ریحانہ بنت زیدؓ

PER-000173 خاندان کی شخصیت قوی امکان مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ریحانہ بنت زید رضی اللہ عنہا مدینہ کے یہودی ماحول سے تعلق رکھنے والی ایک تاریخی خاتون تھیں۔ ابن سعد انہیں بنو نضیر سے جوڑتے ہیں، جبکہ ابن اسحاق اور ابن عبد البر کی روایتیں بنو قریظہ کی نسبت بھی محفوظ کرتی ہیں۔ ۵ ہجری، یعنی ۶۲۷ء کے بنو قریظہ کے واقعات کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے وابستہ ہوئیں۔ ابتدائی مآخذ میں اختلاف ہے کہ انہیں آزاد کرکے نکاح کیا گیا یا وہ ملکِ یمین کی حیثیت میں رہیں، اس لیے زوجہ یا ام المؤمنین کا عنوان بغیر وضاحت کے قطعی طور پر نہیں دیا گیا۔ وفات کے بارے میں بھی ۱۰ اور ۱۱ ہجری کی مختلف زمانی روایتیں ہیں، جبکہ بقیع میں تدفین صرف ایک قدیم منقول قول سے ثابت ہے۔
ولادت

ان کی تاریخِ پیدائش محفوظ نہیں۔ ابتدائی تراجم انہیں مدینہ کے بنو نضیر سے جوڑتے ہیں، جبکہ بعض روایتیں بنو قریظہ کی نسبت دیتی ہیں۔

وفات

وفات کی ترتیب اختلافی ہے۔ ابن سعد کے واقدی والے طریق اور ابن عبد البر کے مطابق وہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ۱۰ ہجری، یعنی ۶۳۲ء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے وفات پاگئیں۔ ابن اسحاق کی روایت کہتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ زندہ تھیں، اس لیے ان کی زندگی کم از کم ربیع الاول ۱۱ ہجری تک پہنچی۔

مدفن یا منسوب مقام

ابن سعد کے واقدی والے طریق میں مدینہ منورہ کے بقیع میں تدفین منقول ہے۔ یہ ایک قدیم سوانحی روایت ہے، مگر کسی الگ شناخت شدہ قبر یا نقشاتی مزار کی آزاد تصدیق موجود نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

ابن سعد ان کا نسب ریحانہ بنت زید بن عمرو بن خنافة بن شمعون بن زید لکھتے اور انہیں بنو نضیر سے قرار دیتے ہیں؛ اسی روایت میں کہا گیا ہے کہ بنو قریظہ کی نسبت پہلے نکاح کی وجہ سے بھی بیان ہوئی۔ ابن اسحاق انہیں بنو عمرو بن قریظہ کی خاتون بتاتے ہیں، جبکہ ابن عبد البر کے مطابق زیادہ مشہور نسبت بنو قریظہ ہے۔ بلاذری دونوں نسبتیں نقل کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک حل شدہ نسبی نتیجہ نہیں بلکہ ابتدائی مآخذ کے اندر موجود قبائلی اختلاف ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے وابستگی سے پہلے ان کا نکاح بنو قریظہ کے ایک شخص سے تھا۔ ابن سعد کے ایک طریق میں اس کا نام حکیم، ابن حجر میں حکم، اور بلاذری میں عبدالحکم، حکم یا کنیت ابو الحکم آیا ہے۔ ۵ ہجری، یعنی ۶۲۷ء کے بنو قریظہ کے واقعات میں پہلے شوہر کے قتل کے بعد وہ قیدیوں میں شامل ہوئیں۔ یہ نامی اختلاف کسی ایک قطعی صورت کے بجائے الگ الگ قدیم روایتوں کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔

سیرت کی روایتیں ان کے اسلام قبول کرنے کا ذکر کرتی ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قانونی حیثیت پر دو بنیادی اقوال ہیں۔ ابن اسحاق کی روایت میں آزادی اور نکاح کی پیش کش ہوئی، مگر انہوں نے ملکِ یمین میں رہنے کو نسبتاً آسان سمجھا۔ ابن سعد نے واقدی کے طریق سے دوسری روایت نقل کی کہ انہیں آزاد کرکے محرم ۶ ہجری میں نکاح کیا گیا اور ازواج کے معمول کے مطابق مہر مقرر ہوا۔

نکاح والی روایت میں ام المنذر کے گھر قیام، حجاب، ازواج کی طرح باری، ایک طلاق اور پھر رجوع کی تفصیلات ہیں۔ دوسری قدیم روایتیں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سراری میں شمار کرتی یا وفاتِ نبوی تک ملک میں رہنے کا قول دیتی ہیں۔ اس لیے گھرانے سے ان کی نسبت تاریخی طور پر واضح ہے، مگر نکاح یا ملکِ یمین کی درست قانونی درجہ بندی حل نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے ام المؤمنین کا لقب قطعی طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔

ان کی تاریخی اہمیت کسی وسیع عوامی منصب سے زیادہ ماخذی اختلاف میں ہے۔ ایک ہی خاتون کے بارے میں بنو نضیر اور بنو قریظہ کی نسبت، پہلے شوہر کے نام کی متعدد صورتیں، اور خانگی حیثیت کے دو مختلف بیانیے محفوظ ہیں۔ یہ مواد دکھاتا ہے کہ قبائلی شناخت نسب اور نکاح دونوں سے بیان ہوسکتی تھی اور بعد کی قانونی اصطلاح کو ابتدائی اختلاف پر بلا وضاحت مسلط نہیں کرنا چاہیے۔

ابن سعد کے واقدی والے طریق میں ہے کہ وہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ۱۰ ہجری، یعنی ۶۳۲ء میں وفات پاگئیں اور بقیع میں دفن ہوئیں؛ ابن عبد البر بھی وفات کو ۱۰ ہجری میں رکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف ابن اسحاق کی روایت کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس حال میں ہوا کہ وہ ان کے ملک میں زندہ تھیں، جس سے ان کی زندگی کم از کم ربیع الاول ۱۱ ہجری تک پہنچتی ہے۔ اس لیے وفات کی ترتیب اختلافی اور بقیع کی تدفین منقول ہے، مگر الگ شناخت شدہ قبر ثابت نہیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

ریحانہ بنت زید رضی اللہ عنہا کی سوانح مدینہ کے یہودی قبائل، خصوصاً بنو نضیر اور بنو قریظہ، اور نبوی گھرانے کے تاریخی تعلق کو سمجھنے میں اہم ہے۔ ان کا ذکر جنگ، قید، اسلام قبول کرنے اور گھرانے سے وابستگی کے مشکل پس منظر کو ایک فرد کی زندگی کے ذریعے سامنے لاتا ہے۔

نکاح اور ملکِ یمین کے متضاد اقوال اسلامی سوانح نگاری میں ماخذی تنقید کی نمایاں مثال ہیں۔ گہری جانچ نے یہ واضح کیا کہ گھرانے سے تعلق محفوظ اور قابلِ ذکر ہے، مگر قانونی درجہ ابتدائی مآخذ میں حل نہیں؛ اس لیے ام المؤمنین کا عنوان صرف اختلاف بیان کیے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

بقیع میں تدفین کی روایت ان کی مدنی یاد محفوظ کرتی ہے، لیکن یہ واقدی و ابن سعد کے مخصوص طریق سے منقول ہے اور کسی الگ قبر یا نقشاتی مقام کی شناخت موجود نہیں۔ اس پروفائل میں کسی قول کو قطعی فاتح بنانے کے بجائے قدیم شہادت، عزت اور تاریخی غیر یقینی کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | Vol. 8, pp. 103-104, entry 4136 | https://ftp.shamela.ws/book/1686/2770 | Banu al-Nadir lineage, explanation of Qurayza attribution, first-husband form Hakim, al-Waqidi emancipation-and-marriage account, Muharram 6 AH, dower, divorce and reconciliation, death after the Farewell Pilgrimage and reported al-Baqi burial
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | Vol. 8, p. 146, entry 11203 | https://shamela.ws/book/9767/4059 | lineage variants, first-husband form al-Hakam, Ibn Ishaq ownership account, competing marriage account, death chronology and burial report
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 4, p. 1847, entry 3350 | https://shamela.ws/book/12288/1834 | Banu Qurayza and Banu al-Nadir variants, preference for Qurayza affiliation, classification as surriyya, and reported death in 10 AH after the Farewell Pilgrimage
Al-Sirah al-Nabawiyyah | Ibn Hisham, transmitting Ibn Ishaq | Banu Qurayza division-of-spoils section; pagination varies by edition | https://islamweb.net/ar/library/content/58/1172/ | Qurayza affiliation, offer of emancipation and marriage, preference to remain in ownership, and survival until the Prophet's death
Ansab al-Ashraf | Al-Baladhuri | Vol. 1, p. 453, report 920 | https://shamela.ws/book/1379/479 | Qurayza affiliation, Nadir alternative, first-husband forms Abd al-Hakam, al-Hakam and Abu al-Hakam, and the concubinage account

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔