوسری مستقل تدفینی روایات پر غالب نہیں کرنا چاہیے۔
سنہ ۳ ہجری میں غزوۂ اُحد کے موقع پر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس رخصت کے باوجود میدان میں گئے جو ان کے لیے موجود تھی۔ مآخذ اسے اسلامی آسانی کے انکار کے طور پر نہیں، بلکہ شرعی معافی کے صاف اعتراف کے بعد ان کے اختیاری فیصلے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ وہ جنگ میں شہید ہوئے اور ان کے بیٹے خلاد رضی اللہ عنہ بھی شہداء میں شامل تھے۔ ان کی آخری زندگی کا سب سے مضبوطی سے محفوظ واقعہ یہی ہے کہ ایک عمر رسیدہ قبائلی رہنما، جسے جسمانی عذر کے باعث پیچھے رہنے کی پوری اجازت تھی، اپنے بیٹوں اور جماعت کے ساتھ خطرہ بانٹنے کے لیے آگے بڑھا۔
سیرت کی روایات یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حضرت عمرو، اپنے بھائی حضرت عبداللہ اور اپنے بیٹے خلاد رضی اللہ عنہم کے اجساد مدینہ کی طرف لے جانے کی کوشش کی، مگر بعد میں شہداء کو میدانِ اُحد کے علاقے میں تدفین کے لیے واپس لایا گیا۔ اس نقل و حمل کی تفصیلات تاریخی روایتی ذرائع سے آتی ہیں اور انہیں مضبوط ترین حدیثی ثبوت سے الگ درجے پر رکھنا چاہیے۔ تاہم مجموعی نتیجہ ثابت شدہ طریقۂ اُحد سے ہم آہنگ ہے: شہداء کو مقامِ شہادت پر دفن کیا گیا اور شدید حالات کے باعث ایک قبر میں ایک سے زیادہ شہداء رکھے گئے۔
امام مالک کی موطأ میں منقول ہے کہ حضرت عمرو بن جموح اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما، جو بنو سلمہ کے انصاری اور شہدائے اُحد تھے، سیلابی گزرگاہ کے قریب ایک ہی قبر میں تھے۔ ابن عبدالبر نے لکھا کہ اس روایت کا مفہوم صحیح متصل طرق سے ثابت ہے اور اہلِ سیر و آثار میں اس بات پر اختلاف نہیں کہ دونوں اُحد میں شہید ہوئے، ایک قبر میں دفن کیے گئے اور باہم صہری رشتہ رکھتے تھے۔ یہ شہدائے اُحد کے مقام میں تدفین اور قدیم زمانے کی مشترک قبر کو ثابت کرتا ہے، مگر آج کسی مخصوص نظر آنے والی قبر کی شناخت خود بخود ثابت نہیں کرتا۔
موطأ کی اسی روایت میں بتایا گیا ہے کہ بعد میں سیلاب نے قبر کو متاثر کیا، دونوں اجساد کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے نکالا گیا اور انہیں ایسا پایا گیا جیسے وفات حال ہی میں ہوئی ہو؛ اُحد اور اس واقعے کے درمیان چھیالیس سال کا فاصلہ بیان کیا گیا ہے۔ موطأ میں یہ خبر بلاغ، یعنی مکمل متصل سند کے بغیر، منقول ہے۔ ابن عبد البر نے اس کے معنی کو متعدد صحیح طرق سے متصل کہا، جبکہ شعیب ارناؤوط نے رجال کو ثقہ مگر روایت کو مرسل قرار دیا۔ اس لیے چھیالیس سال اور اجساد کی حالت کو منقول تاریخی خبر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جدید طبی یا عدالتی مشاہدے کے طور پر نہیں۔
موجودہ مقبرۂ شہدائے اُحد جبل اُحد اور جبل الرماۃ کے درمیان معروف تاریخی قبرستان ہے۔ مدینہ کے تحقیقی مرکز کے مطابق شہداء کو میدانِ جنگ میں دفن کیا گیا، اور حضرت حمزہ اور حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہما سے منسوب تاریخی قبر کے سوا باقی شہداء کی انفرادی قبریں قابلِ اعتماد طور پر متعین نہیں؛ احاطے میں موجود بعض پتھروں کو صرف قبروں کی نشانیاں کہا جاتا ہے۔ قبرستان اور اس کی حدود میں مختلف ادوار میں تبدیلیاں بھی ہوئیں۔ لہٰذا کسی موجودہ پتھر، عمومی مقام یا زائرین کی روایت کو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی عین قبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کی سوانح قبولِ اسلام، خاندانی قیادت، جسمانی معذوری، اختیاری خدمت اور اُحد کی اجتماعی یاد کو یکجا کرتی ہے۔ مضبوط ترین نتیجہ یہ ہے کہ وہ انصاری سردار تھے، بنو سلمہ میں اسلام کے پھیلنے کے بعد مسلمان ہوئے، لنگڑاہٹ کے باوجود جنگ کی اجازت چاہی، سنہ ۳ ہجری میں اُحد میں شہید ہوئے اور اپنے برادرِ نسبتی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہداء کی تدفینی جگہ میں دفن کیے گئے۔ ان کی عین موجودہ قبر قابلِ اعتماد طور پر شناخت نہیں ہوتی؛ تاریخی نسبت اجتماعی قبرستان سے ہے، کسی ثابت شدہ انفرادی مزار سے نہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کی سوانح عہدِ نبوی میں جسمانی معذوری کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔ شرعی رخصت کی نفی نہیں ہوئی بلکہ اس کی تصدیق کی گئی، پھر بھی حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو اختیاری فیصلہ کرنے کی اجازت ملی۔ یوں یہ واقعہ آسانی اور شخصی اختیار دونوں کو محفوظ کرتا ہے؛ یہ تعلیم نہیں دیتا کہ ہر معذور شخص لازماً ان کے فیصلے کی نقل کرے یا جائز رخصت چھوڑ دے۔
ان کی شہادت اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشترک تدفین اُحد کے ہنگامی تدفینی طریقے کی شہادت محفوظ کرتی ہے۔ امام مالک کی روایت اور ابن عبدالبر کی بحث سوانح کو اس فقہی تاریخ سے جوڑتی ہے کہ ضرورت کے وقت ایک قبر میں ایک سے زیادہ اموات کو دفن کیا جا سکتا ہے۔ بعد کے سیلاب اور اجساد نکالے جانے کی روایت یہ بھی دکھاتی ہے کہ طبیعی منظرنامے نے شہداء کے مدفن کو کیسے متاثر کیا۔
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی تدفین تاریخی ثبوت میں احتیاط کی نمایاں مثال ہے۔ شہدائے اُحد کے علاقے میں ان کی تدفین اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ قدیم مشترک قبر مضبوط طور پر منقول ہے، مگر آج وہ عین انفرادی یا مشترک قبر قابلِ اعتماد طور پر شناخت نہیں ہوتی۔ اجتماعی قبرستان، موجودہ پتھر یا عمومی مقام کو کسی مخصوص باقی ماندہ مزار کا ثبوت بنانا درست نہیں۔
خاندانی روابط
ماخذ
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 1, pp. 253-255, Amr ibn al-Jamuh entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/55/%D8%B9%D9%85%D8%B1%D9%88-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D9%88%D8%AD | مستحکم نسب، بنو سلمہ میں قیادت، معاذ، معوذ، خلاد، عبدالرحمن اور ہند کے نام؛ قبول اسلام اور اُحد کا موادAl-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Women's section, displayed p. 293, entry 4496 | https://ablibrary.net/book_content/b/17778/293 | ہند بنت عمرو بن حرام کے عمرو بن جموح سے نکاح کی صریح تصریح
Al-Sira al-Nabawiyya | Ibn Hisham | Vol. 1, displayed pp. 453-454, story of Amr's idol | https://www.islamweb.net/ar/library/content/58/529/%D9%82%D8%B5%D8%A9-%D8%B5%D9%86%D9%85-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D9%88-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D9%88%D8%AD | گھر کے بت منات اور عمرو کے قبولِ اسلام کی قدیم سیرتی روایت
Sahih Ibn Hibban | Ibn Hibban; ed. Shu'ayb al-Arna'ut | Hadith 7024; Vol. 15 p. 493 | https://dorar.net/h/2sG1RtNr?osoul=1 | اُحد میں عمرو کے عزم اور لنگڑاہٹ کے ساتھ جنت میں چلنے کی روایت؛ شعیب ارناؤوط نے سند کو جید کہا
Subul al-Huda wa al-Rashad | Muhammad ibn Yusuf al-Salihi al-Shami | Vol. 4, displayed pp. 214-215 | https://islamweb.net/ar/library/content/420/816/%D8%B0%D9%83%D8%B1-%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D9%88-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D9%88%D8%AD-%D9%88%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%A8%D9%86-%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%85-%D8%B1%D8%B6%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%B9%D9%86%D9%87%D9%85%D8%A7 | شدید لنگڑاہٹ، چار بیٹوں، خلاد کی شہادت اور ہند کے شوہر، بیٹے اور بھائی کے اجساد اٹھانے کی بعد کی سیرتی جمع
Al-Sira al-Nabawiyya | Ibn Hisham | Vol. 2, Uhud martyrs section; pagination varies by edition | https://islamweb.net/ar/library/content/58/1020/%D8%B0%D9%83%D8%B1-%D9%85%D9%86-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B4%D9%87%D8%AF-%D8%A8%D8%A3%D8%AD%D8%AF-%D9%85%D9%86-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%87%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D9%8A%D9%86 | اُحد کے شہداء کی فہرست؛ عمرو اور عبداللہ بن عمرو بن حرام کی مشترک تدفین؛ خلاد بھی بنو سلمہ کے شہداء میں
Al-Muwatta | Malik ibn Anas | Kitab al-Jihad, burial in one grave; numbering varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/7/1085/ | مشترک قبر اور بعد میں سیلاب کے خطرے کے سبب قبر کھولنے کی بلاغی روایت
Al-Istidhkar | Ibn Abd al-Barr | Vol. 14, displayed pp. 342-343 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/93/1837/%D8%AD%D8%AF%D9%8A%D8%AB-%D8%AF%D9%81%D9%86-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D9%88-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D9%88%D8%AD-%D9%88%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D9%88-%D8%A7%D9%84%D8%A3%D9%86%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%8A-%D9%81%D9%8A-%D9%82%D8%A8%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF | ابن عبدالبر کی تصریح کہ مشترک تدفین کا مفہوم صحیح طرق سے متصل ہے اور اہل سیر کے ہاں اصل واقعہ غیر مختلف ہے
Ma'alim al-Madinah al-Munawwarah | Madinah Research and Studies Center | Uhud Martyrs Cemetery entry; web page | https://mawsuea.mrsc.org.sa/ar/milestones/141 | قبرستانِ شہدائے اُحد کی موجودہ جغرافیہ اور تاریخی ارتقا؛ زیادہ تر انفرادی قبروں کی قابل اعتماد شناخت نہیں
Saudi Memory | Saudi Memory | Uhud Martyrs Cemetery site entry 168; current map locator | https://saudimemory.com/sites/168 | منظم مقام کی تصدیق کے لیے موجودہ مشترک قبرستان کا نقشہ جاتی حوالہ، کسی انفرادی قبر کے لیے نہیں
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔