مالک بن دینار رحمہ اللہ: مچھلیوں کے منہ میں جواہرات اور سمندر پر چلنے کی کرامت

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ہجویری رحمہ اللہ کشف المحجوب میں مالک بن دینار رحمہ اللہ سے متعلق ایک غیر معمولی کرامت نقل کرتے ہیں۔ سمندری سفر کے دوران جہاز میں ایک جواہر گم ہوگیا اور مالک بن دینار پر اسے لینے کا الزام لگا۔ روایت کے مطابق مچھلیاں منہ میں جواہرات لیے سطحِ سمندر پر آئیں، مالک نے ایک جواہر لے کر مدعی کو دے دیا، اور اس کے بعد وہ پانی پر چلتے ہوئے ساحل تک پہنچ گئے۔

ہجویری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب میں مالک بن دینار رحمہ اللہ کے سمندری سفر سے متعلق ایک یادگار کرامت نقل کی ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ جہاز میں موجود کسی شخص کا ایک جواہر گم ہوگیا۔ تلاش اور گفتگو کے دوران الزام مالک بن دینار پر آگیا اور ان سے اس گم شدہ جواہر کے بارے میں مطالبہ کیا جانے لگا۔ یوں ایک معمول کا سمندری سفر اچانک ایک ایسی صورت اختیار کر گیا جس میں سب کی توجہ مالک بن دینار کی طرف ہوگئی۔

روایت کہتی ہے کہ مالک بن دینار رحمہ اللہ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اس کے بعد سمندر کی سطح پر ایک حیرت انگیز منظر ظاہر ہوا۔ مچھلیاں پانی سے اوپر آئیں اور ان کے منہ میں جواہرات تھے۔ جہاز میں موجود لوگوں کے سامنے یہ منظر اس وقت ظاہر ہوا جب مالک بن دینار پر گم شدہ جواہر کا الزام موجود تھا۔

مالک بن دینار رحمہ اللہ نے ان مچھلیوں میں سے ایک جواہر لیا اور اسے اس شخص کے حوالے کر دیا جس نے اپنا جواہر گم ہونے کی شکایت کی تھی۔ کشف المحجوب کی روایت میں کسی معمول کی تلاش یا جہاز کے اندر سے جواہر ملنے کا ذکر نہیں، بلکہ مچھلیوں کے ذریعے جواہر کا سامنے آنا ہی اس قصے کا مرکزی اور حیرت انگیز لمحہ بنتا ہے۔

واقعہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ جواہر دینے کے بعد مالک بن دینار رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ جہاز سے اتر کر سمندر کے پانی پر قدم رکھتے ہوئے چل پڑے۔ وہ پانی پر چلتے رہے یہاں تک کہ ساحل تک پہنچ گئے۔ یوں اسی ایک حکایت میں دو غیر معمولی مناظر یکجا ہوجاتے ہیں: پہلے مچھلیوں کا جواہرات لے کر سطحِ سمندر پر آنا، اور پھر مالک بن دینار کا پانی پر چلتے ہوئے ساحل تک پہنچ جانا۔

کشف المحجوب میں یہ دونوں حصے مالک بن دینار رحمہ اللہ سے منسوب اسی کرامتی حکایت کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔ الزام سے شروع ہونے والا واقعہ پہلے مچھلیوں کے حیرت انگیز منظر میں بدلتا ہے، پھر مالک بن دینار جواہر دے کر جہاز سے الگ ہوجاتے ہیں اور سمندر پر چلتے ہوئے اپنی راہ لیتے ہیں۔

مالک بن دینار رحمہ اللہ سے متعلق اسی نوع کی ایک ملتی جلتی کرامت عطار کی تذکرۃ الاولیاء میں بھی ملتی ہے، جہاں سمندری سفر، مچھلیوں کا قیمتی چیزیں لانا اور پانی پر چلنے کا منظر موجود ہے۔ اس صفحے پر بنیادی حکایت ہجویری رحمہ اللہ کی کشف المحجوب میں محفوظ روایت کے مطابق پیش کی گئی ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

کشف المحجوب میں مالک بن دینار رحمہ اللہ کی یہ یادگار کرامت محفوظ ہے کہ گم شدہ جواہر کے الزام کے بعد مچھلیاں جواہرات لیے سطحِ سمندر پر آئیں، انہوں نے ایک جواہر مدعی کو دیا، اور پھر پانی پر چلتے ہوئے ساحل تک پہنچ گئے۔

مآخذ

al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, section on Malik ibn Dinar
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, displayed report form
Attar, Tadhkirat al-Awliya, section on Malik ibn Dinar
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, Dhu al-Nun and an unnamed youth
CAND-0238 Task 1 evidence synthesis