حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ

Ammar’s established lineage is Ammar ibn Yasir ibn Amir al-Ansi al-Madhhiji, and his kunyah was Abu al-Yaqzan. His father Yasir ibn Amir came from Yemen to Makkah, entered an alliance with Banu Makhzum and married Sumayyah bint Khayyat, through whom Ammar was born. Sources preserve variants in the name attached to Sumayyah’s father; these spelling traditions are treated as textual variants rather than separate maternal identities. Al-Mizzi’s rijal material preserves Abd Allah ibn Yasir as Ammar’s full brother, Hurayth as an older paternal brother and Salama ibn al-Azraq as a maternal half-brother. In this migration those names remain part of the documented family context only; no sibling PERSON code has been invented. Among Ammar’s children, Muhammad ibn Ammar ibn Yasir is explicitly identified as his son and transmitter. The notice of Abu Ubayda ibn Muhammad ibn Ammar calls Umm al-Hakam bint Ammar ibn Yasir his paternal aunt, confirming Umm al-Hakam as Ammar’s daughter. Because the strongest reviewed material did not establish a reliable spouse name or an exhaustive roster of all children, the family research status remains limited rather than claiming a complete household reconstruction.

PER-001685 صحابی / صحابیہ مصدقہ منسوب مقام مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اولین مسلمانوں، مہاجر صحابہ اور بدر میں شریک معروف اصحاب میں سے تھے۔ مکہ میں ان کے والد یاسر بن عامر اور والدہ سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہما کے خاندان نے سخت اذیت برداشت کی؛ سمیہ رضی اللہ عنہا ابتدائی اسلامی روایت میں پہلی شہیدہ کے طور پر مشہور ہوئیں۔ مدینہ میں عمار رضی اللہ عنہ نے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا، تیمم کے اہم نبوی حکم کو روایت کیا، بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں کوفہ کی انتظامی ذمہ داری سنبھالی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفین میں شریک ہوئے۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مشہور پیشین گوئی محفوظ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ وہ صفین میں ۳۷ھ، مطابق ۶۵۷ء، شہید ہوئے اور قدیم سوانحی روایت ان کی تدفین بھی صفین ہی میں بتاتی ہے، تاہم آج ان کی کوئی قطعی شناخت شدہ انفرادی قبر ثابت نہیں۔ رقہ میں اویس قرنی سے منسوب سابق مسجدی مجموعے کے ساتھ عمار رضی اللہ عنہ کا مقام ایک بہت بعد کی زیارتی نسبت تھی؛ ۲۰۱۴ء میں اس مقام کی تباہی کی سیٹلائٹ دستاویز موجود ہے، مگر یہ نسبت تاریخی قبر کی دلیل نہیں۔
ولادت

حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی صحیح تاریخِ پیدائش قدیم مضبوط مآخذ میں محفوظ نہیں۔ ان کے والد یاسر بن عامر یمن سے مکہ آئے، وہیں مقیم ہوئے اور سمیہ بنت خیاط سے نکاح ہوا؛ اسی مکی خاندانی ماحول میں عمار کی پیدائش ہوئی۔ صفین میں ان کی عمر کے لیے ترانوے اور چورانوے سال کی روایات ملتی ہیں، لیکن ان متاخر عمری حسابات سے کسی قطعی سالِ پیدائش کو مصنوعی طور پر اخذ نہیں کیا گیا۔

وفات

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے ۳۷ھ، مطابق ۶۵۷ء، میں شہید ہوئے۔ قدیم تراجم اور تاریخی مآخذ اس واقعے کو ان کی زندگی کا آخری باب قرار دیتے ہیں۔ ان کی شہادت نے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں محفوظ اس نبوی پیشین گوئی کو نمایاں کر دیا کہ عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ اس حدیث کو تاریخی واقعے کے ساتھ رکھا گیا ہے، مگر بعد کے سیاسی و کلامی فیصلوں کو حدیث کے اصل الفاظ میں شامل نہیں کیا گیا۔ وفات کے وقت عمر کے لیے تقریباً ترانوے اور چورانوے سال دونوں اقوال ملتے ہیں، اور آخری ضرب لگانے والے شخص کی تفصیلات میں بھی روایات مختلف ہیں۔ اس لیے سالِ شہادت مضبوط رکھا گیا ہے جبکہ عمر اور قاتل کی جزوی تفصیل کو اختلاف کے ساتھ سمجھا گیا ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

ابن سعد سے منقول قدیم روایت حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نمازِ جنازہ پڑھانے اور ان کی تدفین صفین ہی میں ہونے کا ذکر کرتی ہے۔ اس لیے تاریخی مدفن کی بنیادی نسبت صفین ہے۔ تاہم مضبوط زیرِ مطالعہ مواد کسی ایسی موجودہ انفرادی قبر، مقبرے یا نقشہ جاتی نقطے کی قابلِ اعتماد شناخت فراہم نہیں کرتا جسے عمار رضی اللہ عنہ کی قطعی قبر کہا جا سکے۔ اسی وجہ سے اس ریکارڈ میں صفین کے لیے کوئی خام جغرافیائی نقطہ ایجاد نہیں کیا گیا۔ رقہ میں اویس قرنی سے منسوب سابق مسجدی مجموعے کے اندر یا اس سے ملحق عمار رضی اللہ عنہ کا مقام ایک بعد کی زیارتی نسبت تھی۔ سیٹلائٹ تحقیق اس مجموعے کی ۲۰۱۴ء کی تباہی ثابت کرتی ہے، مگر اس جسمانی مقام کی تباہی عمار رضی اللہ عنہ کی اصل تدفین وہاں ہونے کی تاریخی دلیل نہیں بنتی۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت عمار بن یاسر بن عامر عنسی رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابو الیقظان تھی، اولین مسلمانوں اور مکی دور کی سخت آزمائشوں میں تربیت پانے والے معروف صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے والد یاسر بن عامر قبیلۂ مذحج کی شاخ عنس سے تعلق رکھتے تھے اور بنو مخزوم کے حلیف کی حیثیت سے مکہ میں آباد ہوئے تھے۔ کتبِ تراجم میں ان کی والدہ کا نام حضرت سمیہ بنت خیاط، خباط یا ہباط رضی اللہ عنہا کی مختلف کتابتی صورتوں کے ساتھ ملتا ہے۔ چونکہ اس خاندان کو وہ قبائلی تحفظ حاصل نہ تھا جو بہت سے قریشی مسلمانوں کو میسر تھا، اس لیے ان کی داستان ابتدائی مسلم معاشرے میں سماجی کمزوری اور ایمان کے ملاپ کی نمایاں مثال بن گئی۔ تاریخی شخصیت کو رقہ کے بہت بعد کے اس مزار و مسجدی مجموعے سے الگ سمجھنا ضروری ہے جو ان سے منسوب کیا گیا۔

حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے خاندانی ریکارڈ میں والدین اور دو نام سے ثابت اولاد کے بارے میں مواد نسبتاً واضح ہے، مگر پورے گھرانے کی مکمل فہرست محفوظ نہیں۔ امام مزی ان کے والد یاسر بن عامر اور والدہ سمیہ بنت خیاط کا نام دیتے ہیں، جبکہ والدہ کے نام کی بعض روایتی کتابتی صورتیں بھی ملتی ہیں۔ محمد بن عمار بن یاسر کو صراحت کے ساتھ ان کا بیٹا اور ان سے روایت کرنے والا بتایا گیا ہے، اور رجال کی ایک الگ ترجمة میں ام الحکم بنت عمار بن یاسر کو محمد کے بیٹے ابو عبیدہ کی پھوپھی کہا گیا ہے، جس سے ان کا عمار رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مضبوط ترین زیرِ مطالعہ مآخذ میں کسی زوجہ کا قابلِ اعتماد نام یا تمام اولاد کی قطعی مکمل فہرست ثابت نہیں ہوئی، اس لیے محمد اور ام الحکم کو کم از کم محفوظ ناموں کے طور پر درج کیا گیا ہے، یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ ان کی اولاد صرف دو تھی۔

حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب مسلم جماعت بہت مختصر اور علانیہ مخالفت کے سامنے تھی۔ صحیح بخاری میں ان کا بیان محفوظ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ آپ کے ساتھ چند غلام یا بے پشت پناہ افراد، دو عورتیں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نمایاں طور پر موجود تھے۔ حضرت عمار، ان کے والد یاسر اور والدہ سمیہ رضی اللہ عنہم کو ایمان کی وجہ سے اذیت دی گئی۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا قتل ہوئیں اور اسلام کی پہلی خاتون شہیدہ کے طور پر یاد کی جاتی ہیں، جبکہ حضرت یاسر بھی ظلم کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ سوانحی اور تفسیری مآخذ حضرت عمار کے جبراً کہے گئے کلمات کو سورۂ نحل ۱۶:۱۰۶ کے پس منظر سے جوڑتے ہیں؛ آیت خود ان کا نام نہیں لیتی۔

مکی آزمائشوں کے بعد روایات حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو ابتدائی مہاجرین میں شمار کرتی ہیں، اور بعض سوانحی مآخذ مدینہ کی ہجرت سے پہلے حبشہ کی ہجرت بھی بیان کرتے ہیں۔ مدینہ میں وہ اس جماعت کا حصہ تھے جس نے جسمانی محنت سے نئی اجتماعی زندگی کی بنیادیں تعمیر کیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت دوسرے لوگ ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے جبکہ حضرت عمار دو دو اینٹیں لے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گرد جھاڑی اور خبر دی کہ ایک باغی جماعت انہیں قتل کرے گی، جبکہ عمار لوگوں کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلائیں گے۔ یہ مضبوط سندوں سے منقول حدیث بعد میں پہلی خانہ جنگی سے متعلق سب سے زیادہ زیر بحث نبوی ارشادات میں شامل ہوئی۔

ابتدائی کتبِ تراجم کے مطابق حضرت عمار رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر اور عہد نبوی کی بڑی مہمات میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جنگِ یمامہ میں انہوں نے مرتدین کے مقابلے میں جہاد کیا؛ روایات میں ہے کہ ایک کان کٹ جانے کے باوجود وہ کمزور پڑتے لشکر کو دوبارہ جمع ہونے کی دعوت دے رہے تھے۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی عوامی خدمت کسی ایک سیاسی مرحلے تک محدود نہ تھی۔ ان کی شہرت صبر، عملی شجاعت اور مشقت قبول کرنے سے بنی۔ تاریخی تصویر عمومی تعریف کے بجائے مخصوص واقعات سے زیادہ روشن ہوتی ہے: مکہ کی اذیت، مدینہ کی تعمیر، بدر و یمامہ میں ثابت قدمی اور بڑھاپے تک مسلسل خدمت۔

حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے نبوی تعلیمات بھی روایت کیں۔ ان کی اہم فقہی روایات میں تیمم کا واقعہ ہے، یعنی پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک مٹی سے طہارت۔ ایک سفر میں انہوں نے یہ سمجھ کر زمین میں لوٹ لگائی کہ پورے جسم کو مٹی لگانا ضروری ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ بتایا۔ آپ نے سمجھایا کہ پاک زمین پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں کا مسح کافی ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے اور تیمم کے فقہی مباحث کی بنیادی نصوص میں شمار ہوتی ہے۔ اس سے حضرت عمار کی علمی دیانت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی ابتدائی غلط رائے اور نبوی اصلاح دونوں کو کھلے طور پر روایت کیا۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا والی مقرر کیا گیا، جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تعلیم اور مالی امور کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ بعد کے مآخذ انتظامی اختلافات اور حضرت عمار کی تبدیلی بھی بیان کرتے ہیں، مگر ان کی تقرری خود اس اعتماد کی علامت ہے جو دولت یا قبائلی طاقت کے بجائے دیانت کے لیے معروف ایک قدیم صحابی پر کیا گیا۔ اس دور کی بعض فوجی سرگرمیوں سے بھی ان کا تعلق ملتا ہے۔ ان کی گورنری کو نہ ہر مشکل سے پاک مثالی حکومت بنانا درست ہے اور نہ بعد کی جماعتی تعبیرات تک محدود کرنا؛ یہ تیزی سے پھیلتے معاشرے کے حقیقی انتظامی مسائل کا حصہ تھی۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بعض پالیسیوں پر اعتراض کیا اور شدید اختلافات میں شامل ہوئے۔ مخصوص تصادمات کی تفصیلات روایت اور صحت کے اعتبار سے مختلف ہیں، اس لیے غیر جانب دار سوانح ہر بعد کے الزام کو قطعی واقعہ نہیں بنا سکتی۔ اتنا واضح ہے کہ حضرت عمار ایک نمایاں اخلاقی اور سیاسی آواز رہے اور حضرت عثمان کے آخری دور میں پوری امت کے اندر اختلاف کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا۔ ان کی زندگی یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ جلیل القدر صحابہ نظمِ حکومت کے بارے میں سخت اختلاف کر سکتے تھے، جبکہ اسلام کے لیے ان کی سابقہ خدمات اپنی جگہ مسلم رہتی تھیں۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا اور جنگِ جمل سے متعلق واقعات میں شریک ہوئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت علی نے حضرت عمار اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہم کو اہلِ کوفہ کو آمادہ کرنے کے لیے بھیجا۔ اپنے خطاب میں حضرت عمار نے واضح کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، اگرچہ سیاسی راستے کے انتخاب میں امت آزمائش سے گزر رہی ہے۔ یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ مضبوط سیاسی موقف کے ساتھ حضرت عائشہ کی دینی حرمت کو صاف طور پر محفوظ رکھتا ہے۔ اسی بنا پر مضمون اختلاف کو توہین، فرقہ وارانہ فیصلے یا مذہبی برتری کے دعوے کے بغیر بیان کرتا ہے۔

حضرت عمار رضی اللہ عنہ ۳۷ ہجری/۶۵۷ عیسوی میں صفین کے مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں لڑتے ہوئے قتل ہوئے۔ قدیم سوانحی مآخذ عموماً ان کی عمر تقریباً ترانوے سال بیان کرتے ہیں، اگرچہ عمر کے حساب میں اختلاف ہے۔ ان کی شہادت کے ساتھ وہ صحیح نبوی پیشین گوئی فوراً یاد کی گئی کہ انہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی، اور مخالف لشکر میں شدید بحث پیدا ہوئی۔ کلاسیکی کتبِ تراجم بیان کرتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں صفین کے میدان کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ اس سے صفین کے ساتھ عمومی تدفینی نسبت مضبوط ہوتی ہے، مگر آج تک محفوظ کسی انفرادی قبر کی عین جگہ ثابت نہیں ہوتی۔

رقہ میں حضرت عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی سے منسوب بعد کا مزار و مسجدی مجموعہ روایتی قبروں کی نسبتوں کے گرد تعمیر کیا گیا ایک جدید یادگاری منصوبہ تھا۔ روئٹرز نے مارچ ۲۰۱۴ء میں اس مجموعے پر بم حملے کی خبر دی، اور یونٹار-یونوسات کی سیٹلائٹ جانچ نے مزار کے ڈھانچوں کی وسیع تباہی درج کی۔ سیٹلائٹ تحقیق جسمانی نقصان ثابت کرتی ہے، قبر کی نسبت کی تاریخی صحت نہیں۔ چونکہ قدیم سوانحی مآخذ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی وفات اور تدفین صفین میں بیان کرتے ہیں اور زیرِ جائزہ آثارِ قدیمہ کی کوئی کڑی رقہ کی عمارت کو ان کی عین انفرادی قبر ثابت نہیں کرتی، اس لیے اس مجموعے کو تصدیق شدہ قبر کے بجائے منسوب یادگاری مقام کہنا درست ہے۔

مجموعی طور پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی سوانح مکہ کے مظلوم ابتدائی مسلم خاندان، خدمتِ نبوی، فقہی تعلیم، عوامی انتظام اور پہلی اسلامی صدی کے سیاسی اختلافات کو ایک ہی زندگی میں جمع کرتی ہے۔ قدیم سوانحی مآخذ ان کی تدفین صفین میں بیان کرتے ہیں، لیکن آج کسی الگ انفرادی قبر کی قابلِ اعتماد شناخت ثابت نہیں۔ اس لیے رقہ کا مجموعہ بعد کی زیارتی روایت، فنِ تعمیر اور ثقافتی یادداشت کی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے؛ اسے عین مقامِ تدفین کے بارے میں مصنوعی قطعیت پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی زندگی ابتدائی مسلم جماعت کی سماجی ساخت کو سمجھنے کے لیے نہایت واضح دریچہ ہے۔ ان کے خاندان کو مکہ میں مضبوط قبائلی تحفظ حاصل نہ تھا، اور ان پر ہونے والا ظلم بتاتا ہے کہ اولین ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے لیے اسلام قبول کرنا فوری جسمانی اور معاشی خطرہ تھا۔ حضرت عمار کا زندہ رہنا اور یاسر و سمیہ رضی اللہ عنہما کی شہادت صبر، جبر اور ضمیر کی آزادی کے مباحث کو ٹھوس تاریخی معنی دیتی ہے۔

ان کی خدمت قانونی اور تعلیمی بھی ہے۔ تیمم کی روایت ایک عملی نبوی اصلاح محفوظ کرتی ہے جو اسلامی عباداتی قانون کا حصہ بنی، جبکہ مسجد کی تعمیر والی روایت جسمانی خدمت کو ایک اہم پیشین گوئی سے جوڑتی ہے۔ یہ نصوص حضرت عمار کو صرف فوجی یا سیاسی علامت نہیں رہنے دیتیں؛ وہ ایسے راوی بھی تھے جن کی دیانت دار یادداشت نے بعد کے مسلمانوں کو عبادت اور ذمہ داری سمجھنے میں مدد دی۔

پہلی خانہ جنگی میں حضرت عمار کا کردار سنی اور شیعہ دونوں حافظوں میں مرکزی رہا ہے، مگر ذمہ دار تاریخ فرقہ وارانہ سادگی سے بچتی ہے۔ انہیں قتل کرنے والی جماعت کے بارے میں صحیح حدیث تاریخی طور پر اہم ہے، جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ان کے احترام آمیز کلمات دکھاتے ہیں کہ سیاسی اختلاف مذہبی حرمت مٹانے کا تقاضا نہیں کرتا۔ یہ دونوں روایتیں اختلاف، اخلاقی فیصلے اور ضبط کے مطالعے کے لیے اہم مواد دیتی ہیں۔

رقہ کا منسوب مقام جدید ورثے کا ایک سبق بھی پیش کرتا ہے۔ نسلوں تک زیارت کیا جانے والا بعد کا مقام خود بخود ساتویں صدی کی عین قبر کا ثبوت نہیں بنتا۔ ۲۰۱۴ میں اس کی تباہی مذہبی اور ثقافتی ورثے کو دانستہ نقصان پہنچانے کا اہم واقعہ ہے، مگر اس تباہی کی مذمت کے لیے قبر کی نسبت کو آثارِ قدیمہ کی قطعی حقیقت بنانا ضروری نہیں۔

خاندانی روابط

ماخذ

Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 338 | https://sunnah.com/bukhari:338 | Ammar's tayammum report and Prophetic correction
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 2812 | https://sunnah.com/bukhari:2812 | mosque construction and Prophetic foretelling that a rebellious group would kill Ammar
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3857 | https://sunnah.com/bukhari:3857 | Ammar's recollection of the very small early Muslim community
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 7100 | https://sunnah.com/bukhari:7100 | Ammar's Kufa address concerning Aisha during the first civil war
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | vol. 21, p. 216 onward, Ammar entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/5227/ | lineage, parents, siblings, transmitters, son Muhammad, physical and death reports
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | vol. 26, p. 167, Muhammad ibn Ammar entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/6678/ | explicit son Muhammad ibn Ammar ibn Yasir
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | vol. 34, p. 62, Abu Ubayda ibn Muhammad ibn Ammar entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/9300/ | Umm al-Hakam bint Ammar as paternal aunt of Ammar's grandson
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | vol. 1, Ammar ibn Yasir entry; displayed pagination begins around p. 406 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/98/ | early Islam, virtues, family/transmission, Siffin material
Al-Muntazam fi Tarikh al-Muluk wa al-Umam | Ibn al-Jawzi transmitting Ibn Sa'd | events of 37 AH, Ammar notice | https://islamweb.net/ar/library/content/421/794/ | death at Siffin, age report, Ali's funeral prayer and burial there
AMMAR b. YASIR | Mustafa Fayda, TDV Islam Ansiklopedisi | first published 1991; electronic entry updated 2020 | https://islamansiklopedisi.org.tr/ammar-b-yasir | modern scholarly synthesis of parentage, early Islam, public service, Siffin death and hadith transmission
Syria World Heritage Sites Report / Raqqa assessment | UNITAR-UNOSAT | satellite damage assessment, no burial-authenticity claim | https://unitar.org/sustainable-development-goals/satellite-analysis-and-applied-research/chs-syria | physical destruction of the later Raqqa shrine complex

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔