حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور واپس آنے والا سلام

صحابی/صحابیہ کی کرامتعبرترحمت یا برکتقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح مسلم میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ انہیں ایک غیر معمولی سلام آتا تھا، داغنے کے علاج کے بعد وہ سلام رک گیا اور جب انہوں نے یہ علاج چھوڑ دیا تو دوبارہ آنے لگا۔ صحیح مسلم کے اصل الفاظ سلام کرنے والوں کا نام نہیں بتاتے۔ امام بیہقی اور امام حاکم کی کلاسیکی روایات اس سلام کو صراحت کے ساتھ فرشتوں کا سلام قرار دیتی ہیں۔ اس لیے واقعہ بلند اعتماد کے ساتھ شائع کیا جا سکتا ہے، مگر دونوں ماخذی تہوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی تھے اور علم، عبادت اور وقار کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کے آخری حصے سے متعلق ایک غیر معمولی واقعہ حضرت مطرف بن عبداللہ کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ اس واقعے کا سب سے مضبوط اصل متن صحیح مسلم میں محفوظ ہے، جہاں حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں سلام کیا جاتا تھا۔ صحیح مسلم کے اس مقام پر یہ نہیں بتایا گیا کہ سلام کرنے والے کون تھے، اس لیے یہی احتیاط عوامی بیان میں بھی قائم رہنی چاہیے۔

حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے علاج کے طور پر داغ لگوایا۔ صحیح مسلم کے مطابق اس کے بعد وہ سلام آنا بند ہو گیا۔ پھر انہوں نے داغنے کا علاج چھوڑ دیا تو سلام دوبارہ آنے لگا۔ روایت اس ترتیب کو سادہ انداز میں بیان کرتی ہے؛ نہ کوئی پوشیدہ جسمانی طریقہ بتاتی ہے اور نہ اسے ہر مریض یا ہر علاج کے لیے عمومی اصول بناتی ہے۔ اصل توجہ اس غیر معمولی تجربے پر ہے جسے حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے خود بیان کیا۔

صحیح مسلم کی ایک متوازی روایت یہ بات ان کی اس بیماری کے زمانے میں رکھتی ہے جس میں بعد میں ان کی وفات ہوئی۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے حضرت مطرف کو بلایا اور فرمایا کہ وہ انہیں کچھ ایسی باتیں بتا رہے ہیں جو ان کے بعد فائدہ دے سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ جب تک وہ زندہ رہیں معاملہ پوشیدہ رکھا جائے، اور وفات کے بعد مناسب سمجھیں تو بیان کر دیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں سلام کیا گیا ہے۔ اس پہلو سے واقعہ نمائش کے بجائے ایک ذاتی اور محتاط امانت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

سلام کرنے والوں کی شناخت کلاسیکی مؤید ماخذ میں صریح ہو جاتی ہے۔ امام بیہقی نے باب ہی اس مضمون کے ساتھ قائم کیا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرشتوں کو دیکھتے یا ان کی آواز سنتے تھے، فرشتے انہیں سلام کرتے تھے، داغ لگوانے پر یہ سلسلہ رک گیا اور چھوڑنے کے بعد واپس آ گیا۔ اسی نقل میں واپس آنے والی چیز کی تشریح فرشتوں کے سلام کے طور پر کی گئی ہے۔ امام حاکم کی روایت میں حضرت عمران رضی اللہ عنہ حضرت مطرف سے کہتے ہیں کہ فرشتے ان کے سر کے پاس، گھر کے اندر اور حجرے کے دروازے پر انہیں سلام کرتے تھے؛ داغ لگوانے کے بعد یہ کیفیت ختم ہوئی اور پھر واپس آ گئی۔

اس لیے سب سے درست عوامی طریقہ یہ ہے کہ پہلے صحیح مسلم کا ثابت اصل واقعہ بیان کیا جائے، پھر واضح کیا جائے کہ امام بیہقی اور امام حاکم کی روایات سلام کرنے والوں کو فرشتے قرار دیتی ہیں۔ داغنے کے علاج کو مطلقاً حرام یا نقصان دہ قرار دینا، یا سلام رکنے کی کوئی طبی یا غیبی وجہ خود سے بنانا، ان ماخذ سے ثابت نہیں ہوتا۔

خلاصۂ نتیجہ

سب سے مضبوط شہادت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ایک غیر معمولی سلام کے تجربے کو محفوظ کرتی ہے، جبکہ کلاسیکی مؤید روایات اسے فرشتوں کا سلام قرار دیتی ہیں۔ دونوں ماخذی تہوں کو الگ رکھنا واقعے کی معنویت اور علمی دیانت دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔

مآخذ

Sahih Muslim 1226c
Sahih Muslim 1226e
Al-Bayhaqi, Dala'il al-Nubuwwah, vol. 7, p. 79
Al-Hakim, al-Mustadrak 'ala al-Sahihayn 6048