سودہ بنت زمعہؓ

PER-000163 اہلِ بیت مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ابتدائی مسلمان مہاجرہ، قریش کی شاخ بنو عامر سے تعلق رکھنے والی معزز خاتون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کے سبب امہات المؤمنین میں شامل تھیں۔ آپ کی زندگی مکہ کے ابتدائی دور، حبشہ کی ہجرت، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد نبوی گھرانے کی ازسرنو ترتیب اور مدینہ میں مسلم معاشرے کی تشکیل سے جڑی ہے۔ صحیح احادیث آپ کی سخاوت، عملی دانائی اور مضبوط مزاج محفوظ کرتی ہیں، جبکہ وفات کے سال کے بارے میں سوانحی مآخذ میں اختلاف ہے۔
ولادت

آپ کی ولادت کی قطعی تاریخ محفوظ نہیں۔ آپ بعثت نبوی سے پہلے مکہ میں قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی میں پیدا ہوئیں۔

وفات

آپ کا انتقال مدینہ میں ہوا۔ قدیم روایات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد کے آخری زمانے، تقریباً ۲۳ ہجری، اور شوال ۵۴ ہجری، عہد معاویہ، کے درمیان مختلف ہیں؛ یہ اختلاف محفوظ رہنا چاہیے۔

مدفن یا منسوب مقام

بعد کے سوانحی مآخذ عام طور پر آپ کی تدفین مدینہ کے جنت البقیع میں بیان کرتے ہیں۔ آج آپ کی انفرادی قبر الگ طور پر متعین نہیں، اس لیے اس شخصی تعارف میں بقیع کے اندر تدفین کو غالب تاریخی نسبت کے طور پر درج کیا گیا ہے، نہ کہ ایک تصدیق شدہ منفرد قبر کے طور پر۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت سودہ بنت زمعہ بن قیس رضی اللہ عنہا قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتی تھیں۔ نسبی تذکروں میں آپ کی والدہ کا نام شموس بنت قیس انصاریہ بیان ہوا ہے، اس طرح پدری نسبت مکہ کے قریشی خاندان اور مادری نسبت مدینہ کے انصار سے جڑتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہونے کے باعث آپ کو قرآنی حیثیت سے ام المؤمنین کا شرف حاصل ہوا۔ ولادت کا قطعی سال محفوظ نہیں، اس لیے ہر واقعے کے وقت مقرر عمر بیان کرنا درست نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سے پہلے آپ سکران بن عمرو عامری کی زوجہ تھیں۔ ابتدائی روایات کے مطابق دونوں نے اسلام قبول کیا اور مکہ کے ظلم و دباؤ میں حبشہ ہجرت کی۔ یوں آپ ان خواتین میں شامل ہوئیں جنہوں نے دین کے لیے گھر اور خاندان سے جدائی برداشت کی۔ بعد میں دونوں مکہ واپس آئے، جہاں سکران کا انتقال ہوا اور آپ اس دور میں بیوہ ہوئیں جب مسلم جماعت ابھی شدید دباؤ میں تھی۔

حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد نبوی گھرانہ اپنی دیرینہ رفیقہ اور منتظمہ سے محروم ہوگیا تھا۔ ابن سعد نے خولہ بنت حکیم کی وہ روایت محفوظ کی ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کا مشورہ دیا اور حضرت سودہ اور حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے نام پیش کیے۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے تجویز قبول کی اور ہجرت سے پہلے مکہ میں نکاح ہوا۔ مہینے اور عقدوں کی ترتیب میں اختلاف ہے، مگر روایات آپ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد پہلی باقاعدہ گھریلو زوجہ قرار دیتی ہیں۔

بعد میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نبوی خاندان کے ساتھ مدینہ منتقل ہوئیں۔ سوانحی کتابیں آپ کو باوقار، بلند قامت یا جسیم، صاف گو اور خوش طبع خاتون کے طور پر بیان کرتی ہیں۔ ابن سعد کی ایک روایت، جسے ذہبی نے بھی نقل کیا، بتاتی ہے کہ طویل نماز کے بعد آپ نے مزاحاً کہا کہ رکوع کی طوالت سے ناک پکڑ لی تھی کہ کہیں خون نہ بہنے لگے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ یہ روایت گھر کے اندر محبت اور بے تکلفی دکھاتی ہے۔

آپ اس معروف روایت میں بھی آتی ہیں جس میں ازواج مطہرات کے رات کو ضروری حاجت کے لیے باہر جانے کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اپنے قد کی وجہ سے پہچانی جاتی تھیں۔ یہ خبر مدینہ میں رازداری اور نبوی گھرانے کے احکام کی تاریخی بحث سے متعلق ہے۔ اسے آپ پر تنقید نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے فقہی حافظے میں داخل ہونے کی مثال سمجھنا چاہیے۔

حجۃ الوداع میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ سے بڑے ہجوم سے پہلے روانگی کی اجازت مانگی، کیونکہ چلنے میں آہستہ تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعد میں فرمایا کہ کاش میں نے بھی یہی اجازت مانگی ہوتی۔ صحیح بخاری میں محفوظ یہ روایت بوڑھے، کمزور اور زیادہ مشقت برداشت نہ کرسکنے والے حاجیوں کی رخصت میں اہم بنی۔ یوں آپ کی حالت نے حج میں رحمت اور آسانی کا اصول واضح کیا۔

آپ کی گھریلو زندگی کا سب سے معروف واقعہ یہ ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ صحیح بخاری میں اصل واقعہ اور صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آپ کے مزاج کے لیے محبت محفوظ ہے۔ باری دینا صحیح روایت سے ثابت ہے، مگر ہر باطنی سبب کی بعد کی تشریح یکساں مضبوط نہیں۔ واضح یہ ہے کہ آپ نے ایک جائز اور فیاضانہ انتظام کیا اور امہات المؤمنین میں عزت سے باقی رہیں۔

آپ کی سخاوت ابن سعد کی ایک روایت میں بھی نمایاں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے درہموں سے بھرا بڑا تھیلا بھیجا۔ آپ نے تعجب کیا کہ کھجوروں کے برتن میں درہم کیوں ہیں، پھر تھال منگوا کر رقم تقسیم کردی۔ یہ واقعہ جمع کرنے کے بجائے فوراً دینے کی رغبت دکھاتا ہے۔ اسی لیے بعد کے سوانح نگاروں نے آپ کے بلند گھریلو مقام کو محتاجوں کی فکر کے ساتھ یاد کیا۔

حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات بھی نقل کیں، اگرچہ محفوظ حدیثوں کی تعداد زیادہ نہیں۔ ذہبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور یحییٰ بن عبد اللہ انصاری کو آپ سے روایت کرنے والوں میں شمار کیا ہے۔ آپ کی اہمیت تعداد کی کثرت میں نہیں بلکہ ہجرت، خاندانی زندگی، حج کی رخصت، سخاوت اور تعلقات کے اخلاقی انتظام جیسے واقعات کے معیار میں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ مدینہ میں رہیں اور ام المؤمنین کی حیثیت سے محترم رہیں۔ وفات کے سال میں اختلاف ہے: ایک روایت اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد کے آخری زمانے میں رکھتی ہے، جبکہ واقدی سے منقول تاریخ شوال ۵۴ ہجری، عہد معاویہ، بیان کرتی ہے۔ ذمہ دار تحقیق اس اختلاف کو محفوظ رکھتی ہے۔ بعد کی روایت تدفین جنت البقیع میں بتاتی ہے، مگر دستیاب ماخذی مواد میں تصدیق شدہ مرکزی مزار یا نقاط موجود نہیں، اس لیے الگ قابل شناخت قبر کا قطعی دعویٰ نہیں کیا گیا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی تاریخی اہمیت ان ابتدائی مسلمان خواتین میں ہونے سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے مکہ کے خطرات برداشت کیے اور حبشہ ہجرت کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد آپ کے نکاح نے نبوی گھرانے کی ازسرنو ترتیب میں حصہ لیا اور ظلم، بیوگی، ہجرت اور نئی جماعت کی تعمیر کے تجربات کو ایک زندگی میں جمع کیا۔

صحیح احادیث کے ذریعے آپ کی زندگی اسلامی فقہی اور اخلاقی حافظے کا حصہ بنی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی باری دینا، مزدلفہ سے جلد روانگی کی اجازت پانا اور ضروری حاجت کے لیے خواتین کے باہر جانے کی بحث میں ذکر، ازدواجی انتظام، حج کی رخصت، وقار اور عملی رحمت کی بعد کی گفتگو میں دلیل بنا۔ یہ روایات آپ کو فیصلہ کرنے والی بااختیار شخصیت کے طور پر محفوظ کرتی ہیں۔

آپ کی خوش طبعی، سخاوت اور صاف گوئی تاریخی ریکارڈ کو انسانی قرب دیتی ہے۔ وفات کی تاریخ کا اختلاف یہ سبق بھی دیتا ہے کہ عقیدت کے لیے جھوٹی قطعیت ضروری نہیں۔ آپ کی پائیدار یاد مستند ہجرت، نبوی گھرانے کی رکنیت، ایثار اور خیرات پر قائم ہے، جبکہ غیر یقینی تفصیلات کو دیانت داری سے غیر یقینی رہنا چاہیے۔

خاندانی روابط

ماخذ

The Qur'an, Surah al-Ahzab 33:6 | Qur'an | Verse 33:6 | https://quran.com/33/6 | Status of the Prophet's wives as Mothers of the Believers
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 5212; Book 67, Hadith 145 | https://sunnah.com/bukhari:5212 | Sawda's transfer of her allotted day to Aisha
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 1463a; Book of Suckling | https://sunnah.com/muslim:1463a | Aisha's praise of Sawda and the transfer of her day
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 1681; Book 25, Hadith 161 | https://sunnah.com/bukhari:1681 | Permission to leave Muzdalifah before the crowd
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 146; Book 4, Hadith 12 | https://sunnah.com/bukhari:146 | Sawda in the report about the Prophet's wives going out for necessary needs
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Biography of Sawda bint Zam'a; pagination varies by edition | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=5543&book=802&chapter_id=10&page=3&show=bab | Marriage proposal through Khawla bint Hakim and early household reports
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Digital report 11538; pagination varies by edition | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=5543&book=802&chapter_id=10&e=6185&f=5506&show=bab&sub_idBab=0 | Report of distributing the dirhams sent by Umar
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Biography of Sawda, displayed edition vol. 2, pp. 266-269 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/173/ | Lineage, migration, character, transmitters and conflicting death dates
Dar al-Ifta al-Misriyyah profile | Dar al-Ifta al-Misriyyah | Institutional biographical synthesis; 21 June 2017 | https://www.dar-alifta.org/ar/ourreligion/details/5144/ | Secondary corroboration of lineage, migration, marriage and later memory

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔