صحیح بخاری ۳۶۹۵ اور صحیح مسلم ۲۴۰۳ ج میں نبی محمد ﷺ کی وہ مضبوط پیشگی خبر محفوظ ہے جس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت کے ساتھ آئندہ آنے والی آزمائش یا مصیبت کی اطلاع دی گئی۔ جامع ترمذی کی ایک الگ روایت اس بات کو زیادہ صراحت سے بیان کرتی ہے کہ فتنہ کے زمانے میں عثمان کو ناحق قتل کیا جائے گا۔ دوسری روایات میں انہیں اس “لباس” کو نہ اتارنے کی ہدایت ملتی ہے جو اللہ انہیں پہنائے گا، اگر لوگ بعد میں اس کے لیے دباؤ ڈالیں۔ تاریخی طور پر عثمان ۳۵ ہجری / ۶۵۶ عیسوی میں مدینہ میں قتل ہوئے، جو ان سابقہ پیش گوئیوں کے بعد پیش آنے والا تاریخی نتیجہ ہے۔
صحیح بخاری کی روایت میں ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عثمان کو جنت کی خوش خبری دی اور ساتھ ایک ایسی مصیبت کی خبر دی جو بعد میں انہیں پیش آنے والی تھی۔ صحیح مسلم میں بئر اریس کے واقعے کے ضمن میں یہی مفہوم دوبارہ آتا ہے: عثمان کے لیے جنت کی بشارت بھی ہے اور مستقبل کے امتحان یا اضطراب کی اطلاع بھی۔ ان دونوں روایات کا مرکز آنے والے فتنے کی پیشگی خبر ہے۔
ان دونوں صحیح روایات کے الفاظ کو اپنی حد میں رکھنا ضروری ہے۔ ان میں مستقبل کی سخت آزمائش کا ذکر ضرور ہے، لیکن ان مخصوص روایتوں میں یہ صریح الفاظ نہیں کہ عثمان لازماً شہید ہوں گے یا انہیں ناحق قتل کیا جائے گا۔ یہ زیادہ مخصوص مفہوم ایک الگ روایت میں آتا ہے، اس لیے مختلف ماخذوں کی زبان کو ایک ہی عبارت سمجھ کر ملا دینا درست نہیں ہوگا۔
جامع ترمذی کی ایک الگ روایت یہ زیادہ واضح تفصیل پیش کرتی ہے۔ اس میں نبی ﷺ ایک آنے والے فتنے کا ذکر کرتے ہیں اور عثمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہیں اس میں ناحق قتل کیا جائے گا۔ دوسری تائیدی روایات ایک اور انداز کی پیشگی تنبیہ محفوظ کرتی ہیں: عثمان سے کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ انہیں ایک “لباس” پہنائے تو لوگوں کے مطالبے پر اسے نہ اتاریں۔ سنن ابن ماجہ میں بھی اس سے ملتی ہدایت ہے کہ انہیں دی گئی ذمہ داری یا اقتدار کو دباؤ میں چھوڑ نہ دیں۔ یہ روایات متعلق ہیں، مگر بئر اریس کی صحیح روایت کے عین الفاظ نہیں۔
تاریخی نتیجہ کئی برس بعد سامنے آیا۔ عثمان خلیفہ بنے، پھر بڑھتی ہوئی مخالفت اور محاصرے کے بعد ۳۵ ہجری / ۶۵۶ عیسوی میں مدینہ میں قتل کر دیے گئے۔ ان کے قتل کا اصل واقعہ اور اس کا عمومی زمانی خاکہ تاریخی طور پر مضبوط طور پر ثابت ہے، لیکن سیاسی اسباب، ذمہ داریوں اور مختلف گروہوں کے کردار کی تفصیل محل اختلاف ہے۔ اس لیے اس واقعے کو کسی ایک جماعتی یا جانب دار سیاسی بیانیے میں محدود نہیں کرنا چاہیے۔
اس امیدوار واقعے کا غیر معمولی پہلو نبوی پیشگی علم ہے۔ نبی محمد ﷺ نے ایک آنے والے فتنے کی خبر پہلے دی، اور ایک تائیدی روایت میں عثمان کے ناحق قتل کی بھی پیش گوئی محفوظ ہے۔ اس بنیاد پر اسے وحی پر مبنی نشانی یا مستقبل کی خبر کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے، جبکہ عثمان کا بعد کا قتل اس سابقہ تنبیہ کا تاریخی نتیجہ ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
دستیاب روایات اس واقعے کو اعلیٰ اعتماد کے ساتھ نبوی غیبی پیشگی خبر کے طور پر مضبوط تائید دیتی ہیں: نبی محمد ﷺ نے عثمان کو جنت کی بشارت کے ساتھ مستقبل کے فتنے کی خبر دی، اور ایک الگ تائیدی روایت میں ان کے ناحق قتل کی صریح پیش گوئی بھی محفوظ ہے۔ ۳۵ ہجری / ۶۵۶ عیسوی میں عثمان کا قتل بعد میں سامنے آنے والا تاریخی نتیجہ ہے، جبکہ غیر معمولی اصل پیشگی نبوی خبر ہے۔