منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت
ابتدائی سنی مصادر میں منقول ہے کہ کابل کی طرف ایک فوجی مہم کے دوران صلہ بن اشیم رحمہ اللہ کی سامان لادنے والی خچر دشمن کے علاقے کے قریب چلتے لشکر سے بھٹک گئی۔ انہوں نے دو ہلکی رکعتیں پڑھنے کی مہلت مانگی اور پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی خچر اور اس کے بوجھ کی واپسی کی دعا کی۔ روایت کے مطابق خچر سامان سمیت واپس آئی اور ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
صلہ بن اشیم رحمۃ اللہ علیہ · PER-000423 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کی ایک لونڈی نے اقرار کیا کہ وہ بار بار ان کے کھانے میں زہر ڈالتی رہی مگر بظاہر انہیں نقصان نہ پہنچا۔ لالکائی نے اس واقعے کی مختصر اور مفصل دونوں صورتیں نقل کی ہیں، اور مفصل طریق میں کھانے سے پہلے ایک مخصوص دعا بھی منقول ہے۔ ابن عساکر نے بھی ایک متوازی روایت محفوظ کی ہے، لیکن اہم زیریں سند سری بن یحییٰ، سلیمان تیمی اور ابو مسلم پر ہی آتی ہے۔ جدید سندی تحقیق کے مطابق سلیمان تیمی کا ابو مسلم سے سماع یا ملاقات ثابت نہیں، اس لیے روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ابو مسلم خولانی · PER-000391 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت
ابتدائی سنی مصادر میں صلہ بن اشیم رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ سفر کے دوران انہیں شدید بھوک لگی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رزق مانگا۔ اس کے بعد انہیں غیر متوقع طور پر تازہ کھجوریں ملیں اور انہوں نے سیر ہو کر کھایا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس وقت اس علاقے میں تازہ کھجوریں موجود نہ تھیں۔ ایک دوسری منقول صورت میں بعد میں ایک راہب اور ان کھجوروں سے اگنے والے کھجور کے درختوں کا واقعہ بھی آتا ہے۔
صلہ بن اشیم رحمۃ اللہ علیہ · PER-000423 · قدیم تاریخ
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
ابو نعیم اور لالکائی نے ایک ہراتی شخص کی روایت محفوظ کی ہے جو سحر سے پہلے زمزم کے پاس ایک بزرگ سے بار بار ملا۔ تین صبحوں میں اس گواہ نے باقی مشروب کا ذائقہ بالترتیب عمدہ بادام کے ستو، شہد ملے پانی اور شکر ملے دودھ جیسا بتایا۔ جب اس نے بزرگ کی شناخت پوچھی اور وفات تک نام ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کیا تو روایت کے مطابق انہوں نے اپنا نام سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ بتایا۔
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ · PER-000428 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
کلاسیکی مصادر میں عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ کے بارے میں ایک روایت محفوظ ہے کہ یوم الزاویہ کی لڑائی میں وفات اور تدفین کے بعد ان کی قبر سے متعلق مشک جیسی خوشبو محسوس کی گئی۔ مالک بن دینار سے منقول ہے کہ انہوں نے قبر دیکھی، اس کی کچھ مٹی لی اور اسے مشک جیسا پایا۔ ابو نعیم نے ایک مقامی روایت بھی محفوظ کی ہے کہ لوگوں نے قبر کی مٹی لی، اسے مشک جیسا قرار دیا اور بعض نے اسے اپنے کپڑوں میں رکھا۔ لالکائی یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ لوگ قبر کی مٹی میں بہت مشغول ہوگئے اور بعد میں قبر برابر کر دی گئی۔
عبداللہ بن غالب رحمۃ اللہ علیہ · PER-000425 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت
ابن ابی الدنیا نے ایک پڑوسی لڑکے کی روایت محفوظ کی ہے جو تقریباً بارہ برس کی عمر تک گنجا رہا۔ اس کے والد اسے حبیب عجمی رحمہ اللہ کے پاس لائے اور دعا کی درخواست کی۔ روایت کے مطابق حبیب رحمہ اللہ روئے، لڑکے کے لیے دعا کی اور اپنے آنسو اس کے سر پر ملے۔ لڑکے کے جانے سے پہلے بالوں کی جڑیں سیاہ ہونے لگیں اور بعد میں اس کے بال بڑھنے کا ذکر آیا۔ ایک نامی گواہ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ اس نے لڑکے کو پہلے اور بعد دونوں حالتوں میں دیکھا۔
حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ · PER-000426 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت
ابن ابی الدنیا نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے کہ ایک ناتواں شخص، جس کے اہل و عیال بھی تھے، چارپائی یا اٹھانے کے کسی ڈھانچے پر ان کے پاس لایا گیا۔ وہاں موجود لوگوں نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے درخواست کی کہ وہ اللہ سے اس شخص کی صحت و قوت کی واپسی کے لیے دعا کریں۔ روایت کے مطابق حبیب رحمہ اللہ نے ایک مصحف اپنے گلے میں رکھا اور مسلسل دعا کرتے رہے۔ پھر وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا، اپنی چارپائی خود کندھے پر اٹھائی اور اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلا گیا۔
حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ · PER-000426 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
ابن ابی الدنیا نے قحط کے زمانے میں حبیب عجمی رحمہ اللہ کے بارے میں ایک روایت محفوظ کی ہے۔ آپ نے ادائیگی باقی رکھتے ہوئے خوراک حاصل کی اور اسے فقراء میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد خالی تھیلے سیے، انہیں بستر کے نیچے رکھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ جب فروخت کرنے والے اپنی رقم لینے آئے تو روایت کے مطابق تھیلے درہموں سے بھرے ملے، رقم تولی گئی اور ان کے واجب حق کے مطابق ادا کر دی گئی۔
حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ · PER-000426 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہ
ابو داؤد کی کتاب الزہد میں ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ ہے کہ ایک عورت نے ان کے اور ان کی اہلیہ کے تعلق میں مداخلت یا خرابی پیدا کی۔ روایت کے مطابق ابو مسلم رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں دعا کی اور اس کی بینائی چلی گئی۔ بعد میں وہ عورت ان کے پاس آئی، اپنے کیے کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گی۔ اس پر ابو مسلم رحمہ اللہ نے دعا کی: «اللهم إن كانت صادقة فاردد عليها بصرها» یعنی: “اے اللہ، اگر یہ سچی ہے تو اس کی بینائی واپس لوٹا دے۔” روایت کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ دیکھنے لگی۔
ابو مسلم خولانی · PER-000391 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامتعبرت
امام ذہبی نے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے حالات میں تین الگ روایات نقل کی ہیں جن میں آنے والے افراد نے ایسے جواب کا ذکر کیا جو ان کے دل کے غیر کہے خیال یا ارادے سے متعلق تھا۔ ابو بکر العماد ایک اعتقادی شبہے کے ساتھ مجلس میں آئے، ابو البقاء نحوی کے دل میں قراءت کے بارے میں اعتراض پیدا ہوا، اور شہاب الدین سہروردی نے علمِ کلام یا اصولِ دین پڑھنے کا ارادہ کیا۔ ہر روایت میں راوی بیان کرتا ہے کہ اس کے بولنے سے پہلے شیخ نے اسی معاملے کو مخاطب کیا۔ امام ذہبی نے سہروردی کے واقعے کی ایک مفصل صورت ابن النجار سے بھی نقل کی ہے۔
حضرت عبدالقادر جیلانی · PER-000398 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
قشیری نے ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے کہ وہ محمد بن مبارک صوری کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سفر کر رہے تھے۔ دوپہر کے وقت دونوں ایک انار کے درخت کے نیچے ٹھہرے تو درخت کی جڑ کی طرف سے آواز آئی اور ابراہیم رحمہ اللہ کو اس کا پھل کھانے کی دعوت دی گئی۔ دعوت دہرائے جانے کے بعد انہوں نے دو انار لیے، اور واپسی کے سفر میں اسی درخت کو پہلے سے بلند اور اس کے پھل کو میٹھا پایا گیا۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ بعد میں وہ درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیتا تھا اور رمان العابدین کے نام سے مشہور ہوا۔
ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ · PER-000430 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
لالکائی نے عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے کہ ایک شیر نے قافلے کا راستہ روک لیا۔ اس روایت کے مطابق عامر رحمہ اللہ سواری سے اترے، اللہ پر توکل کا اظہار کرتے ہوئے شیر کے قریب گئے، اسے دونوں کانوں سے پکڑ کر راستے سے ہٹا دیا اور پھر قافلہ گزر گیا۔ ابو نعیم نے شیر سے متعلق ایک مختصر دوسری روایت بھی محفوظ کی ہے جس میں عامر رحمہ اللہ اس قدر قریب سے گزرے کہ ان کا کپڑا شیر کے منہ سے چھو گیا۔ دونوں روایتوں کی تفصیل ایک جیسی نہیں، اس لیے انہیں الگ رکھا گیا ہے۔
عامر بن عبد قیس رحمۃ اللہ علیہ · PER-000421 · بعد کی مناقب و کرامات