صحیح بخاری ۳۶۲۳–۳۶۲۴ اور صحیح مسلم ۲۴۵۰ الف و ج میں نبی محمد ﷺ کی آخری بیماری کی وہ گفتگو محفوظ ہے جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اہلِ بیت میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے آ ملنے کی خبر دی گئی۔ پہلی بات سن کر وہ روئیں، کیونکہ آپ نے بتایا کہ جبریلؑ نے اس سال قرآن کا دور آپ کے ساتھ دو مرتبہ کیا اور آپ نے اس سے اپنی وفات کے قریب ہونے کا اشارہ سمجھا۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ اہلِ بیت میں فاطمہؓ سب سے پہلے آپ سے آ ملیں گی۔ دوسری سرگوشی میں ان کے بلند مقام کی خوش خبری تھی، جس سے وہ مسکرائیں۔ بعد کی صحیح روایت بتاتی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور پھر وفات پا گئیں۔
نبی ﷺ کے وصال کے بعد فاطمہؓ نے پہلی سرگوشی کا مطلب بیان کیا۔ آپ نے انہیں بتایا تھا کہ جبریلؑ عام طور پر ہر سال آپ کے ساتھ قرآن کا دور ایک مرتبہ کرتے تھے، مگر اس سال یہ دور دو مرتبہ ہوا۔ نبی ﷺ نے اس غیر معمولی تکرار کو اپنی وفات کے قریب آنے کی علامت سمجھا۔ پھر آپ نے فاطمہؓ کو ایک اور سنجیدہ خبر دی کہ آپ کے اہلِ بیت یا خاندان میں وہ سب سے پہلے آپ سے آ ملیں گی۔
دوسری سرگوشی کا تعلق فاطمہؓ کے بلند مرتبے سے تھا۔ روایت میں انہیں اہلِ ایمان کی عورتوں یا جنت کی عورتوں میں نمایاں مقام کی خوش خبری دی گئی، اور یہی وہ بات تھی جس نے ان کے غم کے درمیان مسکراہٹ پیدا کی۔ یہ فضیلت اسی مجلس کا حصہ ہے، لیکن اسے اس اصل پیش گوئی سے الگ رکھنا چاہیے جس میں ان کے نبی ﷺ کے بعد سب سے پہلے وفات پانے کی خبر دی گئی تھی۔
بعد کا تاریخی نتیجہ صحیح بخاری میں محفوظ ہے۔ اس روایت کے مطابق حضرت فاطمہؓ نبی ﷺ کے وصال کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں اور پھر وفات پا گئیں۔ یہی چھ ماہ کا وقفہ اس پہلے بیان کی تکمیل کے لیے سب سے مضبوط ثابت شدہ مرحلہ بنتا ہے کہ اہلِ بیت میں وہ سب سے پہلے نبی ﷺ سے آ ملیں گی۔ اس طرح پیش گوئی اور بعد کا واقعہ ایک واضح زمانی ترتیب میں سامنے آتے ہیں۔
اس واقعے کی درست درجہ بندی وحی سے متعلق نشانی یا پیشگی خبر کے طور پر ہوتی ہے۔ غیر معمولی پہلو حضرت فاطمہؓ کی کوئی مستقل کرامت نہیں، بلکہ نبی ﷺ کا اپنی وفات کے قریب ہونے کو سمجھنا اور اپنے قریبی اہلِ بیت میں سے فاطمہؓ کے پہلے آ ملنے کی پیشگی خبر دینا ہے۔ اسی وجہ سے واقعے کا مرکزی وزن نبوی اطلاع پر رہتا ہے، نہ کہ بعد کے تاریخی جزئیات پر۔
عوامی بیان میں ماخذ کی حدود کا لحاظ ضروری ہے۔ صحیح روایات نجی گفتگو، وفات کے قریب ہونے کی خبر، فاطمہؓ کے پہلے آ ملنے کی پیش گوئی اور چھ ماہ کے وقفے کو مضبوطی سے ثابت کرتی ہیں۔ تاہم وفات کی بالکل متعین تقویمی تاریخ اور تدفین کی متنازع تفصیلات بعد کی تاریخی بحثوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں اسی درجے کے ثابت شدہ مواد کے طور پر اصل روایت میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
دستیاب صحیح روایات اس واقعے کو اعلیٰ اعتماد کے ساتھ نبوی غیبی پیشگی خبر کے طور پر ثابت کرتی ہیں: نبی ﷺ نے آخری بیماری میں فاطمہؓ کو بتایا کہ اہلِ بیت میں وہ سب سے پہلے آپ سے آ ملیں گی، اور صحیح بخاری بعد میں ان کے چھ ماہ بعد وفات پانے کو محفوظ کرتی ہے۔