کربلا کے بعد امام علی بن الحسینؑ کے حق میں حجرِ اسود کی گواہی

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

الکافی کی ایک مفصل اثنا عشری امامی روایت کے مطابق امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مکہ میں محمد بن حنفیہ اور امام علی بن الحسینؑ کے درمیان وصایت و امامت پر گفتگو ہوئی۔ دونوں حجرِ اسود کے پاس گئے۔ محمد بن حنفیہ نے پہلے دعا کی مگر جواب نہ آیا۔ پھر امام علی بن الحسینؑ نے دعا کی تو روایت کے مطابق حجر حرکت میں آیا اور اللہ نے اسے واضح عربی میں کلام کرایا۔ اس نے امام حسینؑ کے بعد امامت امام علی بن الحسینؑ کے لیے ہونے کی گواہی دی، اور روایت محمد بن حنفیہ کے اقرار پر ختم ہوتی ہے۔

یہ واقعہ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ الکافی کے مطابق محمد بن حنفیہ نے امام علی بن الحسینؑ سے تنہائی میں ملاقات کی اور وصایت و امامت کا سوال اٹھایا۔ روایت میں محمد اپنی زیادہ عمر اور امام علیؑ کے بیٹے ہونے کی نسبت پیش کرتے ہیں۔ امام علی بن الحسینؑ جواب دیتے ہیں کہ امام حسینؑ نے عراق روانہ ہونے سے پہلے انہیں وصیت کردی تھی، شہادت سے کچھ پہلے عہد کی تجدید کی تھی، اور رسول اللہ ﷺ کا سلاح ان کے پاس ہے۔

امام علی بن الحسینؑ نے معاملہ صرف گفتگو پر نہیں چھوڑا بلکہ ایک نشانی کے ذریعے فیصلہ کرنے کی تجویز دی۔ روایت صاف کہتی ہے کہ یہ گفتگو مکہ میں ہوئی۔ دونوں حجرِ اسود کے پاس پہنچے۔ امامؑ نے محمد بن حنفیہ سے کہا کہ پہلے آپ اللہ کے حضور دعا کریں، اس سے حجر کو بولنے کی قدرت دینے کی درخواست کریں، پھر اپنا سوال پیش کریں۔

محمد بن حنفیہ نے دعا کی اور حجرِ اسود سے سوال کیا، لیکن جواب نہ آیا۔ امام علی بن الحسینؑ نے فرمایا کہ اگر آپ وصی اور امام ہوتے تو حجر جواب دیتا۔ محمد نے کہا کہ اب آپ دعا کریں۔

امام علی بن الحسینؑ اللہ کی بارگاہ میں متوجہ ہوئے اور حجرِ اسود سے اس ذات کا واسطہ دے کر پوچھا جس نے اس میں انبیاء، اوصیاء اور تمام لوگوں کا میثاق رکھا ہے کہ امام حسینؑ کے بعد وصی اور امام کون ہے۔ روایت یہاں عروج پر پہنچتی ہے: حجرِ اسود حرکت کرنے لگا، یہاں تک کہ قریب تھا اپنی جگہ سے نکل جائے۔ پھر الکافی کے مطابق اللہ نے اسے واضح عربی میں کلام کرایا اور اس نے گواہی دی کہ امام حسینؑ کے بعد وصایت اور امامت علی بن الحسین بن علی بن ابی طالبؑ، سیدہ فاطمہؑ بنت رسول اللہ ﷺ کے فرزند، کے لیے ہے۔

الکافی قصہ اس پر ختم کرتا ہے کہ محمد بن حنفیہ امام علی بن الحسینؑ کی ولایت تسلیم کرتے ہوئے واپس ہوئے۔ علامہ مجلسی اس عبارت کو آپؑ کی امامت کے اقرار سے تعبیر کرتے ہیں۔ قدیم کتاب الامامۃ والتبصرۃ بھی یہی بنیادی واقعہ محفوظ کرتی ہے اور ایک الگ روایت میں کہتی ہے کہ محمد بن حنفیہ کی وفات اس وقت تک نہ ہوئی جب تک وہ امام علی بن الحسینؑ پر ایمان نہ لے آئے۔ شیخ طوسی بھی بعد میں اس قصے کو امامیہ کے ہاں مشہور کہتے ہیں۔

سندی اعتبار سے یہ روایت امامی حدیثی معیار میں مضبوط مقام رکھتی ہے۔ علامہ مجلسی نے الکافی کی پہلی سند کو صحیح اور دوسری کو حسن کالصحیح قرار دیا۔ سید ابو القاسم خوئی نے بھی اسے صحیح السند کہا اور لکھا کہ یہ محمد بن حنفیہ کے ایمان اور امام علی بن الحسینؑ کی امامت کے اقرار پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے اسے اثنا عشری امامی حدیثی تحقیق میں مضبوط روایت کہنا درست ہے، البتہ تمام اسلامی مکاتب کا متفق علیہ تاریخی واقعہ نہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

قدیم روایت ایک مکمل واقعہ پیش کرتی ہے: کربلا کے بعد نجی گفتگو، مکہ میں حجرِ اسود کے پاس جانا، محمد بن حنفیہ کی دعا پر خاموشی، امام علی بن الحسینؑ کی دعا، حجر کی حرکت اور گواہی، اور آخر میں محمد بن حنفیہ کا اقرار۔ حیثیتِ روایت: اثنا عشری امامی حدیثی تحقیق میں اسے مضبوط اور صحیح السند قرار دیا گیا ہے، خصوصاً مجلسی اور خوئی کے ہاں؛ مگر یہ تمام مسلمانوں کے ہاں متفق علیہ تاریخی واقعہ نہیں۔

مآخذ

Al-Kafi, vol. 1, p. 348, Book 4, Chapter 81, Hadith 5

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-01 links this SOURCE to its source-grounded claim.

Al-Majlisi, Mir'at al-'Uqul, vol. 4, p. 84

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-02 links this SOURCE to its source-grounded claim.

Ali ibn al-Husayn ibn Babawayh, al-Imamah wa al-Tabsirah min al-Hayrah, Hadith 49

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-03 links this SOURCE to its source-grounded claim.

Al-Tusi, Kitab al-Ghayba, Book 1, Chapter 6

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0084-CLM-04 links this SOURCE to its source-grounded claim.