اسلامی متون شبِ اسراء اور آسمانی معراج کو مذہبی واقعے کے طور پر بیان کرتے ہیں، جبکہ ایک جدید تفسیری کتاب نظریۂ اضافیت، وقت کے پھیلاؤ اور روشنی کی رفتار کے تصورات سے اس سفر کو موجودہ قاری کے لیے قابلِ تصور بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ آئن سٹائن کا نظریہ واقعی یہ دکھاتا ہے کہ مختلف جمودی نظاموں میں وقت اور حرکت کی پیمائش یکساں نہیں رہتی، مگر وہ معراج کا ذکر نہیں کرتا اور نہ اس کے وقوع کا تاریخی ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اس لیے مذہبی شہادت، جدید مثال اور طبیعیاتی نظریہ الگ تہوں میں رکھنا زیادہ درست ہے۔
اس بحث کی ابتدا جدید طبیعیات سے نہیں بلکہ اسلامی ماخذ سے ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی سورۂ اسراء کی پہلی آیت بیان کرتی ہے کہ اللہ اپنے بندے کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گیا تاکہ اسے اپنی نشانیاں دکھائے۔ صحیح البخاری کی روایت میں آسمانی صعود کی مزید تفصیل ملتی ہے: نبی کریم ﷺ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آسمانوں سے گزرتے ہیں، سابق انبیاء سے ملاقات کرتے ہیں، سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچتے ہیں اور نمازوں کا حکم پاتے ہیں۔ یہ متون معراج کا دینی بیانیہ قائم کرتے ہیں، مگر ان میں نظریۂ اضافیت، روشنی کی رفتار کا حساب یا سفر کا کوئی طبیعیاتی طریقۂ کار بیان نہیں ہوا۔
کئی صدیوں بعد جدید قاری کے سامنے ایک نیا سوال آیا کہ کیا موجودہ سائنس ایسے غیر معمولی سفر کے بعض پہلو سمجھنے میں کوئی مثال دے سکتی ہے۔ فلسفہ معراج النبی کے جانچے گئے باب میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت، روشنی کی رفتار، وقت کے پھیلاؤ اور طول کے سکڑاؤ کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی بحث میں روشنی کی رفتار کے نوے فیصد کی مثال دی جاتی ہے اور پھر براق کے سفر کو روشنی سے کئی گنا زیادہ رفتار کی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ اصل مذہبی روایت نہیں بلکہ اس کے ساتھ رکھی گئی جدید تشریحی تہہ ہے۔
نظریۂ اضافیت ایک حقیقی اور اہم سائنسی حقیقت ضرور بتاتا ہے: مختلف حرکت رکھنے والے مشاہدین کے لیے گزرے ہوئے وقت کی پیمائش ایک جیسی ہونا لازم نہیں۔ آئن سٹائن کے انیس سو پانچ کے مقالے میں روشنی کی رفتار کو مستقل مان کر متحرک گھڑی کا تعلق اخذ کیا گیا۔ روشنی کی رفتار کے نوے فیصد پر معیاری نسبت تقریباً صفر اعشاریہ چار تین چھ بنتی ہے، بالکل نصف نہیں۔ اسی نظریے میں کمیت رکھنے والے عام جسم کو روشنی کی رفتار سے آگے پہنچانا معمول کی طبیعی حرکت کے طور پر جائز نہیں بنتا۔
یہ حد جدید مثال کو سمجھنے کے لیے بنیادی ہے۔ نظریۂ اضافیت یہ دکھانے میں مدد دے سکتا ہے کہ وقت ہر مشاہدہ کنندہ کے لیے یکساں انداز سے ناپا نہیں جاتا، مگر اس سے معراج تجربہ گاہ کا نتیجہ نہیں بن جاتا۔ اسی طرح روشنی سے کئی گنا تیز سفر کو خاص نظریۂ اضافیت کی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔
محتاط نتیجہ یہ ہے کہ تینوں تہیں الگ رکھی جائیں۔ معراج کا دینی اثبات اسلامی نصوص پر قائم ہے۔ نظریۂ اضافیت زمان، مکان اور حرکت کی طبیعی پیمائش کا نظریہ ہے۔ کوئی جدید مصنف اسے تفہیمی مثال کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، لیکن سائنس نے معراج کے تاریخی وقوع کو آزاد طور پر ثابت نہیں کیا، اور نظریۂ اضافیت کی معمول کی طبیعی حدود کو مذہبی معجزے کی سائنسی تردید بھی نہیں بنایا جانا چاہیے۔
کئی صدیوں بعد جدید قاری کے سامنے ایک نیا سوال آیا کہ کیا موجودہ سائنس ایسے غیر معمولی سفر کے بعض پہلو سمجھنے میں کوئی مثال دے سکتی ہے۔ فلسفہ معراج النبی کے جانچے گئے باب میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت، روشنی کی رفتار، وقت کے پھیلاؤ اور طول کے سکڑاؤ کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی بحث میں روشنی کی رفتار کے نوے فیصد کی مثال دی جاتی ہے اور پھر براق کے سفر کو روشنی سے کئی گنا زیادہ رفتار کی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ اصل مذہبی روایت نہیں بلکہ اس کے ساتھ رکھی گئی جدید تشریحی تہہ ہے۔
نظریۂ اضافیت ایک حقیقی اور اہم سائنسی حقیقت ضرور بتاتا ہے: مختلف حرکت رکھنے والے مشاہدین کے لیے گزرے ہوئے وقت کی پیمائش ایک جیسی ہونا لازم نہیں۔ آئن سٹائن کے انیس سو پانچ کے مقالے میں روشنی کی رفتار کو مستقل مان کر متحرک گھڑی کا تعلق اخذ کیا گیا۔ روشنی کی رفتار کے نوے فیصد پر معیاری نسبت تقریباً صفر اعشاریہ چار تین چھ بنتی ہے، بالکل نصف نہیں۔ اسی نظریے میں کمیت رکھنے والے عام جسم کو روشنی کی رفتار سے آگے پہنچانا معمول کی طبیعی حرکت کے طور پر جائز نہیں بنتا۔
یہ حد جدید مثال کو سمجھنے کے لیے بنیادی ہے۔ نظریۂ اضافیت یہ دکھانے میں مدد دے سکتا ہے کہ وقت ہر مشاہدہ کنندہ کے لیے یکساں انداز سے ناپا نہیں جاتا، مگر اس سے معراج تجربہ گاہ کا نتیجہ نہیں بن جاتا۔ اسی طرح روشنی سے کئی گنا تیز سفر کو خاص نظریۂ اضافیت کی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔
محتاط نتیجہ یہ ہے کہ تینوں تہیں الگ رکھی جائیں۔ معراج کا دینی اثبات اسلامی نصوص پر قائم ہے۔ نظریۂ اضافیت زمان، مکان اور حرکت کی طبیعی پیمائش کا نظریہ ہے۔ کوئی جدید مصنف اسے تفہیمی مثال کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، لیکن سائنس نے معراج کے تاریخی وقوع کو آزاد طور پر ثابت نہیں کیا، اور نظریۂ اضافیت کی معمول کی طبیعی حدود کو مذہبی معجزے کی سائنسی تردید بھی نہیں بنایا جانا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
معراج کا دینی دعویٰ اسلامی متون کی شہادت پر قائم ہے، جبکہ نظریۂ اضافیت وقت اور حرکت کو سمجھنے کی جدید مثال فراہم کرتا ہے۔ دونوں کو الگ شہادتی سطحوں پر رکھنا مذہبی بیان اور طبیعیات، دونوں کی حدود محفوظ رکھتا ہے۔
مآخذ
Qur’an 17:1 (Surat al-Isra): the night journey from al-Masjid al-Haram to al-Masjid al-Aqsa.
Sahih al-Bukhari 3207, Kitab Bad’ al-Khalq (Beginning of Creation), narration of Malik bin Sa‘sa‘a concerning the heavenly ascent.
Muhammad Tahir-ul-Qadri, Falsafa-e-Mi‘raj al-Nabi ﷺ, chapter “Jadid Science aur Mu‘jiza-e-Mi‘raj” (official Minhaj Books online text), 2020 edition metadata.
Einstein A. (1905) Zur Elektrodynamik bewegter Körper. Annalen der Physik 322(10):891–921.
Einstein A. (1905), On the Electrodynamics of Moving Bodies, English translation of the 1905 Annalen der Physik paper (electronic text based on the 1923 Perrett & Jeffery translation).