الکافی میں ایک اثنا عشری امامی روایت محفوظ ہے جو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مکہ میں پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ محمد بن حنفیہ اور امام علی بن الحسین علیہ السلام وصایت و امامت کے معاملے کو حجرِ اسود کے سامنے لے گئے۔ محمد بن حنفیہ نے دعا کی اور حجر سے سوال کیا مگر روایت میں کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر امام علی بن الحسین علیہ السلام نے دعا کی تو حجرِ اسود حرکت میں آیا اور روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اسے واضح عربی میں کلام کرایا، جس پر اس نے امام حسین علیہ السلام کے بعد امام علی بن الحسین علیہ السلام کی وصایت و امامت کی گواہی دی۔ قصہ محمد بن حنفیہ کے اقرار پر ختم ہوتا ہے۔
امام علی بن الحسین علیہ السلام نے معاملہ محض گفتگو پر ختم کرنے کے بجائے ایک نشانی کے ذریعے فیصلہ کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مکہ میں حجرِ اسود کے پاس چلیں اور اسی کے سامنے معاملہ پیش کریں۔ دونوں حجرِ اسود کے پاس پہنچے تو امام علی بن الحسین علیہ السلام نے پہلے محمد بن حنفیہ سے کہا کہ وہ دعا کریں اور اپنا سوال پیش کریں۔
محمد بن حنفیہ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی اور پھر حجرِ اسود سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا، لیکن روایت میں ان کے لیے کوئی جواب نقل نہیں ہوا۔ اس پر امام علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آپ وصی اور امام ہوتے تو حجر آپ کو جواب دیتا۔ محمد بن حنفیہ نے پھر کہا کہ اب آپ دعا کریں اور حجر سے سوال کریں۔
امام علی بن الحسین علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں متوجہ ہوئے اور حجرِ اسود کو اس میثاق کا واسطہ دے کر مخاطب کیا جسے روایت انبیاء، اوصیاء اور لوگوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ امام حسین علیہ السلام کے بعد وصی اور امام کون ہے۔ یہاں قصہ اپنے مرکزی غیر معمولی منظر تک پہنچتا ہے: الکافی کے مطابق حجرِ اسود اس قدر حرکت کرنے لگا کہ قریب تھا اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔
روایت آگے بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حجرِ اسود کو واضح عربی میں کلام کرایا۔ حجر نے گواہی دی کہ امام حسین علیہ السلام کے بعد وصایت و امامت امام علی بن الحسین علیہ السلام کے لیے ہے۔ یوں وہی سوال جس کی وجہ سے دونوں خانۂ کعبہ کے پاس آئے تھے، اسی نشانی کے ذریعے جواب پاتا ہے، اور واقعہ فوراً محمد بن حنفیہ کے ردِعمل کی طرف بڑھتا ہے۔
الکافی قصے کو محمد بن حنفیہ کے امام علی بن الحسین علیہ السلام کی ولایت و امامت تسلیم کرنے اور واپس جانے پر ختم کرتی ہے۔ قدیم کتاب الامامۃ والتبصرۃ میں بھی اسی بنیادی واقعے کی ملتی جلتی روایت محفوظ ہے، اور شیخ طوسی نے بھی امامت کی بحث میں اسے ذکر کیا ہے۔ یہاں عوامی بیان الکافی کی اصل ترتیب پر قائم ہے: نجی گفتگو، حجرِ اسود کے پاس جانا، محمد بن حنفیہ کی دعا پر خاموشی، امام علی بن الحسین علیہ السلام کی دعا، حجر کی حرکت اور کلام، اور آخر میں اقرار۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت کا اختتام امام علی بن الحسین علیہ السلام کی دعا کے بعد حجرِ اسود کے حرکت کرنے اور کلام کرنے، پھر محمد بن حنفیہ کے اقرار پر ہوتا ہے۔
مآخذ
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-01 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-02 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-03 links this SOURCE to its source-grounded claim.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-04 links this SOURCE to its source-grounded claim.