حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نبوی پیش گوئی

وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیآزمائشتاریخی نتیجہصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متعدد مستند روایات میں نبی کریم ﷺ نے پہلے سے خبر دی کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ بخاری کی ایک روایت یہ بات مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر بیان کرتی ہے، جبکہ صحیح مسلم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مستقل طریق سے اسی پیش گوئی کی تصدیق کرتا ہے۔ برسوں بعد حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ شہید ہوئے۔ غیر معمولی مرکز پیش گوئی کا پورا ہونا ہے، جبکہ بعد کی سیاسی تعبیر کو الگ رکھنا چاہیے۔

مدینہ میں مسجد نبوی کی تعمیر ہو رہی تھی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کچی اینٹیں اٹھا کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ صحیح بخاری کے مطابق حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کے برعکس ایک وقت میں دو اینٹیں اٹھا رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے، ان سے گرد صاف کی اور ایسے الفاظ ارشاد فرمائے جن کا پورا مفہوم کئی برس بعد سامنے آیا۔

صحیح بخاری کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اور عمار انہیں اللہ کی طرف بلائیں گے جبکہ وہ انہیں آگ کی طرف بلائیں گے۔ بخاری کی دوسری متوازی روایت یہی منظر محفوظ کرتی ہے، مگر الفاظ یوں ہیں کہ عمار انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ انہیں آگ کی طرف بلائیں گے۔ دونوں عبارتیں الگ متوازی روایتوں کی ہیں، اس لیے انہیں ملا کر ایک نیا اقتباس نہیں بنانا چاہیے۔

صحیح مسلم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے اس پیش گوئی کی مستقل تائید کرتی ہے۔ ایک سے زیادہ اسناد میں وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ یوں اصل پیش گوئی صرف مسجد کی تعمیر والی روایت پر منحصر نہیں رہتی بلکہ الگ مضبوط حدیثی راستے سے بھی ثابت ہوتی ہے۔

اس خبر کا تاریخی ظہور بہت بعد میں ہوا۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خدمت جاری رکھی اور آخرکار جنگ صفین میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ شریک ہوئے۔ تاریخی مراجع کے مطابق وہ اسی جنگ میں سینتیس ہجری میں شہید ہوئے۔ یوں برسوں پہلے کہی گئی نبوی خبر کو بعد کے تاریخی واقعے میں واضح تکمیل ملی۔

اس تاریخی ظہور سے حدیث کا مرکزی مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت سے بہت پہلے خبر دے دی تھی کہ انہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ متعدد صحیح روایات اس پیش گوئی کو محفوظ کرتی ہیں، اور صفین میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت اس خبر کی تاریخی تکمیل بن گئی۔ اس واقعے کا غیر معمولی پہلو مستقبل کے ایک اہم واقعے کی درست پیشگی اطلاع ہے جو برسوں بعد اسی طرح ظاہر ہوئی۔

خلاصۂ نتیجہ

سب سے مضبوط شہادت ایک بلند اعتماد نبوی پیش گوئی کو ثابت کرتی ہے: نبی کریم ﷺ نے برسوں پہلے خبر دی کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اور بعد میں وہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوئے۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 2812, Book 56 (Fighting for the Cause of Allah), Hadith 28; Abu Sa'id al-Khudri report via Ikrima.
Sahih al-Bukhari 447, Book 8 (Prayers), Hadith 96; Abu Sa'id al-Khudri report via Ikrima, mosque-construction parallel.
Sahih Muslim 2916a, Book 54 (Tribulations and Portents of the Last Hour), Hadith 88; Umm Salama report.
Sahih Muslim 2916c, Book 54 (Tribulations and Portents of the Last Hour), Hadith 90; Umm Salama report through another chain.
Ibn Hajar al-Asqalani, Fath al-Bari, commentary on Sahih al-Bukhari 447, Bab al-ta'awun fi bina' al-masjid; discussion of 'Ammar and al-fi'ah al-baghiyah.
Mustafa Fayda, 'Ammar b. Yasir,' TDV Islam Ansiklopedisi; records Ammar's participation with Ali at Siffin and death there in 37/657.