شیخ محمد ہندی ابو خمرہ رحمہ اللہ کے بارے میں ایک مقامی زبانی روایت کہتی ہے کہ ان کے وصال کے بعد قبر یا مزار کے قریب پانی ظاہر ہونا شروع ہوا اور نکالنے یا پمپ کرنے کے بعد دوبارہ بھر آتا ہے۔ اسی روایت میں کہا گیا ہے کہ اس پانی سے کسی قسم کی بدبو نہیں آتی اور کہا گیا ہے کہ وہاں کائی یا چکنائی جیسی تہہ نظر نہیں آتی، جبکہ بعض زائرین اسے تبرک کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ مقرر نے ایسے ذاتی واقعات بھی بیان کیے ہیں جن میں کچھ لوگوں نے ٹھنڈے پانی میں کھڑے ہونے کے بعد درد میں آرام محسوس ہونے کی بات کہی۔ یہ سب باتیں یہاں مقامی روایت کے طور پر محفوظ کی گئی ہیں، ثابت شدہ طبی یا سائنسی دعووں کے طور پر نہیں۔
مگر قصے کا مرکزی حصہ ان کی قبر یا مزار سے منسوب جگہ کے پانی سے متعلق ہے۔ مقرر کا کہنا ہے کہ شیخ کے وصال کے بعد وہاں پانی ظاہر ہونا شروع ہوا۔ لوگ پانی کو نکال دیتے ہیں یا پمپ کے ذریعے باہر کر دیتے ہیں، لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ دوبارہ آ جاتا ہے اور جگہ پھر بھر جاتی ہے۔ یہ بار بار لوٹ آنے والا پانی اس مقامی روایت کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔
مقرر پانی کے بارے میں چند مزید باتیں بھی بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق پانی ایک طویل عرصہ وہاں رہنے کے باوجود آس پاس کی سطح پر ایسی کائی یا چکنائی نہیں چھوڑتا جیسی عام طور پر توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس پانی سے کسی قسم کی بدبو نہیں آتی۔ یہ تمام باتیں اسی زبانی روایت کے اندر مقرر کے بیان کردہ مشاہدات کے طور پر محفوظ ہیں۔
روایت کے مطابق بعض زائرین اس پانی کو بوتلوں میں بھر کر تبرک کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ مقرر چند ذاتی واقعات بھی سناتا ہے جن میں بعض لوگوں نے ٹھنڈے پانی میں کھڑے ہونے کے بعد درد میں کمی محسوس ہونے کی بات کہی۔ یہ تجربات اس مقام سے جڑی مقامی عقیدت اور یادداشت کا حصہ ہیں؛ انہیں خود بخود علاج یا ثابت شدہ شفائی خاصیت نہیں کہا جا سکتا۔
اسی زبانی نقل میں ایک الگ غیر معمولی مقامی بات بھی بیان ہوئی ہے کہ ایک بظاہر چھوٹی جگہ میں تقریباً ایک سو چالیس افراد کے سما جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ پانی والے واقعے سے الگ ہے اور نہ پانی کے بار بار لوٹنے کی وجہ بیان کرتا ہے اور نہ اسے ثابت کرتا ہے۔
عوامی بیان میں اس قصے کو اسی طرح محفوظ رکھنا زیادہ مناسب ہے جس طرح مقامی لوگ اسے سناتے ہیں: ایک ایسے شیخ کی یاد جو خدمت کے لیے مشہور تھے، ایک مزار جہاں وصال کے بعد پانی ظاہر ہونے کی بات کہی جاتی ہے، اور یہ مقامی یقین کہ پانی نکالنے کے بعد پھر لوٹ آتا ہے۔ پانی سے کسی قسم کی بدبو نہ آنے، کائی نہ بننے، تبرک کے لیے پانی لے جانے اور درد میں آرام کے واقعات کو بھی اسی مقامی روایت کی حد میں رکھا گیا ہے، انہیں ثابت شدہ سائنسی یا طبی نتیجہ نہیں بنایا گیا۔
خلاصۂ نتیجہ
اس مقامی روایت کا مرکز مزار کے قریب ایسا پانی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نکالنے کے بعد دوبارہ لوٹ آتا ہے، جبکہ دوسری بیان کردہ خصوصیات اسی مقام سے جڑی عقیدتی روایت کا حصہ ہیں۔
مآخذ
VERIFICATION_SCOPE=FIELD_OBSERVATION_ONLY; OBSERVER_IDENTITY=WITHHELD_FROM_PUBLICATION; DOES_NOT_VERIFY=hydrology|refill_mechanism|chemical_safety|medical_efficacy