بعد کے سوانحی تذکروں کے مطابق ولادت مدینہ میں ۸۴ھ یا ۸۵ھ میں ہوئی۔ ابتدائی دستیاب روایت میں درست تاریخ مضبوط طور پر ثابت نہیں۔
عبداللہ بن محمد باقرؑ
PER-000104
اہلِ بیت
قوی امکان
مشترک قبرستانی نقطہ
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت عبد اللہ بن محمد باقر علیہ السلام امام محمد باقر علیہ السلام اور ام فروہ کے فرزند اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے سگے بھائی تھے۔ امامی سوانحی مصادر انہیں مدینہ کے ایک صاحب فضل و صلاح فرد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ بعد کی روایتیں ان کی ولادت مدینہ میں ۸۴ھ یا ۸۵ھ بتاتی ہیں۔ شیخ مفید اور ابو الفرج اصفہانی ایک اموی شخص کے ہاتھوں زہر دیے جانے کی روایت محفوظ کرتے ہیں۔ بعد کی سوانحی روایت ان کی وفات تقریباً ۱۱۵ھ اور تدفین جنت البقیع میں بتاتی ہے، مگر درست تاریخ اور مدفن کی یہ جزئیات ابتدائی دستیاب روایتوں میں اسی درجے سے ثابت نہیں۔
شیخ مفید اور ابو الفرج اصفہانی ایک اموی شخص کے ہاتھوں زہر دیے جانے کی روایت محفوظ کرتے ہیں۔ بعد کی روایت وفات تقریباً ۱۱۵ھ بتاتی ہے، مگر درست تاریخ قطعی طور پر ثابت نہیں۔
بعد کی سوانحی روایت تدفین کو مدینہ کے جنت البقیع سے منسوب کرتی اور سعید بن مسیب کی نماز جنازہ کا ذکر کرتی ہے۔ اسے بعد کی نسبت کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے؛ کوئی الگ قبر، مزار یا نقشاتی نقطہ آزادانہ طور پر ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت عبد اللہ بن محمد باقر علیہ السلام اہل بیت کی حسینی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد امام محمد بن علی باقر علیہ السلام اور والدہ ام فروہ فاطمہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں۔ یہی ام فروہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی بھی والدہ تھیں، اس لیے عبد اللہ اور امام جعفر صادق سگے بھائی تھے۔ یہ نسبت شیخ مفید سے منسوب اولاد کی فہرست اور بعد کے امامی سوانحی مصادر میں محفوظ ہے۔
بعد کے سوانحی تذکروں میں دقدق اور دورق کے نامی اختلافات ملتے ہیں اور ولادت مدینہ میں ۸۴ھ یا ۸۵ھ بتائی جاتی ہے۔ ان جزئیات کو ابتدائی اور قطعی معلومات کے برابر نہیں رکھا گیا۔ زیادہ مضبوط بات یہ ہے کہ وہ امام باقر علیہ السلام کے مدنی خانوادے کے فرد تھے اور اپنے بھائی امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہے۔
شیخ مفید حضرت عبد اللہ کو فضل و صلاح کے لیے معروف بتاتے ہیں۔ شیخ طوسی بھی عبد اللہ بن محمد بن علی بن حسین کو امام جعفر صادق علیہ السلام کے مدنی اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔ دستیاب تذکرے ان کا کوئی وسیع مستقل تدریسی سلسلہ، بڑی حدیثی روایت، یا عوامی سیاسی منصب محفوظ نہیں کرتے، اس لیے ان مختصر تعریفی کلمات سے غیر ثابت مفصل علمی سوانح نہیں بنائی گئی۔
شیخ مفید اور ابو الفرج اصفہانی ایک روایت محفوظ کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ایک اموی شخص کے پاس گئے جس نے انہیں قتل کرنا چاہا۔ حضرت عبد اللہ نے اسے قتل سے باز رہنے کی نصیحت کی، لیکن اس نے ان کی بات قبول نہ کی اور بعد میں مشروب میں زہر دے دیا۔ یہ روایت زہر کے ذریعے وفات کی قدیم امامی اور طالبی یاد محفوظ کرتی ہے، مگر نقل شدہ عبارت میں اموی شخص کا قطعی نام اور درست تاریخ و مقام موجود نہیں۔
نسبی اور بعد کی سوانحی کتابوں میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت عبد اللہ کی نسل باقی رہی یا نہیں۔ بعض بعد کے مصادر بیٹوں اور بیٹیوں کے نام دیتے ہیں، جبکہ دوسری نسبی عبارتیں امام باقر علیہ السلام کی جاری نسل کو صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تک محدود کرتی ہیں۔ چونکہ مضبوط اور مکمل طور پر ہم آہنگ ازدواجی ریکارڈ نہیں ملا اور انتظامی تعلقات کے خانے خالی تھے، اس فائل میں کوئی زوجہ یا اولاد کا تعلق نہیں بنایا گیا۔
بعد کی سوانحی روایت حضرت عبد اللہ کی وفات تقریباً ۱۱۵ھ میں مدینہ، سعید بن مسیب کی نماز جنازہ، اور جنت البقیع میں تدفین سے منسوب کرتی ہے۔ ان باتوں کو والدین کی نسبت اور زہر والی روایت کے برابر قطعی نہیں بنایا گیا۔ کوئی الگ مزار یا نقشاتی ربط فراہم نہیں تھا اور نہ ایجاد کیا گیا۔
بعد کے سوانحی تذکروں میں دقدق اور دورق کے نامی اختلافات ملتے ہیں اور ولادت مدینہ میں ۸۴ھ یا ۸۵ھ بتائی جاتی ہے۔ ان جزئیات کو ابتدائی اور قطعی معلومات کے برابر نہیں رکھا گیا۔ زیادہ مضبوط بات یہ ہے کہ وہ امام باقر علیہ السلام کے مدنی خانوادے کے فرد تھے اور اپنے بھائی امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہے۔
شیخ مفید حضرت عبد اللہ کو فضل و صلاح کے لیے معروف بتاتے ہیں۔ شیخ طوسی بھی عبد اللہ بن محمد بن علی بن حسین کو امام جعفر صادق علیہ السلام کے مدنی اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔ دستیاب تذکرے ان کا کوئی وسیع مستقل تدریسی سلسلہ، بڑی حدیثی روایت، یا عوامی سیاسی منصب محفوظ نہیں کرتے، اس لیے ان مختصر تعریفی کلمات سے غیر ثابت مفصل علمی سوانح نہیں بنائی گئی۔
شیخ مفید اور ابو الفرج اصفہانی ایک روایت محفوظ کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ایک اموی شخص کے پاس گئے جس نے انہیں قتل کرنا چاہا۔ حضرت عبد اللہ نے اسے قتل سے باز رہنے کی نصیحت کی، لیکن اس نے ان کی بات قبول نہ کی اور بعد میں مشروب میں زہر دے دیا۔ یہ روایت زہر کے ذریعے وفات کی قدیم امامی اور طالبی یاد محفوظ کرتی ہے، مگر نقل شدہ عبارت میں اموی شخص کا قطعی نام اور درست تاریخ و مقام موجود نہیں۔
نسبی اور بعد کی سوانحی کتابوں میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت عبد اللہ کی نسل باقی رہی یا نہیں۔ بعض بعد کے مصادر بیٹوں اور بیٹیوں کے نام دیتے ہیں، جبکہ دوسری نسبی عبارتیں امام باقر علیہ السلام کی جاری نسل کو صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تک محدود کرتی ہیں۔ چونکہ مضبوط اور مکمل طور پر ہم آہنگ ازدواجی ریکارڈ نہیں ملا اور انتظامی تعلقات کے خانے خالی تھے، اس فائل میں کوئی زوجہ یا اولاد کا تعلق نہیں بنایا گیا۔
بعد کی سوانحی روایت حضرت عبد اللہ کی وفات تقریباً ۱۱۵ھ میں مدینہ، سعید بن مسیب کی نماز جنازہ، اور جنت البقیع میں تدفین سے منسوب کرتی ہے۔ ان باتوں کو والدین کی نسبت اور زہر والی روایت کے برابر قطعی نہیں بنایا گیا۔ کوئی الگ مزار یا نقشاتی ربط فراہم نہیں تھا اور نہ ایجاد کیا گیا۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت عبد اللہ کی تاریخی اہمیت امام محمد باقر علیہ السلام کے ثابت شدہ فرزند اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے سگے بھائی کی حیثیت سے ہے۔ ان کا مختصر ذکر اس وسیع مدنی خاندانی ماحول کو محفوظ کرتا ہے جس میں امام باقر کی علمی اور دینی میراث آگے بڑھی۔
ان کا پروفائل محدود شہادت کے محتاط استعمال کی مثال بھی ہے۔ ابتدائی مصادر خاندانی شناخت، فضل و صلاح اور زہر کی روایت کی تائید کرتے ہیں، جبکہ بعد کے مصادر نامی اختلاف، تاریخ، اولاد، جنازہ اور مدفن کی جزئیات بڑھاتے ہیں۔ ان درجات کو الگ رکھنے سے مفید تاریخی یاد محفوظ رہتی اور اختلافی نسب کو یقین میں نہیں بدلا جاتا۔
ان کا پروفائل محدود شہادت کے محتاط استعمال کی مثال بھی ہے۔ ابتدائی مصادر خاندانی شناخت، فضل و صلاح اور زہر کی روایت کی تائید کرتے ہیں، جبکہ بعد کے مصادر نامی اختلاف، تاریخ، اولاد، جنازہ اور مدفن کی جزئیات بڑھاتے ہیں۔ ان درجات کو الگ رکھنے سے مفید تاریخی یاد محفوظ رہتی اور اختلافی نسب کو یقین میں نہیں بدلا جاتا۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام محمد باقرؑ
قوی امکان
والدہ
ام فروہ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Volume 2, page 176; quoted in Mu'jam Rijal al-Hadith entry 7134 | https://ar.lib.eshia.ir/14036/11/331 | Parentage, Umm Farwa as mother, full brotherhood with Imam al-Sadiq, merit and righteousness, and poisoning reportRijal al-Tusi | Shaykh al-Tusi | Companion of Imam al-Sadiq, entry 3097; indexed in Mu'jam Rijal al-Hadith entry 7134 | https://ar.lib.eshia.ir/14036/11/331 | Medinan identity and companion classification
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Abd Allah ibn Muhammad passage, digital page 147 | https://shamela.ws/book/12404/147 | Umayyad poisoning account
Al-Tuhfa al-Latifa fi Tarikh al-Madina al-Sharifa | al-Sakhawi | Entry 2097; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/1050 | Medinan identity and the nickname Daqdaq
Abd Allah ibn Imam al-Baqir biographical notice | Al-Shia.org | Modern entry citing al-Irshad, Rijal al-Tusi and later genealogical notices | https://ar.al-shia.org/%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%82%D8%B1/ | Later birth estimate, name variants, descendant reports, approximate death, funeral and al-Baqi burial attribution
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔