حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرشِ رحمن کا ہلنا

صحابی/صحابیہ کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مستند روایات میں آیا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرشِ رحمن ہلا۔ واقعے کا پس منظر غزوۂ خندق میں ان کے زخمی ہونے اور آخری بیماری سے جڑا ہے، جبکہ جامع ترمذی کی ایک الگ روایت جنازے کو فرشتوں کے اٹھانے کا ذکر کرتی ہے۔ کلاسیکی شروح میں عرش کے ہلنے کی کیفیت کے بارے میں مختلف توضیحات ملتی ہیں، اس لیے عوامی بیان میں حدیث کے اصل الفاظ محفوظ رکھے جائیں اور کوئی غیر ثابت جسمانی طریقۂ کار نہ گھڑا جائے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے نمایاں سرداروں میں سے تھے۔ غزوۂ خندق کے دن ایک تیر ان کے بازو کی بڑی رگ میں لگا۔ صحیح بخاری کے مطابق نبی کریم ﷺ نے مسجد میں ان کے لیے خیمہ لگوایا تاکہ آپ ﷺ قریب سے عیادت کر سکیں۔ زخم شدید تھا۔ بنی قریظہ سے متعلق واقعات کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اگر قریش کے ساتھ جنگ باقی ہے تو اللہ انہیں زندہ رکھے، اور اگر وہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے تو یہی زخم ان کی وفات کا سبب بن جائے۔

اس کے بعد زخم کھل گیا، خون بہا اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ وفات پا گئے۔ اسی موقع پر صحیح احادیث ایک غیر معمولی آسمانی اعزاز بیان کرتی ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرش ہلا۔ صحیح بخاری کی دوسری سند میں صریح الفاظ ہیں کہ عرشِ رحمن ان کی وفات کے سبب ہلا۔ صحیح مسلم بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی مضمون نقل کرتا ہے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت جنازے کے سامنے رکھے ہونے کے وقت یہی نبوی خبر بیان کرتی ہے۔

ان روایات میں عرش کے ہلنے کی کیفیت نہیں بتائی گئی۔ نہ کوئی قابلِ پیمائش جسمانی طریقہ بیان ہوا، نہ مدت، اور نہ کوئی فلکیاتی یا سائنسی تشریح۔ اس لیے درست عوامی بیان یہی ہے کہ حدیث کے الفاظ اپنی اصل حیثیت میں محفوظ رہیں اور واقعہ ایک جلیل القدر صحابی کے لیے آسمانی تکریم کے طور پر بیان ہو۔

جامع ترمذی کی ایک الگ روایت جنازے کا ایک اور منظر بیان کرتی ہے۔ جب بعض لوگوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے جنازے کے ہلکے ہونے پر بات کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے انہیں اٹھائے ہوئے تھے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا۔ یہ روایت آسمانی تکریم کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے، لیکن اسے بخاری اور مسلم کے عرش والے الفاظ میں ملا کر ایک ہی روایت نہیں بنانا چاہیے۔

حافظ ابن حجر نے عرش کے ہلنے والی حدیث کو صحیحین میں ثابت مانتے ہوئے اس کی کیفیت کے بارے میں متعدد کلاسیکی توضیحات نقل کی ہیں۔ بعض نے اسے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روح کے استقبال پر خوشی سے تعبیر کیا، بعض نے حاملینِ عرش کا معنی ذکر کیا، اور بعض نے اسے اللہ کی طرف سے ان کی فضیلت کی علامت کہا۔ چونکہ خود حدیث ایک خاص کیفیت کو قطعی نہیں کرتی، اس لیے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر نبی کریم ﷺ نے غیر معمولی آسمانی اعزاز کی خبر دی۔ واقعے کو بلند اعتماد کے ساتھ صحابی کی کرامت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، مگر عرش کے ہلنے کی کیفیت کے بارے میں غیر ثابت تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔

خلاصۂ نتیجہ

سب سے مضبوط روایات حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر غیر معمولی آسمانی تکریم کو ثابت کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے عرشِ رحمن کے ہلنے کی خبر دی، جبکہ ایک الگ مضبوط روایت میں فرشتوں کے جنازہ اٹھانے کا ذکر ہے۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 3803, Book 63 (Merits of the Ansar), Hadith 28; Jabir ibn Abdullah report.
Sahih Muslim 2466b, Book 44 (Merits of the Companions), Hadith 176; Jabir ibn Abdullah report.
Sahih Muslim 2467, Book 44 (Merits of the Companions), Hadith 177; Anas ibn Malik report.
Sahih al-Bukhari 4122, Book 64 (Military Expeditions), Hadith 166; Aisha report.
Jami al-Tirmidhi 3849, Book 49 (Virtues), Hadith 249; Anas ibn Malik report.
Ibn Hajar al-Asqalani, Fath al-Bari, vol. 7, p. 154, Bab Manaqib Sa'd ibn Mu'adh, commentary on Bukhari 3803.