آیات، معجزات، کرامات اور عبرت آموز واقعات

منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔

بنیادی زمرے

ولی یا صالح کی کرامت

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ، سرد پانی کا امتحان اور حماد دباس رحمہ اللہ کی قبر پر دعا

سر الاسرار و مظهر الانوار میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ اور شیخ حماد دباس رحمہ اللہ سے متعلق ایک مفصل حکایت محفوظ ہے۔ اس میں ۴۹۹ھ کے ایک سرد پانی والے امتحان کا ذکر ہے، جب حماد دباس رحمہ اللہ نے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کو دریا میں دھکیل دیا اور انہوں نے بغیر شکایت اس آزمائش کو برداشت کیا۔ تیس برس بعد شونیزیہ کے قبرستان میں حماد دباس رحمہ اللہ کی قبر کے پاس طویل قیام کے دوران شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے ایک مشاہدہ بیان کیا جس میں حماد نے معافی مانگی اور اپنے دائیں ہاتھ کے لیے دعا کی درخواست کی۔ روایت آگے ہاتھ کی درستی اور بغداد میں یوسف ہمدانی رحمہ اللہ اور عبدالرحمن کردی رحمہ اللہ سے منسوب دو الگ تصدیقات کا ذکر کرتی ہے۔

حضرت عبدالقادر جیلانی · PER-000398 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتآزمائش

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، غیبی آواز، قرض اور سونے کی دریافت کا واقعہ

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے طالب علمی کے زمانے کا ایک قابلِ توجہ واقعہ کلاسیکی سوانحی مآخذ میں محفوظ ہے۔ شدید غربت اور بھوک کے دوران، ان کے اپنے منقول بیان کے مطابق، انہوں نے ایک ایسے بولنے والے کی آواز سنی جو دکھائی نہیں دے رہا تھا اور جس نے ضرورت کے لیے قرض لینے کو کہا۔ انہوں نے ایک دکاندار سے ادھار کھانا لیا، پھر ایک جگہ کی طرف رہنمائی ہوئی جہاں سونے کا بڑا ٹکڑا ملا اور اسی سے قرض ادا کیا گیا۔

حضرت عبدالقادر جیلانی · PER-000398 · قدیم تاریخ
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت

نبی کریم ﷺ کی آنکھوں کا سونا اور دل کا بیدار رہنا

صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد صحیح سند کے ساتھ محفوظ ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات وتر سے پہلے آپ ﷺ کے سونے کے تعلق سے نقل کی، اور یہی حدیث بخاری میں ایک دوسری جگہ بھی آئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اسراء سے متعلق روایت میں بھی یہی خصوصیت مذکور ہے اور بتایا گیا ہے کہ انبیاء کی کیفیت ایسی ہی ہوتی ہے۔ کلاسیکی شرحیں واضح کرتی ہیں کہ دل کی اس خاص بیداری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ کبھی حقیقی نیند نہیں سوتے تھے یا بند آنکھوں سے ہر خارجی منظر دیکھتے رہتے تھے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت

خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت اور شیطانی مشابہت سے حفاظت

صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کی یہ تعلیم معتبر طور پر محفوظ ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کو خواب میں دیکھے اس نے حقیقتاً آپ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان آپ ﷺ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم میں یہ ہم معنی تعبیر بھی آئی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو دیکھا اس نے حق دیکھا۔ اس روایت کا غیر معمولی پہلو نبی کریم ﷺ کی خواب میں ظاہر ہونے والی صورت کا شیطانی مشابہت سے مخصوص طور پر محفوظ ہونا ہے۔ یہ حدیث ہر ذاتی خواب کو نئی وحی، شرعی حکم یا عقیدہ بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
جدید سائنسی یا طبی دعویٰبعد کی تفسیری توضیح

معراج اور نظریۂ اضافیت: جدید مثال، سائنسی ثبوت نہیں

اسلامی متون شبِ اسراء اور آسمانی معراج کو مذہبی واقعے کے طور پر بیان کرتے ہیں، جبکہ ایک جدید تفسیری کتاب نظریۂ اضافیت، وقت کے پھیلاؤ اور روشنی کی رفتار کے تصورات سے اس سفر کو موجودہ قاری کے لیے قابلِ تصور بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ آئن سٹائن کا نظریہ واقعی یہ دکھاتا ہے کہ مختلف جمودی نظاموں میں وقت اور حرکت کی پیمائش یکساں نہیں رہتی، مگر وہ معراج کا ذکر نہیں کرتا اور نہ اس کے وقوع کا تاریخی ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اس لیے مذہبی شہادت، جدید مثال اور طبیعیاتی نظریہ الگ تہوں میں رکھنا زیادہ درست ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · ادارے کی رپورٹ
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت

جنت میں بلالؓ کے قدموں کی آہٹ: نبوی خواب میں فضیلت کی تصدیق

صحیح بخاری ۱۱۴۹ و ۳۶۷۹ اور صحیح مسلم ۲۴۵۷ و ۲۴۵۸ کی روایات میں نبی محمد ﷺ نے جنت میں حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے قدموں یا جوتوں کی آواز سنی۔ فجر کے وقت آپ ﷺ نے بلالؓ سے پوچھا کہ اسلام میں کون سا عمل انہیں سب سے زیادہ امید دلاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی وضو کرتے، اپنی استطاعت کے مطابق اس وضو کے بعد نماز پڑھتے۔ ایک دوسری صحیح بخاری روایت اس جنتی منظر کو واضح طور پر خواب کے طور پر بیان کرتی ہے۔ اس لیے واقعے کا غیر معمولی پہلو بلالؓ کی الگ کرامت نہیں بلکہ نبی ﷺ کا غیبی مشاہدہ اور ان کی فضیلت کا انکشاف ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیتاریخی نتیجہ

حضرت فاطمہؓ کے اہلِ بیت میں سب سے پہلے وصال کی نبوی پیشگی خبر

صحیح بخاری ۳۶۲۳–۳۶۲۴ اور صحیح مسلم ۲۴۵۰ الف و ج میں نبی محمد ﷺ کی آخری بیماری کی وہ گفتگو محفوظ ہے جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اہلِ بیت میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے آ ملنے کی خبر دی گئی۔ پہلی بات سن کر وہ روئیں، کیونکہ آپ نے بتایا کہ جبریلؑ نے اس سال قرآن کا دور آپ کے ساتھ دو مرتبہ کیا اور آپ نے اس سے اپنی وفات کے قریب ہونے کا اشارہ سمجھا۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ اہلِ بیت میں فاطمہؓ سب سے پہلے آپ سے آ ملیں گی۔ دوسری سرگوشی میں ان کے بلند مقام کی خوش خبری تھی، جس سے وہ مسکرائیں۔ بعد کی صحیح روایت بتاتی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور پھر وفات پا گئیں۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیآزمائشتاریخی نتیجہ

حضرت عثمانؓ کے آنے والے فتنے اور ناحق قتل کی نبوی پیشگی خبر

صحیح بخاری ۳۶۹۵ اور صحیح مسلم ۲۴۰۳ ج میں نبی محمد ﷺ کی وہ مضبوط پیشگی خبر محفوظ ہے جس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت کے ساتھ آئندہ آنے والی آزمائش یا مصیبت کی اطلاع دی گئی۔ جامع ترمذی کی ایک الگ روایت اس بات کو زیادہ صراحت سے بیان کرتی ہے کہ فتنہ کے زمانے میں عثمان کو ناحق قتل کیا جائے گا۔ دوسری روایات میں انہیں اس “لباس” کو نہ اتارنے کی ہدایت ملتی ہے جو اللہ انہیں پہنائے گا، اگر لوگ بعد میں اس کے لیے دباؤ ڈالیں۔ تاریخی طور پر عثمان ۳۵ ہجری / ۶۵۶ عیسوی میں مدینہ میں قتل ہوئے، جو ان سابقہ پیش گوئیوں کے بعد پیش آنے والا تاریخی نتیجہ ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیآزمائشتاریخی نتیجہ

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نبوی پیش گوئی

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متعدد مستند روایات میں نبی کریم ﷺ نے پہلے سے خبر دی کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ بخاری کی ایک روایت یہ بات مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر بیان کرتی ہے، جبکہ صحیح مسلم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مستقل طریق سے اسی پیش گوئی کی تصدیق کرتا ہے۔ برسوں بعد حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ شہید ہوئے۔ غیر معمولی مرکز پیش گوئی کا پورا ہونا ہے، جبکہ بعد کی سیاسی تعبیر کو الگ رکھنا چاہیے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
الٰہی نجاتنبوی تائید کی نشانیاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکت

غارِ ثور: صحیح اصل اور مکڑی و دو جنگلی کبوتروں کی کمزور روایات

ہجرت کے دوران نبی محمد ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غار میں پناہ لینا صحیح بخاری ۳۶۵۳ سے مضبوط طور پر ثابت ہے۔ کلاسیکی روایات میں اس اصل واقعے کے ساتھ یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ مکڑی نے غار کے دہانے پر جالا بنا دیا اور دو جنگلی کبوتر وہاں کھڑے ہوگئے، جس سے قریش کے ایک تلاش کرنے والے نے سمجھا کہ اندر کوئی نہیں۔ لیکن مکڑی اور کبوتروں کو جمع کرنے والی سند ضعیف ہے، اور البیہقی کے محفوظ الفاظ میں نہ گھونسلے کا ذکر ہے نہ انڈوں کا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک الگ روایت صرف مکڑی کے جالے کا ذکر کرتی ہے اور وہ بھی ضعیف قرار دی گئی ہے۔ اس لیے صحیح واقعۂ غار اور کمزور اضافی تفصیلات کو الگ درجوں میں رکھا گیا ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · قدیم تاریخ
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت

معراجِ مصطفیٰ ﷺ: جسم و روح کے ساتھ آسمانوں کا عظیم نبوی معجزہ

معراج نبی کریم ﷺ کے عظیم ترین معجزات میں سے ہے۔ صحیح احادیث میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ حقیقی آسمانی عروج، آسمانوں کے دروازوں کا کھلنا، سابقہ انبیاء سے ملاقاتیں، بیت المعمور، سدرۃ المنتہیٰ، جنت اور آخرت سے متعلق عظیم مشاہدات محفوظ ہیں۔ حافظ ابن حجر کے مطابق جمہور محدثین، فقہاء اور متکلمین کا موقف یہ ہے کہ اسراء و معراج بیداری کی حالت میں نبی کریم ﷺ کے جسم اور روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئے۔ بلند ترین مرحلے پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر براہِ راست وحی فرمائی، پچاس نمازیں فرض ہوئیں، پھر بار بار اپنے رب کی بارگاہ میں رجوع کے بعد پانچ رہ گئیں، مگر اجر پچاس ہی کا رکھا گیا۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیتاریخی نتیجہ

حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے صلح کی نبوی پیش گوئی

صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی محفوظ ہے کہ حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ سید ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ اسی بخاری روایت میں بعد کے تصادم کا پس منظر، صلح کے لیے مذاکرات اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا معاویہ کے ساتھ صلح کرنا بھی مذکور ہے۔ یہی مضمون سنن نسائی، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں بھی منقول ہے، اور امام ترمذی نے اپنی روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔ بعد کی تاریخی روایات میں صلح کے سن کو ۴۰ ہجری یا اوائل ۴۱ ہجری قرار دینے میں اختلاف ہے، اس لیے اس تاریخ کو صحیح حدیث سے ثابت اصل پیش گوئی اور اس کے وقوع سے الگ رکھنا چاہیے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث