مکہ مکرمہ میں نبوت سے پہلے پیدائش ہوئی۔ ابن عبد البر کی ایک روایت ولادت کو اس وقت رکھتی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً ۳۳ سال تھی، لیکن قطعی عیسوی سال مضبوط طور پر ثابت نہیں۔
رقیہ بنت محمد مصطفیٰ ﷺ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
رسولِ اکرم ﷺ کی اولاد کی اس فہرست میں بعض تفصیلات پر روایتی اختلاف موجود ہے؛ سنی اور امامی مآخذ کا تقابلی دائرہ محفوظ ہے اور اندراج غیر قطعی درجے میں رکھا گیا ہے۔
PER-000031
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مشترک قبرستانی نقطہ
مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
سیدہ رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا غالب کلاسیکی سوانحی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ابتدائی مسلم مہاجرہ کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا، حبشہ اور پھر مدینہ کی ہجرت کی، ۲ ہجری میں بدر کی مہم کے زمانے میں بیماری سے وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ بعض بعد کے امامی مصنفین نے حیاتیاتی نسبت سے اختلاف کیا، جبکہ بعض امامی مجموعوں میں انہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادیوں میں شمار کرنے والی روایات محفوظ ہیں؛ اس لیے دونوں زاویے واضح نسبت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
شدید بیماری کے بعد رمضان ۲ ہجری میں بدر کی مہم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی، جو عمومی زمانی حساب سے مارچ ۶۲۴ء کے قریب ہے۔ فتح کی خبر مدینہ پہنچنے کے وقت تدفین جاری یا ابھی مکمل ہوئی تھی، لیکن ۱۷ رمضان کو قطعی یوم وفات قرار دینے پر تمام روایات یکساں نہیں۔
جنت البقیع، مدینہ منورہ میں تدفین معروف قدیم سوانحی روایت سے ثابت ہے۔ مدنی روایت قبر کو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے قریب رکھتی ہے۔ موجودہ محفوظ شخصی فائل میں مرکزی مزار یا نقشاتی ربط درج نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا مکہ میں نبوت سے پہلے پیدا ہوئیں۔ ابن عبد البر کی ایک روایت ولادت کو اس وقت رکھتی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً ۳۳ سال تھی، لیکن قطعی عیسوی سال مضبوط طور پر ثابت نہیں۔ غالب کلاسیکی تراجمی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی مانتی ہے، جبکہ بہنوں کی ترتیب میں اختلاف محفوظ ہے۔
نبوت سے پہلے ان کا رشتہ ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے طے ہوا، مگر رخصتی نہیں ہوئی۔ دعوتِ اسلام کے اعلان اور سورۂ مسد کے نزول کے بعد ابو لہب نے یہ تعلق ختم کرا دیا۔ ابن سعد اور ابن حجر کے مطابق سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ کے ساتھ اسلام قبول کیا اور دوسری مسلم خواتین کے ساتھ بیعت کی۔
بعد میں ان کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ مکہ میں دباؤ بڑھا تو دونوں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہوئے، اور ابن سعد انہیں حبشہ کی دونوں ہجرتوں سے جوڑتے ہیں۔ یہ ہجرت ایمان کی حفاظت کے لیے گھر اور معاشرتی تحفظ چھوڑنے کی نمایاں مثال تھی۔
قدیم مآخذ پہلے ساقط حمل اور پھر عبد اللہ نامی بیٹے کی پیدائش بیان کرتے ہیں، جس سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہوئی۔ عبد اللہ اپنی والدہ کے بعد زندہ رہا اور ۴ھ میں کم عمری میں فوت ہوا؛ عمر کے بارے میں ۲ اور ۶ سال کی روایات ملتی ہیں۔ حبشہ سے واپسی کے بعد سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ کی ہجرت بھی کی۔
۲ھ میں بدر کی تیاری کے زمانے میں وہ شدید بیمار ہوگئیں۔ صحیح بخاری اور جامع ترمذی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا اور بدر کے شریک کا اجر اور مالِ غنیمت کا حصہ عطا فرمایا۔
ان کی وفات رمضان ۲ ہجری میں بدر کی مہم کے زمانے میں ہوئی، جو عمومی زمانی حساب سے مارچ ۶۲۴ء کے قریب ہے۔ روایات کے مطابق زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فتح کی خبر لے کر اس وقت مدینہ پہنچے جب تدفین جاری تھی یا ابھی مکمل ہوئی تھی۔ یہ ترتیب ۱۷ رمضان کو مکمل اتفاق کے ساتھ قطعی یوم وفات ثابت نہیں کرتی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں تھے، اس لیے جنازے میں آپ کی موجودگی والی بعض روایات کو مؤرخین نے دوسری صاحبزادی یا بعد میں قبر پر حاضری سے متعلق سمجھا ہے۔
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا جنت البقیع میں دفن ہوئیں، اور مدنی جغرافیائی روایت ان کی قبر کو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے قریب رکھتی ہے۔ بعض بعد کے امامی مصنفین نے انہیں ہالہ بنت خویلد کی بیٹی یا نبوی گھر میں پرورش پانے والی بچی کہا۔ دوسری طرف بعض امامی مجموعوں میں انہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادیوں میں شمار کرنے والی روایات محفوظ ہیں، جو غالب کلاسیکی سوانحی روایت سے موافق ہیں۔ ان کی زندگی ایمان، دو ہجرتوں، گھریلو ذمہ داری اور قربانی کی مثال ہے، جبکہ بعد کے نسبی اختلاف کو واضح نسبت کے ساتھ محفوظ رہنا چاہیے۔
نبوت سے پہلے ان کا رشتہ ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے طے ہوا، مگر رخصتی نہیں ہوئی۔ دعوتِ اسلام کے اعلان اور سورۂ مسد کے نزول کے بعد ابو لہب نے یہ تعلق ختم کرا دیا۔ ابن سعد اور ابن حجر کے مطابق سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ کے ساتھ اسلام قبول کیا اور دوسری مسلم خواتین کے ساتھ بیعت کی۔
بعد میں ان کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ مکہ میں دباؤ بڑھا تو دونوں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہوئے، اور ابن سعد انہیں حبشہ کی دونوں ہجرتوں سے جوڑتے ہیں۔ یہ ہجرت ایمان کی حفاظت کے لیے گھر اور معاشرتی تحفظ چھوڑنے کی نمایاں مثال تھی۔
قدیم مآخذ پہلے ساقط حمل اور پھر عبد اللہ نامی بیٹے کی پیدائش بیان کرتے ہیں، جس سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہوئی۔ عبد اللہ اپنی والدہ کے بعد زندہ رہا اور ۴ھ میں کم عمری میں فوت ہوا؛ عمر کے بارے میں ۲ اور ۶ سال کی روایات ملتی ہیں۔ حبشہ سے واپسی کے بعد سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ کی ہجرت بھی کی۔
۲ھ میں بدر کی تیاری کے زمانے میں وہ شدید بیمار ہوگئیں۔ صحیح بخاری اور جامع ترمذی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا اور بدر کے شریک کا اجر اور مالِ غنیمت کا حصہ عطا فرمایا۔
ان کی وفات رمضان ۲ ہجری میں بدر کی مہم کے زمانے میں ہوئی، جو عمومی زمانی حساب سے مارچ ۶۲۴ء کے قریب ہے۔ روایات کے مطابق زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فتح کی خبر لے کر اس وقت مدینہ پہنچے جب تدفین جاری تھی یا ابھی مکمل ہوئی تھی۔ یہ ترتیب ۱۷ رمضان کو مکمل اتفاق کے ساتھ قطعی یوم وفات ثابت نہیں کرتی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں تھے، اس لیے جنازے میں آپ کی موجودگی والی بعض روایات کو مؤرخین نے دوسری صاحبزادی یا بعد میں قبر پر حاضری سے متعلق سمجھا ہے۔
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا جنت البقیع میں دفن ہوئیں، اور مدنی جغرافیائی روایت ان کی قبر کو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے قریب رکھتی ہے۔ بعض بعد کے امامی مصنفین نے انہیں ہالہ بنت خویلد کی بیٹی یا نبوی گھر میں پرورش پانے والی بچی کہا۔ دوسری طرف بعض امامی مجموعوں میں انہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادیوں میں شمار کرنے والی روایات محفوظ ہیں، جو غالب کلاسیکی سوانحی روایت سے موافق ہیں۔ ان کی زندگی ایمان، دو ہجرتوں، گھریلو ذمہ داری اور قربانی کی مثال ہے، جبکہ بعد کے نسبی اختلاف کو واضح نسبت کے ساتھ محفوظ رہنا چاہیے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کی سیرت ابتدائی اسلام میں خواتین کی ہجرت اور خاندانی قربانی کو نمایاں کرتی ہے؛ حبشہ اور مدینہ کی طرف نقل مکانی نے انہیں ایمان کی حفاظت کے لیے گھر چھوڑنے والی خواتین میں شامل کیا۔
بدر کے زمانے میں ان کی بیماری سے ایک مضبوط تاریخی نتیجہ جڑا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہے اور انہیں شریکِ بدر کا اجر و حصہ ملا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح، دونوں ہجرتیں، بدر کے زمانے میں بیماری اور جنت البقیع میں تدفین ابتدائی سوانحی اور حدیثی مواد میں مضبوط طور پر محفوظ ہیں۔ غالب کلاسیکی روایت اور بعض امامی مجموعے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی حقیقی صاحبزادی مانتے ہیں، جبکہ ایک بعد کا امامی رجحان اس سے اختلاف کرتا ہے۔ ذمہ دار تحقیق اس اختلاف کو محفوظ رکھتی ہے، مگر اس سے ان کی زندگی کے مضبوط تاریخی واقعات کو مٹایا نہیں جاتا۔
بدر کے زمانے میں ان کی بیماری سے ایک مضبوط تاریخی نتیجہ جڑا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہے اور انہیں شریکِ بدر کا اجر و حصہ ملا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح، دونوں ہجرتیں، بدر کے زمانے میں بیماری اور جنت البقیع میں تدفین ابتدائی سوانحی اور حدیثی مواد میں مضبوط طور پر محفوظ ہیں۔ غالب کلاسیکی روایت اور بعض امامی مجموعے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی حقیقی صاحبزادی مانتے ہیں، جبکہ ایک بعد کا امامی رجحان اس سے اختلاف کرتا ہے۔ ذمہ دار تحقیق اس اختلاف کو محفوظ رکھتی ہے، مگر اس سے ان کی زندگی کے مضبوط تاریخی واقعات کو مٹایا نہیں جاتا۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
قوی امکان
والدہ
سیدہ خدیجہ کبریٰؓ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Vol. 8, Ruqayya entry, p. 29 and following | https://shamela.ws/book/1686/2696 | Parentage in the dominant early record, early arrangement, Islam, marriage to Uthman, and Abyssinian migrationAl-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | Vol. 8, entry 11187, p. 138 | https://shamela.ws/book/9767/4051 | Identity, marriage to Uthman, son Abd Allah, biographical variants, and funeral-report correction
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 4, p. 1840 and following | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/3381/ | Birth-age report, marriage, migration, son Abd Allah, Badr illness, and death sequence
Sahih al-Bukhari 3130 | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Book 57, hadith 39 | https://sunnah.com/bukhari:3130 | Uthman was married to the Prophet's daughter, remained with her during illness, and received Badr reward and share
Jami al-Tirmidhi 3706 | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Chapters on Virtues, hadith 3706 | https://sunnah.com/tirmidhi:3706 | Uthman remained with the Prophet's ill daughter during the Badr campaign
Wafa al-Wafa bi Akhbar Dar al-Mustafa | Ali ibn Abd Allah al-Samhudi | Vol. 3, p. 85 | https://shamela.ws/book/23695/653 | Al-Baqi burial tradition and correction of reports placing the Prophet at her funeral
Hayat al-Qulub, Vol. 2: An Account of the Prophet's Children | Muhammad Baqir al-Majlisi | Online section; pagination varies by edition | https://al-islam.org/ur/hayat-al-qulub-vol-2-muhammad-baqir-majlisi/account-prophets-children | Imami reports naming Ruqayya among Khadija's daughters and the author's note preserving a contrary later view
Ruqayya Daughter of the Prophet | WikiShia | Modern Imami reference overview | https://en.wikishia.net/view/Ruqayya_Daughter_of_the_Prophet_%28s%29 | Overview of the later Imami parentage disagreement associated with Ja'far Murtada al-Amili
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔