ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیانؓ

PER-000170 اہلِ بیت مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا قریش کے بنو امیہ خاندان سے تعلق رکھنے والی ابتدائی مسلمان، حبشہ کی مہاجرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ اور حدیث کی راویہ تھیں۔ معتبر سوانحی ماخذ ان کے والد کو ابو سفیان صخر بن حرب، والدہ کو صفیہ بنت ابی العاص اور پہلے شوہر کو عبید اللہ بن جحش بیان کرتے ہیں۔ یہ تعلقات موجودہ دستیاب نسبی ریکارڈ خانوں میں درج نہیں، اس لیے پروفائل کا تاریخی متن مکمل ہونے کے باوجود فائل مستند خاندانی نسب نامہ کی اصلاح تک تحقیق طلب رہے گی۔
ولادت

پیدائش کی صحیح تاریخ محفوظ نہیں۔ وہ مکہ کے قریشی بنو امیہ خاندان میں، بعثت نبوی سے پہلے، ابو سفیان صخر بن حرب اور صفیہ بنت ابی العاص کے گھر پیدا ہوئیں۔

وفات

اکثر سوانحی ماخذ چوالیس ہجری میں مدینہ میں ان کی وفات بیان کرتے ہیں؛ ابن حبان نے بیالیس ہجری کی مختلف روایت بھی نقل کی ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

تاریخی ماخذ ام حبیبہؓ کی تدفین جنت البقیع، مدینہ میں بیان کرتے ہیں۔ بقیع میں ان کی انفرادی قبر کی الگ اور قابل اعتماد نشان دہی موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس پروفائل میں مخصوص جغرافیائی نقطہ نہیں دیا گیا۔ دمشق کے باب الصغیر میں ان سے منسوب مقام ان کا مدفن نہیں؛ حافظ ذہبی کے مطابق وہاں موجود قبر صحابیہ اسماء بنت یزید انصاریہؓ کی ہے، جو ام عامر اور ام سلمہ کی کنیتوں سے معروف تھیں اور ام المؤمنین ام سلمہؓ سے الگ شخصیت ہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام رملہ بنت ابی سفیان صخر بن حرب تھا، اگرچہ بعض قدیم سوانحی روایات میں ہند کا نام بھی نقل ہوا ہے۔ ابن عبد البر کے مطابق رملہ زیادہ مشہور اور اہل نسب و سیر کے نزدیک درست نام ہے۔ ان کی والدہ صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ تھیں، جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔ اس خاندانی پس منظر کے باوجود ام حبیبہ نے اسلام کے ابتدائی کمزور دور میں ایمان قبول کیا، جب ان کے والد ابھی مکہ کی قریشی قیادت میں مسلمانوں کے مخالف حلقے سے وابستہ تھے۔

انہوں نے عبید اللہ بن جحش کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ مستدرک اور دوسرے سوانحی ماخذ ان کے ہاں ایک بیٹی حبیبہ کی ولادت بیان کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی کنیت ام حبیبہ مشہور ہوئی۔ حبشہ کی ہجرت ان ابتدائی مسلمانوں کی حفاظت کے لیے تھی جنہیں مکہ میں دباؤ اور ظلم کا سامنا تھا۔ اس مرحلے نے ام حبیبہ کی زندگی کو اپنے خاندان کی سماجی طاقت سے جدا کرکے ایک مہاجر مسلم خاتون کی آزمائش، تنہائی اور استقلال سے جوڑ دیا۔

قدیم سوانحی روایت کے مطابق عبید اللہ بن جحش حبشہ میں عیسائیت کی طرف مائل ہوئے اور وہیں وفات پائی، جبکہ ام حبیبہ اسلام پر قائم رہیں۔ اس واقعے کی بعض بعد کی تفصیلات، خواب اور طویل مکالمے زیادہ تر متاخر روایات میں ملتے ہیں، اس لیے انہیں یقینی تاریخی منظر نہیں بنایا گیا۔ مشترک اور مضبوط نکتہ یہ ہے کہ وہ پردیس میں اپنے سابق شوہر سے جدا ہوئیں اور دین پر ثابت قدم رہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ میں ان سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ نجاشی نے عقد اور مہر کا انتظام کیا، جبکہ وکیل کے نام میں خالد بن سعید، عثمان بن عفان اور دوسرے طریقوں کی روایات موجود ہیں۔ مہر کی مقدار بھی بعض ماخذ میں چار سو دینار اور بعض میں دوسری تعبیر کے ساتھ آئی ہے۔ نکاح کو عموماً چھ یا سات ہجری کے قریب رکھا جاتا ہے، اور شرحبيل بن حسنہ کے ذریعے ان کے مدینہ آنے کی روایت محفوظ ہے۔ اختلافی جزئیات کے باوجود اصل نکاح، حبشہ میں اس کا انتظام اور مدینہ میں ان کی آمد مضبوط سوانحی روایت کا حصہ ہیں۔

مدینہ میں وہ امہات المؤمنین میں شامل ہوئیں۔ اپنے والد ابو سفیان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر والے مشہور واقعے کو بعد کے سیرتی ماخذ نقل کرتے ہیں، جس میں انہوں نے بستر کا احترام اپنے والد کے سیاسی مرتبے پر مقدم رکھا؛ اس واقعے کو اس کے ماخذی درجے کے ساتھ ہی سمجھنا چاہیے۔ ان کی زندگی نے قریشی خاندانی نسبت، حبشہ کی ہجرت اور مدینہ کے نبوی گھرانے کے درمیان ایک منفرد تاریخی ربط پیدا کیا۔

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کیں۔ صحیح مسلم اور سنن کی معتبر روایت میں بارہ نفل رکعتوں کی فضیلت ان سے منقول ہے، اور انہوں نے بتایا کہ اس حدیث کو سننے کے بعد انہوں نے اس عمل کو ترک نہیں کیا۔ ان سے نماز، حج اور گھریلو احکام سے متعلق دوسری روایات بھی نقل ہوئیں۔ یہ پہلو انہیں صرف ایک خاندانی شخصیت نہیں، بلکہ نبوی علم کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے والی صحابیہ اور راویہ کے طور پر بھی نمایاں کرتا ہے۔

اکثر سوانحی ماخذ ان کی وفات ۴۴ھ میں مدینہ میں بیان کرتے ہیں، اگرچہ ابن حبان نے ۴۲ھ کی روایت بھی نقل کی ہے۔ ان کا تاریخی مدفن جنت البقیع ہے؛ چونکہ آج بقیع میں ان کی انفرادی قبر کی الگ اور قابل اعتماد نشان دہی موجود نہیں، اس لیے اس پروفائل میں کسی مخصوص قبر کا جغرافیائی نقطہ درج نہیں کیا گیا۔ دمشق کے باب الصغیر میں ام حبیبہؓ سے منسوب مقام ان کا مدفن نہیں؛ حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ وہاں موجود قبر دراصل صحابیہ اسماء بنت یزید انصاریہؓ کی ہے، جو ام عامر اور ام سلمہ کی کنیتوں سے معروف تھیں اور ام المؤمنین ام سلمہؓ سے الگ شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی ایمان پر استقلال، ہجرت کی قربانی، خاندانی دباؤ کے مقابل دینی وفاداری اور نبوی تعلیم کی امانت دارانہ روایت کا روشن نمونہ ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی مکہ، حبشہ اور مدینہ کو ایک ہی تاریخی سوانح میں جوڑتی ہے۔ وہ ایسے قریشی گھرانے سے تھیں جو ابتدا میں مسلمانوں کی سیاسی مخالفت میں نمایاں تھا، مگر انہوں نے ابتدائی اسلام اور ہجرت کا راستہ اختیار کیا۔

حبشہ میں ان کا نکاح اسلامی تاریخ کے سفارتی اور بین الاقوامی پہلو کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ نجاشی نے نکاح اور مہر کے انتظام میں کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ ابتدائی مسلم مہاجرین، افریقی پناہ گاہ اور نبوی گھرانے کے درمیان تعلق کی علامت ہے۔

ان کی حدیثی روایت، خاص طور پر بارہ نفل رکعتوں والی روایت، ان کی علمی میراث کا مضبوط حصہ ہے۔ ساتھ ہی والد، والدہ اور سابق شوہر کے دستیاب نسبی ریکارڈ تعلقات کی تکمیل اس پروفائل کو تاریخی متن اور مرکزی شناختی نظام دونوں میں درست بنانے کے لیے ضروری ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

الاستيعاب في معرفة الأصحاب | ابن عبد البر | ترجمہ ۳۳۴۴؛ صفحات طباعت کے لحاظ سے مختلف | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/3382/%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%A7%D8%A1 | رملہ کا مشہور نام، ابو سفیان کا نسب، والدہ صفیہ، عبید اللہ بن جحش، حبشہ میں نکاح اور مہر کی مختلف روایتیں
سير أعلام النبلاء | شمس الدين الذهبي | جلد دوم، ام حبیبہ کا سوانحی اندراج؛ صفحات مختلف | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/155/%D8%A3%D9%85-%D8%AD%D8%A8%D9%8A%D8%A8%D8%A9-%D8%A3%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%A4%D9%85%D9%86%D9%8A%D9%86 | شناخت، ہجرت، سابق نکاح، حبشہ کا نکاح اور عمومی سوانح
الطبقات الكبرى | ابن سعد | ام حبیبہ کا سوانحی اندراج؛ صفحات طباعت کے لحاظ سے مختلف | https://shamela.ws/book/1686/2746 | مدینہ کی زندگی، خیبر کا عطیہ اور روایتِ حدیث
المستدرك على الصحيحين | الحاكم النيسابوري | کتاب معرفۃ الصحابہ، ام حبیبہ کا اندراج؛ صفحات مختلف | https://www.islamweb.net/ar/library/content/74/6673/%D8%B0%D9%83%D8%B1-%D8%A3%D9%85-%D8%AD%D8%A8%D9%8A%D8%A8%D8%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%A3%D8%A8%D9%8A-%D8%B3%D9%81%D9%8A%D8%A7%D9%86-%D8%B1%D8%B6%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%B9%D9%86%D9%87%D8%A7 | والدہ صفیہ، عبید اللہ بن جحش، بیٹی حبیبہ اور حبشہ کی روایت
صحیح مسلم | مسلم بن حجاج | حدیث ۷۲۸ | https://sunnah.com/muslim:728a | بارہ نفل رکعتوں کی فضیلت اور ام حبیبہ کا مسلسل عمل
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 2, pp. 219-223, biographical entry on Umm Habiba | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/155/ | Identity, migration and marriage; death-date reports; explicitly rejects the Damascus burial attribution, states that her grave is in Medina, and identifies the Bab al-Saghir grave with Asma bint Yazid al-Ansariyya, whose kunya was Umm Salama

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔