حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ

Abu Salama's lineage is Abd Allah ibn Abd al-Asad ibn Hilal ibn Abd Allah ibn Umar ibn Makhzum ibn Yaqaza ibn Murra ibn Ka'b ibn Lu'ayy al-Qurashi al-Makhzumi. His father was Abd al-Asad ibn Hilal and his mother was Barra bint Abd al-Muttalib. Barra was the Prophet's paternal aunt, so Abu Salama was the Prophet's paternal-aunt's son and first cousin; classical biographers also describe him as a foster brother. His wife was Umm Salama Hind bint Abi Umayya. Al-Dhahabi and Ibn al-Jawzi preserve four children: Salama, Umar, Durra and Zaynab. Some later compilations print Ruqayya in place of Durra, so the family status is kept as complete with a naming variant rather than forcing false uniformity. No unsupplied registry code has been invented.

PER-001690 صحابی / صحابیہ مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبد الاسد مخزومی رضی اللہ عنہ سابقینِ اسلام، مہاجرینِ حبشہ و مدینہ اور اہلِ بدر میں سے تھے۔ ان کی والدہ برہ بنت عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس لیے وہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے؛ قدیم تراجم انہیں رضاعی بھائی بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی اہلیہ ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا تھیں، اور مضبوط قدیم فہرست میں ان کے چار بچے سلمہ، عمر، درہ اور زینب محفوظ ہیں۔ انہوں نے بدر اور احد میں شرکت کی، احد کے زخم کے بعد قطن کی مہم کی قیادت کی اور غالب روایت کے مطابق اسی زخم کے دوبارہ کھلنے سے ۴ ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔ صحیح مسلم ان کے آخری وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مصیبت والی دعا کو محفوظ کرتا ہے۔ تاریخی فہرستیں ان کی تدفین جنت البقیع میں بتاتی ہیں، مگر انفرادی قبر کی موجودہ جگہ متعین نہیں؛ نقشہ صرف مشترک قبرستان کی نشاندہی کرتا ہے۔
ولادت

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی صحیح تاریخِ پیدائش مضبوط قدیم مآخذ میں محفوظ نہیں۔ ان کا قریشی مخزومی نسب اور مکی دور میں بہت ابتدائی اسلام قبول کرنا واضح ہے، مگر عین سالِ پیدائش یا یقینی جائے پیدائش کو بلا دلیل متعین نہیں کیا گیا۔

وفات

غالب سیرتی ترتیب کے مطابق احد میں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، زخم کچھ عرصہ مندمل رہا، پھر قطن کی مہم کے بعد دوبارہ کھل گیا اور اسی کے نتیجے میں مدینہ میں وفات ہوئی۔ قوی تر تاریخی ترتیب ۴ ہجری کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ ۳ ہجری کا ایک کمزور تر متبادل قول بھی قدیم تراجم میں محفوظ ہے۔ وفات کے دن میں بھی اختلاف ہے: ایک روایت جمادی الآخر ۴ ہجری کی آٹھ تاریخ کے قریب بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری روایت مہینے کے اختتام سے تین رات پہلے کی خبر دیتی ہے۔ اس لیے فائل کسی ایک دن کو قطعی تاریخ نہیں بناتی۔ صحیح مسلم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آخری وقت پر تشریف لائے، ان کی آنکھیں بند کیں، اہلِ خانہ کو خیر کی دعا کی تلقین کی اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے لیے مغفرت، بلند درجہ، اہلِ خانہ کی کفالت، قبر کی کشادگی اور نور کی دعا فرمائی۔

مدفن یا منسوب مقام

بعد کے معتبر تاریخی مجموعے ابو سلمہ عبداللہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں مدفون صحابہ کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔ مدینہ میں ان کی وفات اور البقیع کی قدیم تدفینی حیثیت کے ساتھ یہ نسبت ہم آہنگ ہے، اس لیے مقام کو مشترک قبرستان کی سطح پر محفوظ کیا گیا ہے۔ ان کی انفرادی قبر کی عین جگہ آج قابل اعتماد طور پر شناخت نہیں ہوتی۔ اس لیے نقشہ جنت البقیع کے پورے قبرستان کا مشترک نشان ہے، نہ کہ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی الگ قبر، محفوظ مزار یا اصل قبر کے نشان کی تعیین۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبد الاسد مخزومی رضی اللہ عنہ اولین مسلمانوں اور ممتاز مہاجر صحابہ میں سے تھے۔ ان کا نسب عبداللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا اور وہ قریش کے بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ برہ بنت عبدالمطلب تھیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں؛ اس لیے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ قدیم سوانح نگار انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی بھی لکھتے ہیں۔ ان کی کنیت ابو سلمہ اس قدر مشہور ہوئی کہ اصل نام پر غالب آگئی؛ انہیں بعد کے تابعی عالم ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے الگ پہچاننا ضروری ہے۔

ان کا نکاح حضرت ہند بنت ابی امیہ، یعنی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، جنہوں نے اسلام، دونوں ہجرتوں اور گھریلو آزمائشوں میں ان کا ساتھ دیا۔ انساب اور رجال کی کتابیں اس نکاح سے چار بچوں کے نام دیتی ہیں: سلمہ، عمر، درہ اور زینب۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ اور حضرت زینب بنت ابی سلمہ بعد میں صحابہ اور راویوں میں معروف ہوئے، اور والد کی وفات کے بعد یہ بچے اپنی والدہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں پرورش پانے لگے۔ یوں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا خاندان ابتدائی مظلوم مسلم گھرانے اور مدینہ کے نبوی گھرانے کے درمیان اہم رابطہ بنا۔

حضرت ابو سلمہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما مکہ میں ظلم و ستم کے دوران دین کی حفاظت کے لیے حبشہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔ قدیم سوانحی مآخذ انہیں نجاشی کی پناہ میں رہنے والے مہاجرین میں شمار کرتے ہیں۔ خاندانی روایات حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی ولادت کو حبشہ سے جوڑتی ہیں، اگرچہ بچوں کی جائے پیدائش کی بعض تفصیلات میں فہرستوں کا اختلاف ہے۔ یہ ہجرت حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو ان صحابہ میں رکھتی ہے جنہوں نے اسلامی جماعت کو عوامی امن اور سیاسی قوت حاصل ہونے سے پہلے ایمان کی خاطر بڑی آزمائشیں برداشت کیں۔

جب مدینہ کی ہجرت کی اجازت ملی تو حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ مکہ سے نکلنے والے اولین لوگوں میں تھے۔ سیرت کی روایت ان کے گھرانے کی دردناک جدائی محفوظ کرتی ہے: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رشتہ داروں نے انہیں ساتھ جانے سے روکا اور ابو سلمہ کے قبیلے نے بچے سلمہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ تنہا مدینہ پہنچے، جبکہ طویل آزمائش کے بعد بیوی اور بچہ ان سے آملے۔ یہ واقعہ ہجرت کی انسانی قیمت اور اس دور میں شوہر، بیوی اور بچے پر قبائلی دعووں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

مدینہ میں انہوں نے اسلامی جماعت کے دفاع میں حصہ لیا اور دو ہجری میں غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ تین ہجری کے غزوۂ احد میں بھی لڑے، جہاں ایک تیر ان کے بازو یا پہلو میں لگا۔ علاج کے بعد زخم ظاہراً بھر گیا، لیکن ابتدائی مصادر ان کی بعد کی وفات کو اسی زخم سے جوڑتے ہیں۔ بدر اور احد میں ان کی شرکت بتاتی ہے کہ ہجرت کے بعد ان کی خدمت ختم نہیں ہوئی؛ انہوں نے مدینہ کے پہلے فیصلہ کن دفاع میں حصہ لیا اور احد کے شدید نقصان کے بعد بھی سرگرم رہے۔

محرم چار ہجری میں بنو اسد کی مخالفانہ تیاریوں کی خبر ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو قطن کی طرف ایک سریہ کا امیر مقرر کیا۔ تاریخی مغازی روایات میں تقریباً ڈیڑھ سو مہاجر و انصار کا لشکر مذکور ہے۔ سفر کی مدت میں اختلاف ہے: ایک روایت دس سے کچھ زیادہ راتوں کے بعد واپسی بتاتی ہے، جبکہ حاکم کی محفوظ کردہ روایت انتیس راتوں کی غیر حاضری بیان کرتی ہے۔ لشکر نے بڑے معرکے کے بغیر اجتماع کو منتشر کیا اور مویشی لے کر واپس آیا۔ یہ تقرری احد کے بعد حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت پر مسلسل اعتماد دکھاتی ہے، تاہم راستے، مدت اور تعداد کی جزئیات ایک ہی متفق علیہ روایت نہیں بلکہ تاریخی مغازی مآخذ سے آتی ہیں۔

قطن کے سفر کے زمانے میں احد کا پرانا زخم دوبارہ کھل گیا اور آخری بیماری کا سبب اسی سے جوڑا گیا۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے حاکم کی محفوظ کردہ روایت کے مطابق حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ جمادی الآخر چار ہجری کی آٹھ راتیں گزرنے پر وفات پائے۔ دوسری سوانحی سند مہینے کی تین راتیں باقی رہنے کا ذکر کرتی ہے، جبکہ بعض فہرستوں میں تین ہجری کا اقلیتی قول بھی ملتا ہے۔ غالب ترتیب یہی ہے: احد کا زخم، وقتی صحت، قطن کی قیادت، زخم کا دوبارہ کھلنا اور چار ہجری میں مدینہ میں وفات۔ اس لیے درست دن کو ایک قطعی تاریخ بنانے کے بجائے اختلاف کے ساتھ محفوظ رکھنا چاہیے۔

صحیح مسلم ان کی وفات کے نہایت قریبی مناظر محفوظ کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں؛ آپ نے انہیں بند کیا، بتایا کہ روح نکلتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے جاتی ہے، اور گھر والوں کو صرف خیر کی بات کہنے کی تعلیم دی کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ نے دعا کی کہ اللہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرمائے، مہدیین میں ان کا درجہ بلند کرے، ان کے پسماندگان کی نگہبانی فرمائے، قبر کشادہ کرے اور اسے نور سے بھر دے۔ یہ روایت ان کی وفات کو اسلامی آدابِ جنازہ کا مستقل حصہ بناتی ہے۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مصیبت کے وقت کی نبوی دعا بھی نقل کی: بندہ اللہ کی ملکیت تسلیم کرے، مصیبت پر اجر مانگے اور بہتر بدل کی دعا کرے۔ وہ یاد کرتی تھیں کہ ان کے دل میں آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے، مگر انہوں نے دعا پڑھی اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح ہوا۔ یہ واقعہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی قدر کم نہیں کرتا؛ بلکہ ازدواجی محبت، بیوہ کے غم اور غم کو دینی ضبط کے ساتھ اٹھانے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کے بچوں کو پھر نبوی گھرانے میں حفاظت اور تربیت ملی۔

البقیع میں مدفون شخصیات کی تاریخی فہرستوں میں عبداللہ بن عبد الاسد، یعنی ابو سلمہ رضی اللہ عنہ، کا نام شامل ہے اور یہ نسبت مدینہ میں ان کی وفات سے مطابقت رکھتی ہے۔ تاہم آج ان کی الگ انفرادی قبر قابل اعتماد طور پر شناخت نہیں کی جاسکتی۔ جنت البقیع ایک وسیع اجتماعی قبرستان ہے جس کی ترتیب اور نشانات صدیوں میں بدلتے رہے۔ موجودہ نقشہ صرف قبرستان کے مشترک مقام کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی عین قبر یا کسی محفوظ انفرادی مزار کی تعیین نہیں سمجھنا چاہیے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی تاریخی اہمیت سب سے پہلے ان کی مسلسل قربانی میں ہے۔ انہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا، حبشہ کے لیے سمندر پار کیا، مدینہ کی ہجرت میں خاندان کی جدائی برداشت کی اور پھر نئی اسلامی جماعت کے دفاع میں شامل ہوئے۔ یہ الگ الگ شہرت کے واقعات نہیں بلکہ عہد کی مسلسل منزلیں تھیں۔ ان کی سوانح دکھاتی ہے کہ اولین مسلم تحریک ایسے گھرانوں کے ذریعے قائم ہوئی جنہوں نے بار بار ایمان کی خاطر تحفظ، مال اور قبائلی سہارا چھوڑا۔

بدر، احد اور قطن میں ان کی خدمت ابتدائی مسلم جماعت میں قیادت کے تیز ارتقا کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایک مظلوم مہاجر قابل اعتماد فوجی امیر بنا۔ قطن کا سریہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ احد کے بعد ہوا اور مدینہ کے گرد دفاعی ہیبت بحال کرنے میں مددگار بنا۔ پرانے زخم کے دوبارہ کھلنے سے وفات ان کی خدمت کی جسمانی قیمت بیان کرتی ہے، مگر اس کے لیے ہر فوجی واقعے کو غیر تنقیدی داستان بنانا ضروری نہیں۔

ان کی وفات سے متعلق روایات اسلامی آدابِ جنازہ کا مستقل حصہ بن گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی آنکھیں بند کرنا، خیر کی بات کی تعلیم دینا اور مغفرت، اہل و عیال کی حفاظت، قبر کی کشادگی اور نور کی دعا کرنا صحیح مسلم میں محفوظ ہے اور موت و سوگ کی تعلیم میں آج بھی پڑھایا جاتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مصیبت والی دعا بھی عام دینی عمل بنی۔ یوں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا اثر میدانِ جنگ سے بڑھ کر اس زبان تک پہنچا جس سے مسلمان خاندان نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔

ان کا خاندانی ورثہ بھی نمایاں ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین اور بڑی راویہ بنیں، جبکہ عمر اور زینب بن و بنت ابی سلمہ نبوی قرب میں پرورش پانے والی نسل سے تھے اور بعد میں علم نقل کیا۔ البقیع کی نسبت اس یاد کو جغرافیائی پہلو دیتی ہے، لیکن ذمہ دار تحقیق منقول قبرستانی تدفین اور شناخت شدہ قبر کے فرق کو برقرار رکھتی ہے۔ مشترک نقشہ جنت البقیع کا مقام دکھاتا ہے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی مخصوص قبر نہیں۔

خاندانی روابط

ماخذ

Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | vol. 1, pp. 151-153 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/15/ | identity, lineage, Barra as mother, foster-brother report, early migrations, Badr, Umm Salama, four children, Uhud/Qatan and death variants
Al-Muntazam fi Tarikh al-Muluk wa al-Umam | Ibn al-Jawzi | vol. 3, deaths in 4 AH; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/421/429/ | mother, four children, early Islam, Abyssinian migrations, Badr, Uhud wound and death in 4 AH
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | 918a and 918c | https://sunnah.com/muslim:918a ; https://sunnah.com/muslim:918c | Umm Salama's calamity supplication and later marriage to the Prophet
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | 920a | https://sunnah.com/muslim:920a | death scene, closing the eyes, instruction to speak good, funeral supplication
Ithaf al-Sada al-Muttaqin bi-Sharh Ihya Ulum al-Din | Muhammad Murtada al-Zabidi | vol. 4, p. 425 | https://islamweb.net/ar/library/content/411/3384/ | lists Abd Allah ibn Abd al-Asad, Abu Salama, among those buried in al-Baqi
Al-Baqi Cemetery | Saudipedia | institutional overview | https://saudipedia.com/en/al-baqi-cemetery | al-Baqi identity, location in Madinah and long-standing collective cemetery function

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔