کلاسیکی مصادر میں ایک اہم مگر محلِ اختلاف روایت محفوظ ہے کہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔ حاکم نیشاپوری لکھتے ہیں کہ فاطمہ بنت اسد کے کعبہ میں علی رضی اللہ عنہ کو جنم دینے کی روایات تواتر تک پہنچی ہوئی تھیں، جبکہ شیخ مفید بھی مقدس گھر کے اندر ولادت کا ذکر کرتے ہیں۔ شیخ صدوق کی ایک زیادہ تفصیلی امامی روایت میں فاطمہ بنت اسد کے کعبہ کی پچھلی دیوار میں بننے والے شگاف سے داخل ہونے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ تاہم اس تفصیلی سند میں محمد بن سنان شامل ہیں، جن کی حیثیت پر امامی علمِ رجال میں نمایاں اختلاف ہے اور بڑے رجالی علما نے ان پر سخت جرح بھی کی ہے۔ بعد کے سنی ناقدین میں امام نووی نے کعبہ میں ولادت کی روایت کو ضعیف کہا، اور حکیم بن حزام کی کعبہ میں ولادت کی الگ کلاسیکی روایت بھی موجود ہے۔ اس لیے اصل ولادت، دیوار کھلنے کی کیفیت اور صرف علی رضی اللہ عنہ کے لیے اس مقام کی انفرادیت کے دعوے کو ایک ہی درجۂ یقین پر بیان نہیں کیا جانا چاہیے۔
مشہور دیوار کھلنے کا منظر شیخ صدوق کی ایک زیادہ مخصوص امامی روایت میں آتا ہے۔ یزید بن قعنب کے طریق میں کہا گیا ہے کہ کعبہ کی پچھلی جانب کھلی، فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہوئیں اور نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔ روایت کے مطابق دیوار دوبارہ بند ہوگئی اور موجود لوگ دروازے کا قفل بھی نہ کھول سکے، جسے انہوں نے ایک الٰہی معاملہ سمجھا۔ پھر کہا گیا ہے کہ فاطمہ «چوتھے کے بعد» علی رضی اللہ عنہ کو اٹھائے باہر آئیں۔ اس تعبیر کو ماخذ کی طرح مبہم رہنا چاہیے؛ اسے قطعی تین یا چار دن کی مدت میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
اس تفصیلی منظر کی سند میں محمد بن سنان شامل ہیں، اس لیے ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ امامی علمِ رجال کے بڑے علما، جن میں نجاشی اور شیخ طوسی شامل ہیں اور جن کی آرا بعد کی رجالی بحث میں محفوظ ہیں، نے ان پر ضعف کی جرح کی، جبکہ دوسرے امامی مواد میں ان کے بارے میں مختلف یا نسبتاً موافق گفتگو بھی ملتی ہے۔ یہ اختلاف کعبہ میں ولادت کی ہر روایت کو خود بخود ختم نہیں کرتا، مگر دیوار کھلنے کی کیفیت کو اسی مخصوص طریق سے منقول تفصیل کے طور پر رکھنا چاہیے، نہ کہ ہر وسیع تر مقامِ ولادت کی خبر کے برابر یقین سے۔
اہم مخالف شہادت بھی موجود ہے۔ امام نووی لکھتے ہیں کہ اہلِ علم کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ کی کعبہ کے اندر ولادت کی روایت ضعیف ہے۔ المستدرک کے اسی مقام میں حکیم بن حزام کی ولادت بھی کعبہ کے اندر ہونے کی روایت درج ہے۔ اسی لیے شیخ مفید کا یہ مزید دعویٰ کہ علی رضی اللہ عنہ سے پہلے یا بعد کوئی وہاں پیدا نہیں ہوا، ایک مخصوص روایتی انفرادیت کا دعویٰ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ غیر متنازع تاریخی نتیجہ۔
اس لیے محتاط عوامی بیان تین الگ درجے رکھتا ہے: کعبہ کے اندر ولادت کی منقول روایت، دیوار کھلنے کی تفصیلی روایت، اور انفرادیت کا الگ دعویٰ۔ دیوار کے شگاف کی جدید تصاویر یا عمارت کے نشانات کو تاریخی ثبوت نہیں بنایا جاتا، کیونکہ پہلے مرحلے کے تصدیق شدہ شواہد نے انہیں اس واقعے کا معتبر تاریخی ثبوت ثابت نہیں کیا۔
خلاصۂ نتیجہ
علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کعبہ کے اندر ولادت کی روایت کے لیے قابلِ ذکر کلاسیکی ماخذی بنیاد موجود ہے، لیکن اس کی تفصیلات اختلاف سے خالی نہیں۔ دیوار کھلنے کی مخصوص روایت اور یہ دعویٰ کہ وہاں صرف علی رضی اللہ عنہ ہی پیدا ہوئے، وسیع تر مقامِ ولادت کی روایت کے مقابل زیادہ احتیاط کے ساتھ بیان کیے جانے چاہییں۔