شیخ ابوالحسن سری بن مغلس سقطی رحمۃ اللہ علیہ

His securely preserved name is Sari ibn al-Mughallis al-Saqati, so al-Mughallis is retained structurally as his father. No reliable name for his mother or spouse is established in the sources used here. Tarikh Baghdad contains a separate entry for Ibrahim ibn al-Sari ibn al-Mughallis al-Saqati, who transmits sayings from his father; Ibrahim is therefore recorded as a confirmed son. Classical sources describe Junayd al-Baghdadi as Sari's nephew and disciple, but the name of Junayd's mother, Sari's sister, is not securely preserved.

PER-001684 متعین نہیں مصدقہ مقامِ تدفین نامعلوم مختلف مآخذ سے تائید
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
شیخ ابوالحسن سری بن مغلس سقطی رحمۃ اللہ علیہ ابتدائی بغداد کے نمایاں صوفی، زاہد، تاجر اور حدیث کے راوی تھے۔ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت، حلال کمائی اور محاسبۂ نفس پر سخت زور، اور اپنے بھانجے و شاگرد جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت نے انہیں بغداد کے ابتدائی صوفی مکتب میں مرکزی مقام دیا۔ ان کے بیٹے ابراہیم بن سری کا وجود تاریخ بغداد اور حلیۃ الاولیاء میں مستقل طور پر ثابت ہے۔ خطیب بغدادی کے دقیق بیان کے مطابق ان کی وفات ۶ رمضان ۲۵۳ھ کو بغداد میں ہوئی اور انہیں شونیزیہ قبرستان میں دفن کیا گیا، جہاں ان کی معروف قبر کے قریب جنید کی قبر بھی واقع ہوئی۔
ولادت

پیدائش کی دقیق تاریخ قطعی نہیں۔ ترکی دائرۂ معارفِ اسلامیہ ۱۵۵ھ/۷۷۲ء اور بغداد کے کرخ کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ ذہبی «حدود ۱۶۰ھ» لکھتے ہیں۔ اس لیے پیدائش کو تقریباً دوسری صدی ہجری کے وسط کے قریب ماننا زیادہ محفوظ ہے۔

وفات

خطیب بغدادی کے نہایت دقیق بیان کے مطابق سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ منگل کے روز، ۶ رمضان ۲۵۳ھ، اذانِ فجر کے بعد بغداد میں وفات پا گئے اور اسی روز عصر کے بعد دفن ہوئے۔ بعض بعد کے مراجع ۲۵۱ھ بھی دیتے ہیں، مگر اس ملف میں خطیب بغدادی کی عینی زمانے سے قریب اور تفصیلی روایت کو بنیادی تاریخ رکھا گیا ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کو بغداد کے مقبرہ شونیزیہ میں دفن کیا گیا۔ تاریخ بغداد صاف لکھتی ہے کہ ان کی قبر ظاہر اور معروف تھی اور اس کے پہلو میں جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر تھی۔ جامعہ بغداد کی جدید علمی تحقیق بھی شونیزیہ کبریٰ کو سری سقطی، جنید اور دوسرے زہاد و اہلِ علم کی تاریخی تدفین گاہ کے طور پر شناخت کرتی ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

شیخ ابوالحسن سری بن مغلس سقطی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے ابتدائی اور بااثر صوفی شیوخ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پیدائش کی تاریخ میں قدیم و جدید مآخذ یکساں نہیں: جدید ترکی دائرۂ معارفِ اسلامیہ ۱۵۵ھ/۷۷۲ء اور بغداد کے کرخ کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ ذہبی انہیں تقریباً ۱۶۰ھ کے آس پاس پیدا ہونے والا لکھتے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے اس ملف میں پیدائش کو قطعی تاریخ کے بجائے دوسری صدی ہجری کے وسط کے قریب رکھا گیا ہے۔ ان کا نام خود مضبوط طور پر «سری بن مغلس» محفوظ ہے اور «سقطی» کی نسبت بازار میں سقط اور مختلف سامان کی تجارت سے جڑی ہوئی ہے۔

سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ عباسی بغداد کی عملی اور علمی دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ سقطی کی نسبت بازار میں مختلف یا استعمال شدہ سامان کی تجارت سے وابستہ ہے۔ تاریخ بغداد بیان کرتی ہے کہ آپ نے ہشیم بن بشیر، ابو بکر بن عیاش، علی بن غراب، یحییٰ بن یمان اور یزید بن ہارون سے روایت کی، جبکہ جنید بن محمد، ابو الحسین نوری اور دوسرے راویوں نے آپ سے نقل کیا۔ یوں آپ کی زندگی میں حلال تجارت، حدیث کی روایت، عبادت اور روحانی تربیت جمع ہو گئے۔

جدید تحقیقی خلاصوں میں ان کی زندگی صرف بغداد کی دکان تک محدود نہیں رہتی۔ ترکی دائرۂ معارفِ اسلامیہ، قدیم و متاخر سوانحی مواد کو جمع کرتے ہوئے، حدیث کی طلب میں مکہ تک سفر، عبادان میں قیام، پھر دمشق، رملہ، بیت المقدس اور طرسوس سے تعلق اور سرحدی جہاد میں شرکت کا ذکر کرتا ہے۔ اسی خلاصے کے مطابق وہ تقریباً ساٹھ برس کی عمر میں ان علاقوں سے واپس آئے اور ۲۱۸ھ میں بغداد میں مستقل طور پر آباد ہوگئے۔ یہ سفری تفصیل بعد کے سوانحی مجموعوں سے مرتب ہے، اس لیے اسے ابتدائی بغداد کی نسبت جتنی قطعیت حاصل نہیں۔

قدیم کتابیں آپ کی فیصلہ کن روحانی تربیت کو معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے جوڑتی ہیں۔ وفیات الاعیان، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷ میں روایت ہے کہ معروف کرخی ایک یتیم بچے کو سری سقطی کی دکان پر لائے اور اسے لباس دینے کو کہا۔ جب سری نے بچے کو کپڑے پہنائے تو معروف نے دعا کی کہ اللہ دنیا کو ان کے دل میں ناپسندیدہ کر دے اور انہیں سابق حالت سے آزاد کر دے۔ سری سقطی بعد میں کہتے تھے کہ ان کے پاس جو روحانی خیر ہے وہ معروف کی برکت سے ہے۔ صفۃ الصفوۃ، جلد ۱، صفحہ ۴۹۵ سے شروع ہونے والی سوانح میں اسی مفہوم کی ایک دوسری صورت محفوظ ہے: ایک بچی کا برتن ٹوٹا تو سری نے اپنی دکان سے اس کا بدل دیا اور معروف نے ان کے لیے دنیا سے بے رغبتی کی دعا کی۔ دونوں روایات کا مرکزی مفہوم ایک ہے کہ کمزور انسان کی خدمت ان کی روحانی تبدیلی کا موقع بنی۔

وفیات الاعیان، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷ اور تاریخ بغداد آپ کے سخت محاسبۂ نفس کا ایک مؤثر واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ بغداد میں آگ لگی تو ایک شخص نے بتایا کہ آپ کی دکان بچ گئی ہے۔ آپ نے الحمد للہ کہا، مگر بعد میں فرمایا کہ میں تیس برس سے اس ایک جواب پر استغفار کر رہا ہوں، کیونکہ اس لمحے مجھے اپنی سلامتی کی خوشی ہوئی جبکہ دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچا تھا۔ یہ روایت اللہ کا شکر ترک کرنے کی تعلیم نہیں، بلکہ خود غرضی اور اجتماعی احساس کے نہایت باریک محاسبے کو ظاہر کرتی ہے۔

صفۃ الصفوۃ، جلد ۱، صفحہ ۴۹۵ اور اس کے بعد تجارت کا ایک واقعہ نقل کرتی ہے جس نے بازار میں آپ کی دیانت کو نمایاں کیا۔ سری سقطی نے ساٹھ دینار میں باداموں کی ایک بڑی مقدار خریدی اور اپنے حساب میں صرف تین دینار منافع لکھا۔ بعد میں بازار کی قیمت نوے دینار ہو گئی تو ایک دلال نے نئی قیمت پر خریدنا چاہا۔ سری نے صرف تریسٹھ دینار لینے پر اصرار کیا کیونکہ انہوں نے اپنے لیے پہلے ہی اتنا منافع مقرر کر لیا تھا، جبکہ دلال نے نوے سے کم لینے سے انکار کیا کیونکہ وہ کسی مسلمان کو نقصان نہیں دینا چاہتا تھا۔ خرید و فروخت نہ ہو سکی۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ حلال اضافی فائدہ ممکن ہونے کے باوجود انہوں نے ضمیر کے ساتھ کیے گئے عہد کو ترجیح دی۔

آپ کی تعلیم روحانی تجربے کو وحی اور شرعی اخلاق کے تابع رکھتی تھی۔ آپ سے منقول ہے کہ جو شخص ایسے باطنی علم کا دعویٰ کرے جو ظاہر حکم کو توڑتا ہو، وہ غلطی پر ہے۔ ایک دوسرا قول ہے کہ سنت کے مطابق تھوڑا عمل بدعت پر قائم بہت سے عمل سے بہتر ہے۔ حلیۃ الاولیاء، جلد ۱۰، صفحات ۱۱۶–۱۲۵ میں حلال کمائی، لوگوں کے احسان سے آزادی، ریا سے نگرانی اور دین کو ذریعہ معاش بنانے سے اجتناب کی تعلیمات محفوظ ہیں۔ جب کھانسی کی دوا بغیر قیمت بتائے بھیجی گئی تو آپ نے پیغام واپس کیا کہ ہم پچاس برس سے لوگوں کو دین کے ذریعے کھانے سے روکتے آئے ہیں، آج خود ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔

جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں اور بنیادی استاد ہونے کی وجہ سے آپ کی تعلیمات کا اثر بہت دور تک پہنچا۔ حلیۃ الاولیاء، جلد ۱۰، صفحات ۱۱۶–۱۲۵ میں ہے کہ آپ نے کم عمر جنید سے شکر کا مطلب پوچھا۔ جنید نے جواب دیا کہ اللہ کی نعمت کے ذریعے اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ سری سقطی نے اس جواب کو شکر کی فرضی بنیاد قرار دیا۔ سوالات، تنبیہات اور ذاتی نمونے کے ذریعے آپ نے جنید کو دقیق زبان کے ساتھ اخلاص، عبادت اور ذمہ داری جمع کرنے کی تربیت دی۔

خاندانی روایت جنید تک محدود نہ رہی۔ حلیۃ الاولیاء، جلد ۱۰، صفحہ ۳۰۵ میں ابراہیم بن سری نے اپنے والد کے اقوال نقل کیے ہیں۔ اس سے ابراہیم آپ کے ایسے بیٹے کے طور پر ثابت ہوتے ہیں جس نے آپ کی نصیحتیں آگے پہنچائیں۔ انہی اقوال میں یہ تنبیہ ہے کہ انسان صبح و شام ظاہری منافع ڈھونڈتا رہے مگر اپنی جان کو حقیقی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ اس طرح آپ کی اخلاقی تعلیم خاندان اور روحانی شاگردوں دونوں کے ذریعے منتقل ہوئی۔

کتابیں آپ کی ذاتی عبادت اور مجاہدے کے متعلق سخت عبادی روایات بھی محفوظ کرتی ہیں۔ تاریخ بغداد اور وفیات الاعیان میں ہے کہ ایک رات محراب میں پاؤں پھیلانے پر آپ نے ایسی تنبیہ سنی جس میں پوچھا گیا کہ کیا بندے بادشاہوں کے سامنے اس طرح بیٹھتے ہیں؛ اس کے بعد آپ نے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا عزم کیا۔ جنید سے منقول ہے کہ طویل عمر میں آپ کو مرض الموت کے سوا لیٹے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ یہ قدیم زاہدانہ روایات ہیں اور ان کا مقصد آپ کی نگرانی اور ادب کی شدت کو بیان کرنا ہے۔

صفۃ الصفوۃ، جلد ۱، صفحہ ۴۹۵ اور اس کے بعد ایک مناقبی واقعہ درج ہے۔ محلے کی ایک عورت کا بیٹا ایک حاکم کے آدمیوں نے پکڑ لیا تھا۔ اس نے سری سقطی سے مدد مانگی۔ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور عورت کے وہاں سے جانے سے پہلے خبر آگئی کہ اس کا بیٹا رہا کر دیا گیا ہے۔ راوی اس قبولیت کو بازار میں آپ کی دیانت سے جوڑتا ہے۔ یہاں اسے کتاب میں منقول مناقبی روایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو دعا، انصاف اور پریشان پڑوسی کی مدد کے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

آخری بیماری میں جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی عیادت کے لیے آئے اور نصیحت مانگی۔ تاریخ بغداد اور حلیۃ الاولیاء آپ کا آخری ارشاد محفوظ کرتی ہیں: برے لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرو، اور اچھے لوگوں کی مجلس بھی تمہیں اللہ سے غافل نہ کرے۔ خطیب بغدادی نے وفات کی نہایت واضح تاریخ دی ہے: آپ منگل کے روز، رمضان ۲۵۳ ہجری کی چھ راتیں گزرنے کے بعد، اذان فجر کے بعد بغداد میں وفات پا گئے اور نماز عصر کے بعد شونیزیہ میں دفن ہوئے۔ اسی اندراج میں قبر کو ظاہر اور معروف اور اس کے پہلو میں جنید کی قبر بتایا گیا ہے۔

معروف کرخی کے شاگرد سری سقطی اور سری کے شاگرد جنید کی قریب قبریں بغداد کے مذہبی جغرافیے میں ابتدائی تصوف کی منتقلی کو نمایاں کرتی ہیں۔ جدید عراقی ورثہ نگاری شونیزیہ کے قبرستان اور مزارات کی شناخت برقرار رکھتی ہے، ساتھ ہی سڑکوں، ریلوے اور شہری تبدیلی کے دباؤ کو بھی درج کرتی ہے۔ زائر کے لیے سری سقطی کی زندگی یتیم کی خدمت، دیانت دار تجارت، اجتماعی مصیبت میں ہمدردی، منظم عبادت اور ذمہ دار تعلیم کو جمع کرتی ہے۔ محقق کے لیے یہ مزار عباسی بغداد میں حدیث، بازار، زہد اور استاد شاگرد سلسلوں کے مطالعے کا بنیادی مقام ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کی بنیادی تاریخی اہمیت بغداد کے منظم صوفی مکتب کی تشکیل میں ہے۔ معروف کرخی کی صحبت، جنید بغدادی کی تربیت اور بیٹے ابراہیم کے ذریعے منقول اقوال انہیں روحانی اور خاندانی انتقال کے مرکزی مقام پر رکھتے ہیں۔

جدید علمی تحقیق بھی ان کے مقام کو محض مناقبی روایت تک محدود نہیں رکھتی۔ جنید بغدادی پر جدید جامع مطالعہ سری سقطی اور حارث محاسبی کو بغداد کے ابتدائی صوفی مکتب کے اہم بانی عناصر میں شمار کرتا ہے، جبکہ ترکی دائرۂ معارفِ اسلامیہ جنید کے علاوہ ابو سعید خراز، ابو الحسین نوری، سمنون بن حمزہ اور دوسرے صوفیہ پر ان کے اثر کو نمایاں کرتا ہے۔ یوں سری سقطی کی تاریخی اہمیت ایک فرد کی زاہدانہ سیرت سے بڑھ کر بغداد کے منظم صوفی فکر، اخلاق اور تربیتی شبکے کی تشکیل تک پہنچتی ہے۔

بازار کی زندگی آپ کی تعلیم کو غیر معمولی سماجی گہرائی دیتی ہے۔ یتیم اور ٹوٹے برتن کی روایات، بغداد کی آگ پر محاسبہ، بادام کی تجارت اور دین کے ذریعے معاش نہ لینے کا اصول دکھاتے ہیں کہ ابتدائی روحانی تربیت تجارت، اجتماعی نقصان، لوگوں کے احسان، ضمیر اور حقوق العباد سے متعلق تھی۔

کتابیں عبادی اور مناقبی مواد بھی محفوظ کرتی ہیں: سخت ذاتی نگرانی، پڑوسی کے بیٹے کی رہائی سے متعلق دعا اور جنید کو آخری نصیحت۔ کتاب، جلد اور صفحے کا نام قاری کو انہیں قدیم منقول روایات کے طور پر پہچاننے اور وفات و تدفین کے واضح تاریخی حقائق سے الگ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

تاریخ بغداد میں رمضان ۲۵۳ ہجری کی وفات اور شونیزیہ میں تدفین کا تفصیلی بیان مزار کو مضبوط تاریخی بنیاد دیتا ہے۔ جنید کی قبر کی قربت قبرستان کو معروف، سری اور جنید کے تربیتی سلسلے کا مادی ریکارڈ اور بغداد کے مذہبی، علمی اور شہری ورثے کا اہم حصہ بناتی ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Al-Khatib al-Baghdadi, Tarikh Baghdad, biography of Sari ibn al-Mughallis al-Saqati, death/burial notice and entry of Ibrahim ibn Sari: https://islamport.com/l/trj/4968/5384.htm ; https://www.masaha.org/book/view/2735/page/92
Al-Dhahabi, Siyar A'lam al-Nubala, vol. 12, Sari ibn al-Mughallis al-Saqati: https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/2193/
Abu Nu'aym al-Isfahani, Hilyat al-Awliya, vol. 10, Sari al-Saqati and Ibrahim ibn Sari: https://www.islamweb.net/ar/library/content/131/1762/ ; https://www.islamweb.net/ar/library/content/131/1880/
Ibn Khallikan, Wafayat al-A'yan, vol. 2, pp. 357-359; Ibn al-Jawzi, Sifat al-Safwa, Sari al-Saqati.
Suleyman Uludag, SERI es-SAKATI, TDV Islam Ansiklopedisi, 2009/current electronic version: https://islamansiklopedisi.org.tr/seri-es-sakati
A. J. Arberry, The Life, Personality and Writings of al-Junayd, chapters on Junayd's teachers and the Baghdad school: https://www.jstor.org/stable/10.3366/jj.37867006
University of Baghdad, Journal of Arab Scientific Heritage, no. 41 (2019), study of Al-Shuniziyya cemetery: https://jrashc.uobaghdad.edu.iq/index.php/jrashc/article/download/536/431
Donor V28 source registry and shrine references, including Iraqi heritage reporting on Al-Shuniziyya.

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔