ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ اور انار کا درخت

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قشیری نے ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے کہ وہ محمد بن مبارک صوری کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سفر کر رہے تھے۔ دوپہر کے وقت دونوں ایک انار کے درخت کے نیچے ٹھہرے تو درخت کی جڑ کی طرف سے آواز آئی اور ابراہیم رحمہ اللہ کو اس کا پھل کھانے کی دعوت دی گئی۔ دعوت دہرائے جانے کے بعد انہوں نے دو انار لیے، اور واپسی کے سفر میں اسی درخت کو پہلے سے بلند اور اس کے پھل کو میٹھا پایا گیا۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ بعد میں وہ درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیتا تھا اور رمان العابدین کے نام سے مشہور ہوا۔

قشیری نے الرسالۃ القشیریہ میں ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ سے متعلق یہ کرامتی حکایت محفوظ کی ہے۔ محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں کہ وہ ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سفر کر رہے تھے۔ دوپہر کے قریب دونوں نے راستے میں ایک انار کے درخت کے نیچے آرام کے لیے قیام کیا۔ بظاہر یہ سفر کا ایک معمولی وقفہ تھا، مگر اسی جگہ روایت کا غیر معمولی واقعہ شروع ہوتا ہے۔

روایت کے مطابق اچانک درخت کی جڑ کی طرف سے ایک آواز سنائی دی۔ آواز نے ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ کو ان کی کنیت سے پکارا اور درخت کا پھل کھانے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تین مرتبہ دہرائی گئی، لیکن انہوں نے فوراً پھل نہ لیا۔ پھر اسی آواز نے محمد بن مبارک کو مخاطب کیا اور ان سے کہا کہ وہ سفارش کریں تاکہ ابراہیم رحمہ اللہ درخت سے کچھ لے لیں۔ یوں واقعہ آواز، دعوت اور پھر ساتھی سے کی گئی درخواست کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

اس کے بعد ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ نے دو انار لیے۔ ایک انار خود کھایا اور دوسرا محمد بن مبارک کو دیا۔ محمد بیان کرتے ہیں کہ انہیں ملنے والا انار کھٹا تھا۔ اس کے بعد دونوں اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے بیت المقدس کی طرف روانہ ہو گئے۔ پہلی ملاقات کا واقعہ بظاہر یہیں ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے، لیکن واپسی کے سفر میں وہی درخت دوبارہ داستان کا مرکز بن جاتا ہے۔

واپسی پر دونوں اسی راستے سے گزرے اور ایک مرتبہ پھر اس انار کے درخت کے پاس پہنچے۔ روایت کہتی ہے کہ اب اس کی حالت بدلی ہوئی تھی: جو درخت پہلے پست تھا وہ بلند ہو چکا تھا اور اس کے انار میٹھے تھے۔ اس طرح حکایت کا مرکزی سلسلہ مکمل ہوتا ہے؛ پہلے درخت کی جڑ سے آنے والی آواز، پھر پھل لینے کی دعوت، دو انار لینا، اور بعد میں اسی درخت کو بدلی ہوئی حالت اور میٹھے پھل کے ساتھ دیکھنا۔

قشیری کی اسی روایت میں مزید آتا ہے کہ بعد میں یہ درخت سال میں دو مرتبہ پھل دینے لگا اور اسے رمان العابدین کہا جانے لگا۔ عوامی بیان میں یہ تمام تفصیلات اسی ایک محفوظ حکایت کے اجزا کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ یوں قصہ اس درخت کے ذکر پر ختم ہوتا ہے جو ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ سے منسوب اس غیر معمولی سفر کی یاد کے ساتھ رمان العابدین کے نام سے پہچانا گیا۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت میں انار کے درخت سے آنے والی آواز، ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ کا اس سے پھل لینا، واپسی پر درخت اور پھل کی تبدیلی، اور آخر میں اس کا رمان العابدین کے نام سے معروف ہونا بیان ہوا ہے۔

مآخذ

al-Qushayri, al-Risala al-Qushayriyya, Bab Karamat al-Awliya
al-Qushayri, same report: voice from the base of the pomegranate
al-Qushayri, same report: invitation repeated and Muhammad addressed
al-Qushayri, same report: two pomegranates and sour fruit
al-Qushayri, same report: changed tree and sweet fruit on return
al-Qushayri, same report: twice-yearly fruit and Rumman al-Abidin name
al-Mizzi, Tahdhib al-Kamal, entry Muhammad ibn al-Mubarak al-Suri
al-Mizzi, Tahdhib al-Kamal: Ibn Hibban dates Muhammad al-Suri's birth 153 AH
al-Mizzi, Tahdhib al-Kamal, entry Ibrahim ibn Adham: death reports 161, 162 or 163 AH
CAND-0181 Task 1 evidence synthesis