حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

Abu Sa'id al-Khudri was Sa'd ibn Malik ibn Sinan ibn Ubayd ibn Tha'laba ibn Ubayd ibn al-Abjar ibn Awf ibn al-Harith ibn al-Khazraj, an Ansari of Khazraj and the Khudrah branch. Classical biographers explain the nisbah al-Khudri through Khudrah, while differing over whether Khudrah was the personal name of al-Abjar or an ancestress connected with the clan. His father Malik ibn Sinan was martyred at Uhud. His mother is named in al-Mizzi as Anisa bint Abi Haritha of Banu Adi ibn al-Najjar. Ibn Sa'd preserves an early variant form, Anisa bint Abi Kharija, in the biography of Abu Sa'id's full sister al-Furay'a. Qatada ibn al-Nu'man was his maternal half-brother, so the maternal household connected him with another well-known Companion. Zaynab bint Ka'b ibn Ujra is directly identified in hadith-biographical sources as Abu Sa'id's wife. Abd al-Rahman ibn Abi Sa'id is independently identified as his son and as a transmitter from him. A later modern biographical roster reports additional sons, but because those names were not independently confirmed here from directly inspected early family evidence, only Abd al-Rahman is structurally represented and no unverified child identity is created.

PER-001689 صحابی / صحابیہ مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، جن کا اصل نام سعد بن مالک بن سنان تھا، مدینہ کے انصاری، قبیلۂ خزرج کے فرد، کثیر الروایہ صحابی اور فقہائے مدینہ میں سے تھے۔ قدیم تراجم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وسیع روایت، طویل علمی زندگی اور تابعین کی ایک بڑی جماعت کی تعلیم کے باعث ممتاز قرار دیتے ہیں۔ غزوۂ احد کے لیے پیش کیے گئے تو ان کی عمر تیرہ برس تھی اور انہیں جنگ کی اجازت نہ ملی، لیکن بعد میں غزوۂ خندق، بیعتِ رضوان اور مزی کے مطابق احد کے بعد بارہ غزوات میں شریک ہوئے۔ ان کی وفات کے لیے مضبوط تر قول ۷۴ ہجری میں مدینہ ہے۔ ان کے بیٹے عبدالرحمن کی روایت بقیع میں تدفین کی نسبت محفوظ کرتی ہے، مگر آج ان کی الگ انفرادی قبر کا قابلِ اعتماد قطعی نشان معلوم نہیں۔
ولادت

معتبر اعلیٰ درجے کے سوانحی مآخذ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پیدائش کی کوئی قطعی تاریخ یا متعین سن محفوظ نہیں۔ ابتدائی زمانی قرینہ ان کی اپنی منقول عمر ہے: حاکم کی روایت کے مطابق ۳ ہجری میں غزوۂ احد کے لیے پیش کیے گئے تو وہ تیرہ برس کے تھے۔ یہ بیان اتنا ضرور ثابت کرتا ہے کہ ابتدائی مدنی دور میں وہ نو عمر تھے، لیکن مزید دلیل کے بغیر اس سے کوئی مصنوعی طور پر قطعی سنِ پیدائش اخذ کرنا درست نہیں۔ ان کی پرورش مدینہ اور انصاری خزرجی ماحول میں ہوئی، جیسا کہ قدیم تراجم مسلسل ظاہر کرتے ہیں۔

وفات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی وفات کے لیے قدیم تراجم میں غالب قول ۷۴ ہجری، مدینہ ہے۔ ذہبی نے یہ تاریخ واقدی اور ایک جماعت کی طرف منسوب کی ہے، اور ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈیا بھی ۷۴ ہجری ہی کو قابلِ قبول تاریخ قرار دیتا ہے۔ دوسرے اقوال میں ۶۳، ۶۴ یا ۶۵ ہجری جیسے پہلے سال بھی نقل ہوئے ہیں، جبکہ ایک روایت واقعۂ حرہ کے بعد کی تاریخ بتاتی ہے۔ یہ اختلافات تاریخی طور پر قابلِ ذکر ہیں، مگر ۷۴ ہجری کے غالب زمانی سلسلے سے کم مضبوط ہیں۔ اس لیے حتمی اندراج میں ۷۴ ہجری کو بنیادی سنِ وفات رکھا گیا ہے اور اختلافی اقوال کا وجود بھی محفوظ ہے۔ کسی غیر ثابت دن، مہینے، سببِ وفات یا قطعی عمرِ وفات کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

مدفن یا منسوب مقام

تدفین کے بارے میں یہاں دیکھی گئی سب سے مضبوط مخصوص شہادت ان کے بیٹے عبدالرحمن بن ابی سعید کی روایت ہے۔ اس کے مطابق حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ انہیں بقیع کے آخری حصے میں ایک ایسی جگہ لے گئے جو اس وقت عام تدفین کے لیے استعمال نہیں ہوتی تھی اور وصیت کی کہ وفات کے بعد انہیں وہیں دفن کیا جائے۔ روایت ان کی وفات کے بعد بڑے جنازے کا بھی ذکر کرتی ہے۔ یہ شہادت بقیع کو ان کا قبرستانِ تدفین قرار دینے کے لیے مضبوط ہے، لیکن موجودہ دور میں ان کی الگ انفرادی قبر متعین نہیں کرتی۔ بقیع صدیوں میں وسیع ہوا اور اس کی داخلی صورت بدلی، اس لیے جدید مقاماتی اندراج میں بقیع کا مقرر مشترک قبرستانی حوالہ استعمال کرنا درست ہے، کسی فرضی قطعی قبر کے نقطے کو نہیں۔ استنبول میں کاریہ کے قریب ان سے منسوب مقام ایک الگ متاخر یادگاری نسبت ہے۔ ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈیا قسطنطنیہ کے محاصرے میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی وفات کی روایت کو صریح طور پر رد کرتا اور ان کی وفات و تدفین مدینہ میں رکھتا ہے۔ اسی لیے اس شخصی اندراج میں استنبول کے مقام کو بنیادی قبر نہیں مانا گیا۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان انصاری خزرجی تھا۔ ان کی کنیت اس قدر مشہور ہوئی کہ بعد کی یادداشت میں اکثر اصل نام پر غالب آ گئی۔ نسبتِ خدری مدینہ کے قبیلۂ خزرج کی شاخ خدرہ سے ان کا تعلق ظاہر کرتی ہے۔

ان کے والد مالک بن سنان صحابی تھے اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ والدہ کا نام انیسہ بنت ابی حارثہ، بنی عدی بن نجار، بتایا گیا ہے، جبکہ ابن سعد کے خاندانی مواد میں نام کی ایک قدیم اختلافی صورت بھی ملتی ہے۔ فریعہ بنت مالک ان کی حقیقی بہن اور قتادہ بن نعمان ان کے ماں شریک بھائی تھے۔ زینب بنت کعب بن عجرہ ان کی ثابت شدہ زوجہ اور عبدالرحمن بن ابی سعید ان کے براہِ راست ثابت بیٹے اور راوی ہیں۔

غزوۂ احد کے لیے جب حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے اپنی عمر تیرہ برس بتائی۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ جنگ میں شریک ہوں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم سنی کے باعث اجازت نہ دی۔ اسی احد میں مالک بن سنان شہید ہوئے، اس لیے یہ واقعہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی نوجوانی میں ایک اہم موڑ تھا۔

ان کی بعد کی خدمت پوری طرح مدنی دورِ صحابہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ذہبی لکھتے ہیں کہ انہوں نے غزوۂ خندق اور بیعتِ رضوان دیکھی، جبکہ مزی کے مطابق احد کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوئے۔ یوں احد میں واپس کیے جانے والے نوجوان سے وہ نبوی دور کے آخری مرحلے کے فعال صحابی بن گئے۔

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کم عمر صحابہ میں سب سے معروف کثیر الروایہ راویوں میں شمار ہوئے۔ مزی کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست روایت کے ساتھ حضرت ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سمیت کئی اکابر صحابہ سے بھی روایت کی۔ اس طرح ان کی مرویات میں براہِ راست نبوی احادیث کے ساتھ پہلی مسلم نسل کی محفوظ علمی یاد بھی شامل ہے۔

ان کی اہمیت صرف احادیث کی تعداد تک محدود نہیں تھی۔ ذہبی انہیں امام، مجاہد اور مفتیِ مدینہ کہتے ہیں اور مجتہد فقہاء میں شمار کرتے ہیں۔ بقی بن مخلد کے مسند میں تکرارِ طرق سمیت ان سے منسوب تقریباً ایک ہزار ایک سو ستر روایات شمار کی گئی ہیں، جو ان کے نام سے وابستہ حدیثی ذخیرے کی وسعت دکھاتی ہیں۔

ان سے روایت کرنے والوں کی بڑی جماعت نے ان کے علم کو تابعین تک منتقل کیا۔ قدیم فہرستوں میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، انس بن مالک، سعید بن مسیب، حسن بصری، عطا بن یسار، ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد باقر سمیت بہت سے نام آتے ہیں۔ ان کی زوجہ زینب اور بیٹے عبدالرحمن بھی روایت کے حلقے میں نظر آتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی علمی میراث عام درس و روایت کے حلقوں کے ساتھ خاندانی ذریعے سے بھی منتقل ہوئی۔

ان کی وفات کے لیے سوانحی مآخذ میں غالب قول ۷۴ ہجری، مدینہ ہے۔ ذہبی نے اسے واقدی اور ایک جماعت کا قول نقل کیا ہے، جبکہ اس سے بہت پہلے کے سالوں اور واقعۂ حرہ کے بعد کی تاریخ کے اقوال بھی محفوظ کیے ہیں۔ اس لیے تاریخی طور پر ۷۴ ہجری کو بنیادی قول مانتے ہوئے اختلافی اقوال کا وجود باقی رکھنا زیادہ محتاط ہے۔

ان کے بیٹے عبدالرحمن کی روایت کے مطابق حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ انہیں بقیع کے آخری حصے میں ایک ایسی جگہ لے گئے جو اس وقت تدفین کے لیے عام طور پر استعمال نہیں ہوتی تھی اور وصیت کی کہ انہیں وہیں دفن کیا جائے۔ یہ روایت بقیع کے ساتھ تدفین کی نسبت کو مضبوط بناتی ہے، مگر صدیوں میں قبرستان کی داخلی صورت بدلنے کے باعث اسے آج کسی ایک قطعی انفرادی قبر میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ استنبول میں کاریہ کے قریب منسوب مقام ایک الگ متاخر یادگاری روایت ہے؛ ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈیا قسطنطنیہ کے محاصرے میں ان کی وفات کے دعوے کو تاریخی طور پر غیر معتبر قرار دیتا اور اصل وفات و تدفین مدینہ میں بیان کرتا ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تاریخی اہمیت اس پہلو سے بہت نمایاں ہے کہ وہ کم عمر صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبوی تعلیم کو اگلی نسل تک طویل عرصے تک منتقل کیا۔ مدینہ میں ان کی طویل علمی زندگی نے تابعین کے اہلِ علم کو اس صحابی سے ایک وسیع حدیثی ذخیرہ حاصل کرنے کا موقع دیا جو عہدِ نبوی کے آخری مدنی دور کا چشم دید گواہ تھا۔

ان کا فقہی مقام اس میراث کو ایک دوسرا رخ دیتا ہے۔ ذہبی کا انہیں فقیہ، مجتہد اور مفتیِ مدینہ کہنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعد کے اہلِ علم نے انہیں محض راوی نہیں بلکہ سنتِ نبوی کو سمجھنے اور اس سے حکم اخذ کرنے والے عالم کے طور پر یاد کیا، جن کی روایات عبادات، معاملات، اخلاق اور اجتماعی زندگی کے مباحث میں داخل ہوئیں۔

ان کی سوانح علم کو ابتدائی اسلامی تاریخ کے عملی تجربے سے بھی جوڑتی ہے۔ کم عمری کے باعث احد سے واپس ہوئے، اسی جنگ میں والد کو کھویا، پھر خندق، بیعتِ رضوان اور متعدد غزوات دیکھے۔ یوں ان کی زندگی مدینہ کے بنیادی تاریخی واقعات اور تابعین کے علمی دور کے درمیان ایک مضبوط پل بن جاتی ہے۔

ان کے روایت کے حلقے کی وسعت بھی تاریخی طور پر اہم ہے۔ ان کی مرویات کے گرد اکابر صحابہ اور بڑے تابعین کے نام ملتے ہیں، جبکہ زوجہ زینب اور بیٹے عبدالرحمن جیسے خاندانی راوی یہ دکھاتے ہیں کہ ان کا علم گھر کے ذریعے بھی آگے منتقل ہوا۔

بقیع میں ان کی منقول تدفین ان کی یاد کو ایک جغرافیائی پہلو دیتی ہے۔ بیٹے کو دی گئی تدفین کی وصیت کی قدیم روایت بقیع کی نسبت کو مضبوط کرتی ہے، لیکن آج ان کی الگ قبر کی یقینی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے مقام کو مشترک قبرستان کی سطح پر پیش کرنا درست ہے، نہ کہ ایک قطعی انفرادی قبر کے طور پر۔ یہ فرق تاریخی شہادت اور جدید مقاماتی دیانت دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

تهذيب الكمال في أسماء الرجال | جمال الدين المزي | ج 10، ص 295-300، ترجمة سعد بن مالك بن سنان | https://sunna.alifta.gov.sa/BookToc/ViewServicePage?bookId=48&mainId=445410 | نسب، والدین، کم عمری میں احد سے واپسی، والد کی شہادت، بعد کے بارہ غزوات اور وسیع روایت
سير أعلام النبلاء | شمس الدين الذهبي | ج 3، ص 168-172، ترجمة أبي سعيد الخدري | https://www.islamweb.net/ar/library/maktaba/nindex.php?ids=44&page=showalam | خزرجی شناخت، خندق، بیعت رضوان، فقہی مقام، راویوں کا حلقہ اور وفات کے اختلافات
المستدرك على الصحيحين | الحاكم النيسابوري | ج 4، ص 733-734، أخبار أبي سعيد ووصيته بالدفن | https://www.islamweb.net/ar/library/content/74/6283/ | بقیع میں تدفین کی وصیت اور ۷۴ ہجری کی روایت؛ قبرستانی نسبت
الطبقات الكبرى | محمد بن سعد | ترجمة الفريعة بنت مالك؛ ترقيم الصفحات يختلف بحسب الطبعة | https://hadithportal.com/index.php?show=bab&bab_id=10631&book=800 | والدہ کے نام کی قدیم اختلافی صورت، حقیقی بہن فریعہ، ماں شریک بھائی اور زوجہ کے خاندانی سیاق
تهذيب الكمال في أسماء الرجال | جمال الدين المزي | ج 35، ص 187، ترجمة زينب بنت كعب بن عجرة | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/11263/ | زینب بنت کعب بن عجرہ کا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہونا
تهذيب الكمال في أسماء الرجال | جمال الدين المزي | ج 17، ص 135، ترجمة عبد الرحمن بن سعد بن مالك بن سنان | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/4167/ | عبدالرحمن کا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور ان سے راوی ہونا
TDV İslâm Ansiklopedisi — EBÛ SAÎD el-HUDRÎ | Raşit Küçük | ج 10، ص 223-224؛ النسخة الإلكترونية | https://islamansiklopedisi.org.tr/ebu-said-el-hudri | جامع جدید سوانح، ۷۴ ہجری، بقیع میں تدفین اور استنبول کے مقام کو الگ یادگاری نسبت قرار دینا
Saudipedia — Al-Baqi Cemetery | Saudipedia | مقالة الموقع والتاريخ؛ النسخة الإلكترونية | https://saudipedia.com/en/al-baqi-cemetery | بقیع کی موجودہ جغرافیائی شناخت، مدینہ میں تاریخی مرکزی قبرستان اور مسجد نبوی کے جنوب مشرق میں محل

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔