ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات اور جنازے کے وقت غیر معمولی نشانیاں

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ہجویری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب میں ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات کے گرد چند غیر معمولی نشانیوں کا ایک مربوط بیان محفوظ کیا ہے۔ ان کے مطابق وفات کی رات ستر لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا، وفات کے بعد ایک تحریر ظاہر ہوئی، اور جنازے کے اوپر پرندے جمع ہو کر سایہ کرنے لگے۔ امام ذہبی نے بھی الگ روایت میں جنازے پر پرندوں کے سایہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ایک تاریخی نقل میں تحریر پیشانی کے بجائے قبر پر بتائی گئی ہے، اس لیے اس اختلاف کو الگ روایت کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔

ہجویری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب میں ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات اور جنازے سے متعلق چند یادگار واقعات ایک ساتھ نقل کیے ہیں۔ کہانی ان کی وفات کی رات سے شروع ہوتی ہے۔ ہجویری کے مطابق اس رات ستر لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا، اور خواب میں یہ معنی بیان ہوا کہ آپ ﷺ ذوالنون مصری رحمہ اللہ کے استقبال کے لیے تشریف لائے ہیں۔ یوں روایت کا آغاز ایک ہی رات میں پیش آنے والے متعدد خوابوں سے ہوتا ہے۔

ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہجویری ایک دوسری غیر معمولی نشانی ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آپ کی پیشانی پر ایک تحریر دکھائی دی۔ ہجویری اس تحریر کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ ذوالنون اللہ کے محبوب تھے اور محبتِ الٰہی میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ روایت اس منظر کو کسی طویل تشریح کے بغیر وفات کے بعد ظاہر ہونے والی ایک نشانی کے طور پر پیش کرتی ہے۔

اس کے بعد بیان جنازے کی طرف بڑھتا ہے۔ ہجویری لکھتے ہیں کہ ذوالنون مصری رحمہ اللہ کے جنازے کے اوپر پرندے جمع ہوگئے اور انہوں نے جنازے پر سایہ کر دیا۔ یہ پوری حکایت کا سب سے نمایاں منظر بن جاتا ہے: جنازہ آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے اوپر پرندوں کا جھنڈ جمع ہو کر سایہ کیے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے پرندوں کا یہ منظر ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات سے منسوب مشہور کرامتی روایات میں خاص طور پر یاد رکھا گیا۔

امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں جنازے سے متعلق ایک الگ مگر ملتی جلتی روایت محفوظ کی ہے۔ یوسف بن احمد بغدادی سے منقول ہے کہ ذوالنون مصری رحمہ اللہ کے جنازے پر پرندوں نے سایہ کیا، اور اس کے بعد لوگوں کے دلوں میں آپ کی قبر کی تعظیم مزید بڑھ گئی۔ اس نقل کو ہجویری کے بیان میں ملا دینے کے بجائے ایک جدا روایت کے طور پر رکھنا زیادہ صاف ہے۔

تحریر کے مقام کے بارے میں بھی دو الگ صورتیں منقول ہیں۔ ہجویری اسے ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی پیشانی پر بتاتے ہیں، جبکہ ابن عساکر کی تاریخ دمشق میں محفوظ ایک نقل اسے قبر پر ذکر کرتی ہے۔ دونوں روایتیں وفات سے وابستہ منقول یادداشت کا حصہ ہیں، لیکن مقام کی یہ تفصیل ایک جیسی نہیں۔ عطار نے بھی بعد میں اسی نوع کے واقعات کا ایک ملتا جلتا مجموعہ نقل کیا ہے، مگر یہاں اصل کہانی ہجویری کی نقل کے مطابق رکھی گئی ہے۔

اس ترتیب سے پوری حکایت واضح رہتی ہے: وفات کی رات خواب، وفات کے بعد غیر معمولی تحریر، اور پھر جنازے پر پرندوں کا سایہ۔ یہی مناظر ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات اور جنازے سے منسوب مشہور کرامتی روایات کا مرکزی حصہ ہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

یہ حکایت ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات کی رات کے خوابوں، وفات کے بعد ظاہر ہونے والی تحریر اور جنازے پر پرندوں کے سایہ کرنے کے یادگار مناظر پر مکمل ہوتی ہے۔

مآخذ

al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, section on Dhu al-Nun al-Misri
Nicholson translation of al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, Dhu al-Nun section
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Dhahabi, Siyar A'lam al-Nubala, biography of Dhu al-Nun al-Misri
Ibn Hajar, Lisan al-Mizan, biography of Dhu al-Nun al-Misri
Ibn Hajar, Lisan al-Mizan, same biography
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, biography of Dhu al-Nun
Attar, Tadhkirat al-Awliya, Dhu al-Nun section
CAND-0247 Task 1 evidence-layer synthesis
CAND-0247 Task 1 taxonomy decision