قطعی تاریخ ولادت محفوظ نہیں؛ وہ پہلی صدی ہجری میں مدینہ کے اموی و عثمانی خاندان میں پیدا ہوئے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
اموی/عثمانی قریشی نسب: عبداللہ المطرف، عمرو بن عثمان بن عفان کے بیٹے؛ اسی نام سے ملتے جلتے دوسرے اموی افراد سے الگ شناخت۔
PER-000201
تاریخی شخصیت
مصدقہ
مقامِ تدفین نامعلوم
مختلف مآخذ سے تائید
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان، المعروف مطرف، مدینہ کے اموی و عثمانی خاندان کے معزز فرد، حدیث کے راوی اور فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام کے دوسرے شوہر تھے۔ نسبی ماخذ ان کے والد عمرو بن عثمان اور دادا خلیفہ عثمان بن عفان کی مکمل نسبت محفوظ کرتے ہیں۔ فاطمہ سے ان کے بچوں میں محمد الدیباج، قاسم اور رقیہ شامل تھے۔ رجالی ماخذ انہیں ثقہ، شریف اور سخی لکھتے ہیں، اور عام تاریخی قول کے مطابق وہ ۹۶ھ، مطابق ۷۱۴–۷۱۵ء، میں مصر میں وفات پاگئے؛ عین قبر معلوم نہیں۔
عام رجالی قول کے مطابق ۹۶ھ، مطابق ۷۱۴–۷۱۵ء، میں مصر میں وفات پائی؛ سبب وفات معلوم نہیں۔
وفات مصر میں ہوئی، مگر عین مقام تدفین معلوم نہیں؛ کوئی مخصوص قبر معتبر ابتدائی ثبوت سے ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
عبد اللہ رضی اللہ عنہ عمرو بن عثمان بن عفان کے صاحبزادے اور تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ وہ قریش کی اموی و عثمانی شاخ سے تعلق رکھتے اور مدینہ کے ایک نمایاں خاندان میں پرورش پائے۔ ان کی قطعی تاریخ ولادت محفوظ نہیں، لیکن ان کے شیوخ اور پہلی صدی ہجری کی سرگرمی انہیں ابتدائی مدنی تابعی نسل میں رکھتے ہیں۔
ان کی والدہ کے نام میں ماخذی اختلاف ہے۔ رجالی کتب عام طور پر انہیں حفصہ بنت عبد اللہ بن عمر کی اولاد بتاتی ہیں، جبکہ قدیم کتاب المحبر حفصہ کے ساتھ زینب بنت عبد اللہ بن عمر کا متبادل قول بھی محفوظ کرتی ہے۔ اسی اختلاف کے باعث والدہ کا خالی انتظامی خانہ اس کام میں مکمل نہیں کیا گیا۔
وہ المُطَرِّف کے لقب سے معروف تھے، جسے نسبی اور رجالی ماخذ ان کے حسن و جمال سے جوڑتے ہیں۔ کتب رجال انہیں شریف، سخی اور مدح کیے جانے والا شخص قرار دیتی ہیں۔ یہ لقب انہیں دوسرے ہم نام اموی افراد، خصوصاً عبد اللہ بن عثمان یا عبد اللہ بن عنبسہ کی نسلوں، سے الگ کرتا ہے۔
حدیثی ماخذ کے مطابق انہوں نے اپنے والد عمرو، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس، حسین بن علی، رافع بن خدیج اور دیگر بزرگوں سے روایت کی۔ ان سے ان کے بیٹے محمد الدیباج، محمد بن شہاب زہری، ابو بکر بن حزم، محمد بن عبد الرحمن بن ابی لبیبہ اور ہشام بن سعد نے نقل کیا۔ نسائی نے انہیں ثقہ کہا اور ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا۔
حسن مثنیٰ کی وفات کے بعد انہوں نے فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے نکاح کیا۔ نسب قریش اور مقاتل الطالبیین اس نکاح کی ترتیب، مکمل نسب اور اولاد کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس ازدواج سے محمد المعروف دیباج، قاسم اور رقیہ پیدا ہوئے، اور یوں عثمانی و علوی خاندانوں کے درمیان ایک تاریخی خاندانی ربط قائم ہوا۔
معتبر رجالی روایت کے مطابق عبد اللہ مطرف ۹۶ھ، مطابق ۷۱۴–۷۱۵ء، میں مصر میں وفات پاگئے۔ ان کی وفات کا سبب اور عین مقام تدفین محفوظ نہیں؛ اس لیے کسی غیر ثابت مقامی قبر یا مزار کو ان کی تاریخی تدفین قرار نہیں دیا گیا۔ ان کی محفوظ تاریخی شناخت نسب، حدیثی روایت، سخاوت، فاطمہ بنت حسین سے نکاح اور معروف اولاد پر قائم ہے۔
ان کی والدہ کے نام میں ماخذی اختلاف ہے۔ رجالی کتب عام طور پر انہیں حفصہ بنت عبد اللہ بن عمر کی اولاد بتاتی ہیں، جبکہ قدیم کتاب المحبر حفصہ کے ساتھ زینب بنت عبد اللہ بن عمر کا متبادل قول بھی محفوظ کرتی ہے۔ اسی اختلاف کے باعث والدہ کا خالی انتظامی خانہ اس کام میں مکمل نہیں کیا گیا۔
وہ المُطَرِّف کے لقب سے معروف تھے، جسے نسبی اور رجالی ماخذ ان کے حسن و جمال سے جوڑتے ہیں۔ کتب رجال انہیں شریف، سخی اور مدح کیے جانے والا شخص قرار دیتی ہیں۔ یہ لقب انہیں دوسرے ہم نام اموی افراد، خصوصاً عبد اللہ بن عثمان یا عبد اللہ بن عنبسہ کی نسلوں، سے الگ کرتا ہے۔
حدیثی ماخذ کے مطابق انہوں نے اپنے والد عمرو، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس، حسین بن علی، رافع بن خدیج اور دیگر بزرگوں سے روایت کی۔ ان سے ان کے بیٹے محمد الدیباج، محمد بن شہاب زہری، ابو بکر بن حزم، محمد بن عبد الرحمن بن ابی لبیبہ اور ہشام بن سعد نے نقل کیا۔ نسائی نے انہیں ثقہ کہا اور ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا۔
حسن مثنیٰ کی وفات کے بعد انہوں نے فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے نکاح کیا۔ نسب قریش اور مقاتل الطالبیین اس نکاح کی ترتیب، مکمل نسب اور اولاد کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس ازدواج سے محمد المعروف دیباج، قاسم اور رقیہ پیدا ہوئے، اور یوں عثمانی و علوی خاندانوں کے درمیان ایک تاریخی خاندانی ربط قائم ہوا۔
معتبر رجالی روایت کے مطابق عبد اللہ مطرف ۹۶ھ، مطابق ۷۱۴–۷۱۵ء، میں مصر میں وفات پاگئے۔ ان کی وفات کا سبب اور عین مقام تدفین محفوظ نہیں؛ اس لیے کسی غیر ثابت مقامی قبر یا مزار کو ان کی تاریخی تدفین قرار نہیں دیا گیا۔ ان کی محفوظ تاریخی شناخت نسب، حدیثی روایت، سخاوت، فاطمہ بنت حسین سے نکاح اور معروف اولاد پر قائم ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
عبد اللہ مطرف کی تاریخی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ مدینہ کی پہلی صدی ہجری کے ایک معتبر راوی اور عثمانی خاندان کے نمایاں فرد تھے۔ ان کی روایت کی توثیق اور شیوخ و تلامذہ کی فہرست انہیں محض نسبی نام کے بجائے حدیثی تاریخ کی مستقل شخصیت بناتی ہے۔
فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے ان کا نکاح عثمانی و علوی خاندانوں کے درمیان ایک اہم خاندانی رابطہ تھا۔ ان کے بیٹے محمد الدیباج نے اپنے حسینی مادری بھائیوں کے ساتھ قریبی تعلق رکھا، اس لیے یہ رشتہ بعد کی علوی و عباسی عہد کی خاندانی اور سیاسی تاریخ میں بھی نمایاں ہوا۔
ان کی سوانح ہم نام افراد کی درست تفریق کا عملی نمونہ ہے۔ مکمل نسب، لقب مطرف، زوجہ، اولاد، حدیثی اساتذہ اور ۹۶ھ کی مصری وفات کو یکجا کرکے انہیں دوسرے اموی عبد اللہ افراد سے الگ کیا جا سکتا ہے، جبکہ نامعلوم قبر اور والدہ کے اختلاف کو دیانت داری سے کھلا رکھا جاتا ہے۔
فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے ان کا نکاح عثمانی و علوی خاندانوں کے درمیان ایک اہم خاندانی رابطہ تھا۔ ان کے بیٹے محمد الدیباج نے اپنے حسینی مادری بھائیوں کے ساتھ قریبی تعلق رکھا، اس لیے یہ رشتہ بعد کی علوی و عباسی عہد کی خاندانی اور سیاسی تاریخ میں بھی نمایاں ہوا۔
ان کی سوانح ہم نام افراد کی درست تفریق کا عملی نمونہ ہے۔ مکمل نسب، لقب مطرف، زوجہ، اولاد، حدیثی اساتذہ اور ۹۶ھ کی مصری وفات کو یکجا کرکے انہیں دوسرے اموی عبد اللہ افراد سے الگ کیا جا سکتا ہے، جبکہ نامعلوم قبر اور والدہ کے اختلاف کو دیانت داری سے کھلا رکھا جاتا ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
عمرو بن عثمان بن عفان
مصدقہ
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
فاطمہ بنت حسینؑ
مصدقہ
ماخذ
Nasab Quraysh | Musab ibn Abd Allah al-Zubayri | displayed pp. 50, 57, 102 and related Uthmanid lineage pages | https://shamela.ws/book/2922/50https://shamela.ws/book/2922/57
https://shamela.ws/book/2922/102 | Epithet al-Mutarrif, marriage sequence with Fatima bint Husayn, Uthmanid lineage, and identified family connections
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | displayed pp. 162 and 177 | https://shamela.ws/book/12404/162
https://shamela.ws/book/12404/177 | Full chain Abd Allah ibn Amr ibn Uthman ibn Affan, marriage after Hasan al-Muthanna, and children Muhammad al-Dibaj, al-Qasim, and Ruqayya
Tahdhib al-Tahdhib | Ibn Hajar al-Asqalani | Vol. 2, p. 394, entry Abd Allah ibn Amr ibn Uthman | https://mail.shamela.ws/book/1293/1084 | Mother commonly named Hafsa bint Abd Allah ibn Umar, hadith teachers and students, al-Nasa'i's reliability judgment, generosity, epithet, and death in Egypt in 96 AH
Kitab al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib | p. 404 | https://shamela.ws/book/12205/404 | Preserves the maternal-name variant Hafsa or Zaynab bint Abd Allah ibn Umar
Al-Iqd al-Farid | Ibn Abd Rabbih | biographical narrative; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/23789/2274 | Later classical narrative of his interest in Fatima and presence after Hasan al-Muthanna's death; used only as corroborative literary context
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔