حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی درست تاریخِ ولادت قدیم مآخذ میں محفوظ نہیں۔ ان کا ابتدائی معروف تاریخی تعارف صحبتِ نبوی سے شروع ہوتا ہے؛ بعد میں وہ بصرہ میں آباد ہوئے اور وہاں سے ان کی حدیثی اور انتظامی سرگرمیوں کا واضح ریکارڈ سامنے آتا ہے۔
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ
Al-Hakam's lineage is given as al-Hakam ibn Amr ibn Mujadda ibn Hudhaym ibn al-Harith ibn Nu'ayla ibn Mulayl. Genealogists explain that Nu'ayla was a brother of Ghifar ibn Mulayl, which accounts for the established al-Ghifari affiliation. His father was Amr ibn Mujadda. His brother Rafi ibn Amr was also a Companion, and Atiyya ibn Amr is also named as a brother in biographical material. His mother is most commonly identified as Asma bint Hilal ibn Asad ibn Abd Allah, while another maternal form is transmitted in some rijal sources. His daughter al-Janub bint al-Hakam is reported to have married Qutham ibn al-Abbas.
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وفات کا سب سے معروف سن 50ھ / 670ء ہے۔ 45ھ / 665ء اور 51ھ / 671ء کے اقوال بھی منقول ہیں۔ مضبوط ترین روایت کے مطابق ان کی وفات خراسان کی ولایت کے دوران مرو میں ہوئی۔
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قبر مرو کے تنورکران علاقے میں حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کی قبر کے پہلو میں منقول ہے؛ قدیم روایت دونوں قبروں کے درمیان تقریباً ایک ذراع کا فاصلہ بیان کرتی ہے۔ قرونِ وسطیٰ تک دونوں صحابہ کے مزارات معروف تھے۔ پندرہویں صدی کے آغاز میں شاہ رخ نے موجودہ مزاری مجموعے کی تعمیرِ نو کرائی اور تیموری ایوان و مسجد شامل ہوئے۔ آج یونیسکو اسی مجموعے کو قدیم مرو کے جزو 886-008، مزاراتِ اصحاب، کے طور پر درج کرتا ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
قدیم سوانحی روایت بیان کرتی ہے کہ حضرت حکم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کی صحبت میں رہے اور اس کے بعد بصرہ میں سکونت اختیار کی۔ اس طرح وہ ان صحابہ میں شامل ہوئے جنہوں نے عہدِ نبوی کی براہِ راست یاد اور تعلیمات کو ابتدائی فتوحات کے زمانے میں قائم ہونے والے نئے فوجی شہروں تک پہنچایا۔ بعد کی روایات انہیں پہلی خانہ جنگی کے بڑے داخلی نزاعات سے الگ رہنے والوں میں بھی یاد کرتی ہیں۔ ان کے بارے میں محفوظ مواد خصوصاً بصرہ کی حدیثی روایت، خراسان کی ولایت اور مشرقی مہمات کے حوالے سے تفصیلی ہے۔
حضرت حکم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کیں اور تابعین کی اہم جماعت نے ان سے علم حاصل کیا۔ ان سے روایت کرنے والوں میں جابر بن زید، حسن بصری، محمد بن سیرین، عبداللہ بن صامت، سوادہ بن عاصم اور دلجہ بن قیس کے نام آتے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت بصرہ کے ایک فقہی مباحثے میں گھریلو گدھوں کے گوشت کی حرمت کے بارے میں ان کا قول محفوظ کرتی ہے، جبکہ سنن نسائی میں عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال سے متعلق ان کی روایت موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی میراث صرف حکومت اور جنگ تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ بصرہ کی حدیثی اور فقہی روایت کا بھی حصہ تھے۔
پہلی اسلامی صدی کے وسط تک حضرت الحکم رضی اللہ عنہ بصرہ میں ایک تجربہ کار صحابی اور منتظم کے طور پر معروف تھے۔ زیاد بن ابیہ کو عراق اور مشرقی علاقوں کی ذمہ داری ملنے کے بعد انہیں خراسان کا والی مقرر کیا گیا؛ قدیم روایات ان کے خراسان پہنچنے کو تقریباً 44–45ھ / 664–665ء کے زمانے میں رکھتی ہیں۔ وہ ہرات کے راستے علاقے میں داخل ہوئے، جوزجان کے پہاڑی خطے سے گزرے اور مرو کو اپنی صوبائی حکومت کا مرکز بنایا۔ مرو کی تاریخ پر ٹی ڈی وی کی تحقیق بھی ان کی گورنری کو اسی مرحلے میں رکھتی ہے جب مرو خراسان کا مضبوط فوجی اور انتظامی مرکز بن رہا تھا۔
مرو سے حضرت الحکم رضی اللہ عنہ نے قہستان، طخارستان اور دریائے جیحون کے پار کے علاقوں کی طرف مہمات کیں۔ بعد کے تاریخی خلاصے غور، فراوندہ اور چغانیان تک پیش قدمی کو ان کی قیادت سے جوڑتے ہیں۔ ترک و عرب ابتدائی تعلقات کے بارے میں ٹی ڈی وی کی تحقیق بھی انہیں جیحون عبور کرکے چغانیان تک پہنچنے والوں میں شمار کرتی ہے۔ فتوحات کی کتابوں میں ہر مہم کی ترتیب اور تاریخ میں فرق ہوسکتا ہے، مگر مجموعی تاریخی نقشہ واضح ہے کہ ان کی گورنری اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب مرو مشرقی خراسان کی فوجی و انتظامی سرگرمیوں کا مرکزی اڈہ بن رہا تھا۔
ایک جنگی روایت میں آتا ہے کہ پامیر کے جنوب میں ترک آبادی والے پہاڑی علاقے میں حضرت حکم رضی اللہ عنہ کا لشکر گھیرے میں آگیا۔ لشکر میں موجود مہلب بن ابو صفرہ نے مقامی معزز شخص کو قید کرکے نکلنے کے راستے کی معلومات حاصل کیں۔ روایت کے مطابق رات کو ایک سمت آگیں روشن کی گئیں اور جانور اسی طرف ہانکے گئے، جس سے مخالف فوج نے اس ظاہری حرکت کا پیچھا کیا اور حضرت حکم اپنے لشکر کو دوسرے راستے سے نکال لے گئے۔ یہ واقعہ فتوحات کے مواد سے بعد کی تاریخی کتابوں میں منتقل ہوا اور ان کی جنگی تدبیر کی روایت کا حصہ بن گیا۔
حضرت حکم رضی اللہ عنہ سے منسوب سب سے یادگار انتظامی واقعہ مالِ غنیمت کی تقسیم کا ہے۔ روایات میں اختلاف ہے کہ حکم براہِ راست معاویہ کی طرف سے آیا یا زیاد کے ذریعے، لیکن سب کا مرکزی مفہوم یہ ہے کہ سونا اور چاندی، اور بعض روایتوں میں منتخب قیدی، مرکزی حکومت کے لیے الگ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت حکم نے جواب دیا کہ اللہ کی کتاب اطاعت میں پہلے ہے اور اپنے فہم کے مطابق غنیمت کو شرعی تقسیم کے تحت لشکر میں بانٹ دیا۔ بعض اسانید کے مطابق اس کے بعد انہیں معزول کرکے قید اور زنجیروں میں رکھا گیا، اور انہوں نے خواہش کی کہ انہی زنجیروں سمیت دفن ہوں تاکہ قیامت کے دن اس معاملے کا حساب طلب کریں۔ یہ انکار ان کی تاریخی یاد کا نمایاں حصہ بن گیا، جبکہ منقول خطوط کے الفاظ مختلف صورتوں میں محفوظ ہوئے ہیں۔
ایک متعلقہ حدیثی روایت اس اخلاقی موقف کو نبوی تعلیم سے جوڑتی ہے۔ خراسان کی ولایت کے وقت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت حکم رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرکے یاد دلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت سے منع فرمایا ہے؛ حضرت حکم نے اس فرمان کو یاد رکھنے کی تصدیق کی۔ یہ روایت مسند احمد میں ایسی اسانید سے محفوظ ہے جنہیں جدید محدثین نے صحیح قرار دیا، اور جامع ترمذی بھی اس اصول کے راویوں میں حضرت حکم کا نام ذکر کرتی ہے کہ اطاعت صرف معروف کام میں ہے۔ مالِ غنیمت کے واقعے کے ساتھ یہ روایت واضح کرتی ہے کہ بعد کے اہلِ تراجم نے انہیں دینی ذمہ داری کو سیاسی دباؤ پر مقدم رکھنے والے والی کے طور پر کیوں یاد کیا۔
حضرت الحکم رضی اللہ عنہ کی وفات کے لیے سب سے زیادہ معروف سن 50ھ / 670ء ہے، جبکہ 45ھ / 665ء اور 51ھ / 671ء کے اقوال بھی منقول ہیں۔ مضبوط ترین جغرافیائی روایت یہ ہے کہ خراسان کی گورنری کے دوران ان کی وفات مرو میں ہوئی۔ امام مزی نے مقامی روایت نقل کی ہے کہ ان کی قبر حضرت بریدة بن حصیب رضی اللہ عنہ کی قبر کے پہلو میں تھی اور دونوں کے درمیان تقریباً ایک ذراع کا فاصلہ بتایا جاتا تھا؛ امام بخاری کی سوانحی روایت بھی الحکم کو بریدة کے پہلو میں مرو میں دفن بتاتی ہے۔ ٹی ڈی وی اس تدفینی مقام کو تنورکران کے نام سے شناخت کرتا ہے۔ یہ باہم مضبوط ہونے والی شہادتیں مرو کو تدفین کے لیے بصرہ کے مقابلے میں زیادہ قوی نتیجہ بناتی ہیں، جبکہ وفات کے مختلف سنین محفوظ رہتے ہیں۔
آج قدیم مرو کے مزاراتِ اصحاب حضرت بریدة بن حصیب اور حضرت الحکم بن عمرو رضی اللہ عنہما سے منسوب انفرادی زیارتی روایت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ مرو پر ٹی ڈی وی کی تحقیق بتاتی ہے کہ دونوں صحابہ کے مزارات منگول تباہی سے پہلے بھی معروف تھے اور پندرہویں صدی کے آغاز میں شاہ رخ نے انہیں دوبارہ تعمیر کرایا، ساتھ دو بلند ایوان اور ایک مسجد بھی بنائی گئی۔ یونیسکو موجودہ مجموعے کو 886-008، یعنی تیموری ایوان یا اصحاب، کے مستقل جزو کے طور پر درج کرتا اور اس کے لیے الگ جغرافیائی نقطہ فراہم کرتا ہے۔ موجودہ گنبدی مقابر بعد کی تعمیرِ نو اور مرمت کے مراحل رکھتے ہیں، اس لیے تصدیق شدہ نقشاتی مقام زندہ تاریخی زیارت گاہ اور طویل تدفینی روایت کو شناخت کرتا ہے، نہ کہ ساتویں صدی کی غیر تبدیل شدہ عمارت کو۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کی ولایت خراسان کو ایک متحد مشرقی صوبے کی شکل دینے اور مرو کو اس کا مرکز بنانے کے اہم مرحلے سے وابستہ ہے۔ ان کے عہد کی مہمات نے ہرات، جوزجان، طخارستان اور ماوراءالنہر کی سمتوں کو مرو کی صوبائی حکومت سے جوڑا۔ ان کے مختصر دور نے ان انتظامی اور عسکری طریقوں کو مضبوط کیا جن پر بعد کے والیوں نے مزید کام کیا۔
سونے اور چاندی کی تقسیم کا تنازع حضرت حکم رضی اللہ عنہ کو اخلاقی حکومت کے مباحث میں ایک دیرپا مثال بناتا ہے۔ روایات انہیں ایسے والی کے طور پر پیش کرتی ہیں جنہوں نے سیاسی فائدے کے حکم پر کتاب اور حقِ تقسیم کو مقدم سمجھا، جبکہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ محفوظ حدیث اس وسیع اصول کو بیان کرتی ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں۔ یوں یہ واقعہ اقتدارِ عامہ، دینی ذمہ داری اور مالِ غنیمت کے حقوق کے تعلق کی ایک نمایاں تاریخی مثال بن گیا۔
مرو میں حضرت الحکم رضی اللہ عنہ کی تدفین اور مزار کی روایت غیر معمولی تاریخی تسلسل رکھتی ہے۔ قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے سوانحی مآخذ انہیں حضرت بریدة رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مرو میں دفن بتاتے ہیں، ٹی ڈی وی تدفینی علاقے کو تنورکران کے نام سے شناخت کرتا ہے اور مرو کی اپنی تحقیق میں لکھتا ہے کہ دونوں صحابہ کے مزارات منگول تباہی سے پہلے موجود تھے۔ پندرہویں صدی کے آغاز میں شاہ رخ کی تعمیرِ نو سے دو تیموری ایوان اور تجدید شدہ مزاری مجموعہ سامنے آیا۔ یونیسکو آج اسی مجموعے کو قدیم مرو کے مستقل جزو 886-008 کے طور پر درج کرتا اور اس کا جغرافیائی نقطہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے ساختی جغرافیائی مختصات ایک مضبوط طور پر ثابت موجودہ زیارت گاہ کو شناخت کرتے ہیں، جبکہ تاریخی دیانت ساتویں صدی کی تدفینی روایت کو بعد کی نظر آنے والی عمارت سے الگ رکھتی ہے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | vol. 1, p. 357 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/565/ | lineage, Basra residence, Khurasan and death traditionTahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | vol. 7, pp. 126-127 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1531/ | mother, daughter, Merv burial beside Burayda, death variants and chains
Siyar A'lam al-Nubala' | al-Dhahabi | al-Hakam ibn Amr entry | biographical and administrative dossier
TDV Islam Ansiklopedisi | HAKEM b. AMR | https://islamansiklopedisi.org.tr/hakem-b-amr | Khurasan governorship, campaigns, spoils dispute, Merv death and Tennurkeran burial
TDV Islam Ansiklopedisi | MERV | https://islamansiklopedisi.org.tr/merv | pre-Mongol shrines and Shah Rukh rebuilding
UNESCO World Heritage Centre | Ancient Merv maps | https://whc.unesco.org/en/list/886/maps/ | component 886-008 Timurid iwans or Askhab and official coordinates
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔