حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کی رات کی تلاوت اور فرشتوں کا قریب آنا

صحابی/صحابیہ کی کرامتنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتتاریخی نتیجہصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری ۵۰۱۸ اور صحیح مسلم ۷۹۶ حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کی ایک بابرکت رات کا واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ وہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کا گھوڑا بار بار بے چین ہوا، اور تلاوت روکنے پر پرسکون ہوجاتا تھا۔ ان کے بیٹے یحییٰ گھوڑے کے قریب تھے، اس لیے حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے بچے کی حفاظت کے لیے تلاوت روک دی۔ آسمان کی طرف دیکھا تو ایک سائبان یا بادل جیسا روشن منظر نظر آیا جس میں چراغوں جیسی روشنیاں تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ وہ فرشتے تھے؛ بخاری کے مطابق وہ ان کی آواز کے قریب آئے تھے اور مسلم کے مطابق ان کی تلاوت سن رہے تھے۔

ایک رات حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ قرآنِ مجید کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا قریب بندھا ہوا تھا۔ صحیح بخاری ۵۰۱۸ صراحت کرتی ہے کہ وہ سورۂ بقرہ پڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی تلاوت جاری ہوئی، گھوڑا اچانک بے چین ہوکر حرکت کرنے لگا۔ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ خاموش ہوئے تو گھوڑا پرسکون ہوگیا۔ انہوں نے دوبارہ تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکا۔ تلاوت روکی تو وہ ٹھہر گیا، اور تیسری مرتبہ پڑھنے پر پھر اسی طرح بے چین ہوا۔

اس وقت ان کے بیٹے یحییٰ گھوڑے کے قریب تھے۔ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا بچے کو روند نہ دے یا نقصان نہ پہنچا دے۔ اس لیے انہوں نے تلاوت روک دی اور یحییٰ کی طرف متوجہ ہوئے۔

پھر انہوں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ صحیح روایات میں اس منظر کو ایک سائبان یا بادل جیسی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کے اندر چراغوں جیسی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ وہ روشن منظر فضا میں بلند ہوتا گیا، یہاں تک کہ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کی نگاہ سے اوجھل ہوگیا۔

صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کا واقعہ بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ نے معنی کے اعتبار سے بار بار فرمایا کہ اے ابن حُضیر، پڑھتے رہتے۔ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یحییٰ گھوڑے کے قریب تھے اور مجھے خوف تھا کہ گھوڑا انہیں نقصان نہ پہنچا دے، اس لیے میں رک گیا۔ پھر انہوں نے وہ سائبان نما منظر اور اس میں چراغوں جیسی روشنیاں دیکھنے کا ذکر کیا۔

نبی کریم ﷺ نے اس راز کو خود واضح فرمایا۔ صحیح بخاری کے مطابق آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ فرشتے تھے جو حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کی آواز کے قریب آئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ صبح تک پڑھتے رہتے تو لوگ بھی انہیں دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ رہتے۔ صحیح مسلم ۷۹۶ اسی واقعے کو ایک متصل صحیح طریق سے محفوظ کرتی ہے اور اس کے الفاظ میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے جو ان کی تلاوت سن رہے تھے؛ اگر وہ پڑھتے رہتے تو صبح لوگ انہیں دیکھ لیتے۔

یوں دونوں صحیح روایات ایک ہی رات کے واقعے کو معمولی لفظی فرق کے ساتھ روشن کرتی ہیں: قرآن کی تلاوت، گھوڑے کا بار بار بے چین ہونا، یحییٰ کے لیے باپ کی تشویش، روشن سائبان نما منظر، اور پھر نبی کریم ﷺ کی طرف سے واضح تصدیق کہ وہ فرشتے تھے۔

اس واقعے میں اصل غیر معمولی بات کسی مادی روشنی یا گھوڑے کے رویے کی قیاس آرائی نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی وہ صریح وضاحت ہے جس نے اس منظر کو فرشتوں کی حاضری سے جوڑ دیا۔ اسی لیے یہ حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کی اعلیٰ اعتماد والی صحابی کرامت ہے، جس کا مرکز قرآن کی مخلصانہ تلاوت اور اللہ کے حکم سے فرشتوں کا قریب آنا ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

یہ دو صحیح مجموعوں سے ثابت اعلیٰ اعتماد والی صحابی کرامت ہے۔ حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ رات کو قرآن پڑھ رہے تھے، گھوڑا بار بار بے چین ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے کی حفاظت کے لیے تلاوت روک دی اور ایک روشن سائبان نما منظر دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ فرشتے تھے جو قریب آئے یا تلاوت سن رہے تھے۔ یہ واقعہ قرآن کی تلاوت کی فضیلت اور اللہ کے حکم سے فرشتوں کی حاضری کی نہایت روشن مثال ہے۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 5018

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0067-CLM-01 links this locked SOURCE to a claim reconstructed only from its existing canonical content.

Sahih Muslim 796

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0067-CLM-02 links this locked SOURCE to a claim reconstructed only from its existing canonical content.

Dorar Hadith Encyclopedia, commentary record for Bukhari 5018

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0067-CLM-03 links this locked SOURCE to a claim reconstructed only from its existing canonical content.