قشیری ایک روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں سالم مغربی نے ذوالنون مصری رحمہ اللہ سے ان کی توبہ کا سبب پوچھا۔ ذوالنون رحمہ اللہ نے مصر سے بعض بستیوں کی طرف سفر، صحرا میں نیند، اور بیدار ہونے پر ایک نابینا قنبرہ کو گھونسلے سے زمین پر گرتے دیکھنے کا ذکر کیا۔ پھر ان کے بیان کے مطابق زمین شق ہوئی اور دو چھوٹے برتن ظاہر ہوئے، ایک میں تل اور دوسرے میں پانی تھا۔ پرندے کو کھاتے پیتے دیکھنا اسی روایت میں ان کی توبہ کا فیصلہ کن لمحہ بن گیا۔
قشیری نے ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی توبہ کا واقعہ ایک براہِ راست سوال کے جواب کے طور پر محفوظ کیا ہے۔ سالم مغربی نے ان سے پوچھا کہ آپ کی توبہ کا سبب کیا تھا۔ ذوالنون رحمہ اللہ نے جواب میں اپنے ایک پرانے سفر کا ذکر کیا، جب وہ مصر سے بعض بستیوں کی طرف روانہ ہوئے اور صحرا کے ایک علاقے سے گزر رہے تھے۔ حکایت ایک معمول کے سفر سے شروع ہوتی ہے اور پھر اس منظر تک پہنچتی ہے جسے انہوں نے اپنی روحانی زندگی کا اہم موڑ قرار دیا۔
ذوالنون رحمہ اللہ نے بتایا کہ سفر کے دوران انہیں نیند آ گئی۔ جب آنکھ کھلی تو انہوں نے ایک نابینا قنبرہ کو اپنے گھونسلے سے زمین پر گرتے دیکھا۔ پرندہ دیکھ نہیں سکتا تھا اور کھلے صحرا میں گھونسلے کی حفاظت سے باہر آ گیا تھا۔ روایت کچھ دیر اسی بے بسی کے منظر کو سامنے رکھتی ہے، تاکہ آگے آنے والا رزق اسی ضرورت اور کمزوری کے پس منظر میں سمجھ میں آئے۔
پھر ذوالنون رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق زمین شق ہوئی اور دو چھوٹے برتن ظاہر ہوئے۔ ایک برتن سونے کا تھا اور دوسرا چاندی کا۔ ایک میں تل تھے اور دوسرے میں پانی۔ نابینا پرندہ تل کھانے اور پانی پینے لگا۔ یہاں قدیم متن کی ایک اہم بات محفوظ رہنی چاہیے: قشیری کے متن میں پانی ہے، اور ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں بھی اسی بنیادی روایت کو پانی کے ساتھ نقل کیا ہے؛ بعد کی بعض حکایات میں آنے والے گلاب کے پانی کو اصل قدیم عبارت کی جگہ نہیں دینا چاہیے۔
ذوالنون رحمہ اللہ کے لیے اصل بات برتنوں کی حیرت نہیں بلکہ اس منظر کا اثر تھا۔ ایک نابینا اور بظاہر بے سہارا جاندار تک صحرا میں رزق پہنچتے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے اور میں نے توبہ کر لی۔ روایت آگے ان کے اللہ تعالیٰ کی طرف ثابت قدم رہنے اور قبولیت کے انتظار کا ذکر کرتی ہے۔ یوں قصے کا مرکزی سفر بے بسی سے رزق، رزق سے بیداری، اور بیداری سے توبہ کی طرف جاتا ہے۔
بعد میں ذہبی نے بھی ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی سوانح میں اسی بنیادی قصے کو محفوظ کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ان کی کلاسیکی سوانح کا معروف حصہ بن گیا۔ اس حکایت کی اصل یادگار چیز برتنوں کی نوعیت نہیں، بلکہ ذوالنون رحمہ اللہ کا ردِّعمل ہے: صحرا میں ایک نابینا پرندے کو کھانا اور پانی ملتے دیکھ کر انہوں نے اسے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے، توبہ کرنے اور نئی روحانی زندگی اختیار کرنے کے لیے کافی سمجھا۔
ذوالنون رحمہ اللہ نے بتایا کہ سفر کے دوران انہیں نیند آ گئی۔ جب آنکھ کھلی تو انہوں نے ایک نابینا قنبرہ کو اپنے گھونسلے سے زمین پر گرتے دیکھا۔ پرندہ دیکھ نہیں سکتا تھا اور کھلے صحرا میں گھونسلے کی حفاظت سے باہر آ گیا تھا۔ روایت کچھ دیر اسی بے بسی کے منظر کو سامنے رکھتی ہے، تاکہ آگے آنے والا رزق اسی ضرورت اور کمزوری کے پس منظر میں سمجھ میں آئے۔
پھر ذوالنون رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق زمین شق ہوئی اور دو چھوٹے برتن ظاہر ہوئے۔ ایک برتن سونے کا تھا اور دوسرا چاندی کا۔ ایک میں تل تھے اور دوسرے میں پانی۔ نابینا پرندہ تل کھانے اور پانی پینے لگا۔ یہاں قدیم متن کی ایک اہم بات محفوظ رہنی چاہیے: قشیری کے متن میں پانی ہے، اور ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں بھی اسی بنیادی روایت کو پانی کے ساتھ نقل کیا ہے؛ بعد کی بعض حکایات میں آنے والے گلاب کے پانی کو اصل قدیم عبارت کی جگہ نہیں دینا چاہیے۔
ذوالنون رحمہ اللہ کے لیے اصل بات برتنوں کی حیرت نہیں بلکہ اس منظر کا اثر تھا۔ ایک نابینا اور بظاہر بے سہارا جاندار تک صحرا میں رزق پہنچتے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے اور میں نے توبہ کر لی۔ روایت آگے ان کے اللہ تعالیٰ کی طرف ثابت قدم رہنے اور قبولیت کے انتظار کا ذکر کرتی ہے۔ یوں قصے کا مرکزی سفر بے بسی سے رزق، رزق سے بیداری، اور بیداری سے توبہ کی طرف جاتا ہے۔
بعد میں ذہبی نے بھی ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی سوانح میں اسی بنیادی قصے کو محفوظ کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ان کی کلاسیکی سوانح کا معروف حصہ بن گیا۔ اس حکایت کی اصل یادگار چیز برتنوں کی نوعیت نہیں، بلکہ ذوالنون رحمہ اللہ کا ردِّعمل ہے: صحرا میں ایک نابینا پرندے کو کھانا اور پانی ملتے دیکھ کر انہوں نے اسے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے، توبہ کرنے اور نئی روحانی زندگی اختیار کرنے کے لیے کافی سمجھا۔
خلاصۂ نتیجہ
حکایت اس پر ختم ہوتی ہے کہ ذوالنون مصری رحمہ اللہ نے صحرا میں ایک نابینا پرندے تک غیر متوقع رزق پہنچتے دیکھا اور اسی منظر کو اپنی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف ثابت قدم واپسی کے لیے کافی سمجھا۔
مآخذ
Al-Qushayri, al-Risala al-Qushayriyya, vol. 1, pp. 39–40: Abu Abd al-Rahman al-Sulami <- Abu Bakr Muhammad ibn Abd Allah ibn Shadhan <- Yusuf ibn al-Husayn, who says he attended Dhu al-Nun's gathering when Salim al-Maghribi asked the cause of his repentance; the report gives the desert, blind lark, gold and silver vessels, sesame and water, and Dhu al-Nun's statement that he repented and remained at the door until Allah accepted him.
Al-Dhahabi, Siyar A'lam al-Nubala, vol. 11, pp. 533–534, biography of Dhu al-Nun al-Misri: the repentance story is preserved from Yusuf ibn al-Husayn with sesame and water.
Al-Khatib al-Baghdadi, Tarikh Baghdad, biography of Muhammad ibn Abd Allah ibn Abd al-Aziz ibn Shadhan, vol. 3 p. 182 in the cited edition: al-Idrisi says 'laysa fi al-riwaya bi-dhak.' Ibn Hajar, Lisan al-Mizan, biography 7015, preserves still stronger criticism and al-Hakim's objection.
Al-Qushayri, al-Risala al-Qushayriyya, vol. 1 p. 40, immediately after the Dhu al-Nun biography: 'Tawbat al-awamm takunu min al-dhunub, wa tawbat al-khawass takunu min al-ghafla.'