ام سلمہ ہند بنت ابی امیہؓ

PER-000167 اہلِ بیت مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ام المؤمنین ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ مخزومیہ رضی اللہ عنہا ابتدائی مہاجرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ، صاحبِ رائے خاتون اور فقہ و حدیث کی ممتاز راویہ تھیں۔ انہوں نے حبشہ اور مدینہ کی ہجرتوں کی سختیاں برداشت کیں، ۴ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں، ۶ ہجری میں صلح حدیبیہ کے نازک موقع پر مؤثر مشورہ دیا، اور اپنے گھر سے متعلق واقعۂ کساء سمیت نبوی زندگی کے اہم احوال محفوظ کیے۔ وفات کے سال میں ۵۹، ۶۱ اور ۶۲ ہجری کے اقوال ملتے ہیں؛ تدفین مدینہ منورہ کے بقیع میں ہوئی۔
ولادت

مکہ مکرمہ میں بنو مخزوم کے گھرانے میں پیدائش ہوئی۔ درست سال محفوظ طور پر معلوم نہیں؛ بعد کی عمری حساب بندی کو قطعی تاریخ نہیں مانا گیا۔

وفات

مدینہ منورہ میں وفات ہوئی۔ مآخذ ۵۹، ۶۱ اور ۶۲ ہجری کے اقوال نقل کرتے ہیں؛ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر کے وقت حیات ہونے والی روایت کے سبب ۶۱ یا ۶۲ ہجری کو بہت سے تذکرہ نگار ترجیح دیتے ہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔ قبر کا درست مقام الگ قطعی نشان کے ساتھ ثابت نہیں؛ کسی موجودہ نقشاتی نقطے کو خود بخود انفرادی قبر کا تاریخی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

سوانح و تاریخی تعارف

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ذاتی نام ہند بنت ابی امیہ بن مغیرہ تھا اور آپ قریش کے معزز قبیلہ بنو مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے والد کا نام سہیل بھی نقل ہوا اور مسافروں کے ساتھ سخاوت کے باعث زادُ الراکب کے لقب سے مشہور تھے۔ کلاسیکی تذکرہ نگار آپ کو ابتدائی مہاجر خواتین میں شمار کرتے اور نسب، ذہانت، وقار اور ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہیں۔ پیدائش کا درست سال محفوظ طور پر معلوم نہیں، اس لیے بعد کی عمری حساب بندی کو قطعی تاریخ نہیں بنایا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سے پہلے آپ حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جو ابتدائی مسلمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے۔ دونوں نے حبشہ اور پھر مدینہ منورہ کی ہجرت کی۔ ان کے گھرانے میں سلمہ، عمر، زینب اور درہ شامل تھے۔ صحیح حدیث ابو سلمہ کے خاندان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرنے والے اولین گھرانوں میں شمار کرتی ہے۔

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ ۴ ہجری میں ایک زخم کے اثرات سے وفات پا گئے۔ صحیح مسلم میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے وقت اللہ سے اجر اور بہتر بدلہ مانگنے کی دعا سکھائی۔ آپ نے یہ دعا پڑھی اور دل میں خیال آیا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کو اس دعا کا جواب سمجھا۔ عدت کے بعد آپ نے بچوں اور غیرت کا ذکر کیا اور دونوں کے بارے میں اطمینان دلایا گیا۔ نکاح شوال ۴ ہجری میں ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کی حیثیت سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو قرآن کے مطابق ام المؤمنین کا مقام حاصل ہوا۔ آپ کا گھر خاندانی زندگی، عبادت، وحی، فقہی سوالات اور تعلیم کے مشاہدے و روایت کا مرکز بنا۔ بعد کے تذکرہ نگار آپ کو فقیہ صحابیات میں شمار کرتے ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین نے نماز، روزہ، طہارت، سوگ، نکاح، گھریلو آداب اور نبوی عمل کے بارے میں آپ سے روایات نقل کیں۔

آپ کی عملی بصیرت صلح حدیبیہ کے موقع پر ۶ ہجری میں نمایاں ہوئی۔ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد صحابہ غم اور دباؤ میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے اور سر منڈانے کے بار بار حکم پر فوراً نہ اٹھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مشورہ دیا کہ آپ خاموشی سے باہر جائیں، خود قربانی کریں اور سر منڈوا لیں۔ جب آپ نے ایسا کیا تو صحابہ نے پیروی کی۔ یہ واقعہ اجتماعی تناؤ کے وقت آپ کی متوازن حکمت ظاہر کرتا ہے۔

جامع ترمذی کی ایک روایت واقعۂ کساء کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے وابستہ کرتی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، سیدہ فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو چادر میں جمع کیا اور قرآن ۳۳:۳۳ کے تعلق سے ان کی پاکیزگی کی دعا کی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مقام کے بارے میں پوچھا اور باعزت جواب پایا۔ قرآنی آیات کا گرد و پیش ازواجِ نبی سے خطاب کرتا ہے، جبکہ حدیثِ کساء ان چار ہستیوں پر خاص توجہ دیتی ہے۔ دونوں پہلوؤں کو احترام سے رکھنا ماخذی دیانت ہے۔

ذہبی کے سوانحی اندراج میں آپ کے نام سے وسیع حدیثی ذخیرہ شمار کیا گیا اور آپ کو فقیہ صحابیات میں جگہ دی گئی۔ روایتی شمار ۳۷۸ احادیث تک پہنچتا ہے، اگرچہ مختلف مجموعوں کے حساب کا طریقہ یکساں نہیں۔ آپ کی روایات کی اہمیت یہ تھی کہ خواتین اور مرد دونوں ان معاملات کے بارے میں سوال کر سکتے تھے جو نبوی گھرانے کے اندر سب سے براہِ راست معلوم ہوتے تھے۔ اس طرح آپ کی علمی حیثیت یادداشت، فقہ، اخلاقی رہنمائی اور نجی عمل کو عوامی علم میں منتقل کرنے سے بنی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ام سلمہ رضی اللہ عنہا کئی دہائیاں مدینہ میں زندہ رہیں اور ابتدائی مسلم معاشرے کی بڑی تبدیلیوں کی گواہ بنیں۔ آپ سے مشورہ لیا گیا، آپ نے حدیث روایت کی اور بعد کی نسل کو تعلیم دی۔ طویل عمر نے آپ کو ابتدائی ہجرتوں اور نبوی گھرانے سے تابعین کے زمانے تک ایک منفرد علمی رابطہ بنایا۔ بعد کے سیاسی اور مذہبی ادب نے آپ کی طرف مضبوط موقف منسوب کیے، مگر اس پروفائل میں صرف ذمہ داری سے ثابت ہونے والے دعوے رکھے گئے ہیں۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے کربلا کی مٹی سے متعلق ایک اہم نبوی روایت محفوظ ہوئی ہے۔ صحیح ابن حبان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک فرشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ آپ کے نواسے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا جائے گا؛ پھر اس نے اس سرزمین کی سرخ مٹی پیش کی جہاں یہ شہادت واقع ہونی تھی، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس مٹی کو اپنے کپڑے میں محفوظ کرلیا۔ مستدرک حاکم میں خود ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی اور آپ نے اسے عراق میں امام حسین علیہ السلام کی جائے شہادت کی مٹی بتایا۔ یہ روایات ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سانحۂ کربلا سے متعلق ابتدائی نبوی خبر اور اس کی یادگار مٹی محفوظ کرنے والی اہم راویہ کے طور پر سامنے لاتی ہیں۔

آپ کی وفات کے سال میں اختلاف ہے۔ بعض تذکرے ۵۹ ہجری کہتے ہیں، مگر ذہبی نے اسے غلط قرار دے کر ۶۱ ہجری کو زیادہ ظاہر سمجھا، کیونکہ روایات میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر کے وقت آپ کا زندہ ہونا ملتا ہے۔ بعض بعد کے تذکرہ نگار ۶۲ ہجری لکھتے ہیں۔ محفوظ حقائق یہ ہیں کہ آپ کا وصال مدینہ میں ہوا، آپ آخری زندہ رہنے والی امہات المؤمنین میں تھیں اور بقیع میں دفن ہوئیں۔ آپ کی میراث ہجرت، خاندانی ذمہ داری، دعا، دانشمندانہ مشورہ، فقہی یادداشت اور نبوی گھرانے کی امانت دار روایت کو یکجا کرتی ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی حبشہ اور مدینہ کی ہجرتوں کو نبوی معاشرے کی تشکیل سے جوڑتی ہے۔ زوجہ، ماں، بیوہ، مہاجرہ اور ام المؤمنین کی حیثیت سے ان کا تجربہ گھریلو ذمہ داری، بے وطنی، غم اور ثابت قدمی کے بارے میں اہم تاریخی مواد فراہم کرتا ہے۔

صلح حدیبیہ میں آپ کا مشورہ عورت کی عملی و حکمت آمیز رائے کے کسی بڑے عوامی واقعے پر اثر انداز ہونے کی مضبوط ترین صحیح روایتوں میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ قبول کرنا گھر کے اندر پیدا ہونے والی بصیرت کی عملی قدر ظاہر کرتا ہے۔

آپ کی حدیثی اور فقہی میراث نے نجی گھریلو علم کو عوامی تعلیم بنایا۔ آپ سے منقول روایات عبادت، طہارت، نکاح، سوگ، گھریلو آداب اور اہل بیت کی یاد سے متعلق ہیں اور ابتدائی اسلامی علم میں خواتین کی علمی حجیت واضح کرتی ہیں۔

واقعۂ کساء کے باعث آپ کا گھر بین الروایتی یاد میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ غیر جانب دار بیان آپ کے قرآنی مرتبۂ ام المؤمنین اور حدیث میں حضرت علی، سیدہ فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام پر خاص توجہ دونوں کو تسلیم کرتا ہے۔ بقیع میں تدفین آپ کی یاد کو مدینہ سے جوڑتی ہے، جبکہ وفات کے درست سال اور قبر کے نشان کا اختلاف محفوظ رہتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 2, pp. 201-210, biography of Umm Salama | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/152/ | identity, lineage, early migration, marriage in 4 AH, children, jurisprudence, hadith corpus, death-date disagreement and al-Baqi burial
Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | Vol. 8, p. 70 onward, entry 4130; pagination varies by edition | https://ftp.shamela.ws/book/1686/2737 | biographical entry, Abu Salama's death, supplication, marriage and household reports
Quran 33:6 | Quran | Verse 33:6 | https://quran.com/33/6 | Quranic rank of the Prophet's wives as Mothers of the Believers
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 918a | https://sunnah.com/muslim:918a | supplication after calamity, Abu Salama's death and the Prophet's marriage proposal
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadiths 2731-2732 | https://sunnah.com/bukhari:2731 | Umm Salama's counsel at al-Hudaybiyya and the Companions' response
Quran 33:33 | Quran | Verse 33:33 | https://quran.com/33/33 | purification verse within the passage addressing the Prophetic household
Jami al-Tirmidhi | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Hadith 3787 | https://sunnah.com/tirmidhi:3787 | cloak report in Umm Salama's home and her honored response
Sahih Ibn Hibban | Ibn Hibban | Hadith 6742, chapter on the Prophet's report concerning the future martyrdom of his daughter's son | https://www.islamweb.net/ar/library/content/314/6750/ | Anas report that an angel brought red earth from the place of Imam Husayn's future martyrdom and Umm Salama kept it in her garment
Al-Mustadrak ala al-Sahihayn | al-Hakim al-Naysaburi | Hadith 8263, Book of Dream Interpretation, vol. 5 p. 567 in the displayed edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/74/8096/ | Umm Salama report that the Prophet held red earth and identified it as soil from Imam Husayn's place of martyrdom in Iraq

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔