حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ

Hamza ibn Abd al-Muttalib ibn Hashim ibn Abd Manaf ibn Qusay ibn Kilab was a Qurashi Hashimite. His father was Abd al-Muttalib ibn Hashim and his mother Halah bint Uhayb ibn Abd Manaf al-Zuhriyya. The Prophet Muhammad was his paternal nephew and foster-brother through Thuwaybah. Biographical sources preserve sons Ya'la, Amir and Ammarah and daughters Umamah and Amat Allah. Abd Allah ibn Jahsh was his maternal nephew through Hamza's sister Umaymah bint Abd al-Muttalib.

PER-001711 صحابی / صحابیہ مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ سنی ماخذی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی، بنو ہاشم کے ممتاز فرد، ابتدائی مسلمانوں کے محافظ اور بدر و اُحد کے نمایاں مجاہد تھے۔ غزوۂ اُحد میں ۳ھ / ۶۲۵ء میں شہید ہوئے۔ مدینہ منورہ کے قبرستانِ شہدائے اُحد میں حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ معروف مشترک قبر ان کی تدفینی روایت کا بنیادی موجودہ مقام ہے۔
ولادت

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی درست تاریخِ ولادت محفوظ نہیں۔ وہ مکہ مکرمہ میں بنو ہاشم کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مآخذ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب العمر بتاتے ہیں، مگر عمر کے فرق کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، اس لیے کسی ایک سال کو قطعی تاریخِ ولادت نہیں بنایا گیا۔

وفات

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد میں شوال ۳ھ / ۶۲۵ء میں شہید ہوئے۔ صحیح بخاری میں حضرت وحشی بن حرب کی اپنی روایت محفوظ ہے کہ انہوں نے نیزہ مار کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔ بعد میں ان کے جسم کے ساتھ مثلہ بھی کیا گیا۔

مدفن یا منسوب مقام

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہدائے اُحد کے ساتھ مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا۔ ابن اسحاق حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے اہلِ خاندان سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ انہیں ان کے ماموں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا گیا۔ مدینہ کے تحقیقی ادارے اور موجودہ نقشاتی شناخت اسی معروف مشترک قبر کو قبرستانِ شہدائے اُحد میں دکھاتے ہیں۔ ۴۹ھ / ۶۶۹ء میں سیلاب کے خطرے کے باعث منقول منتقلی اور بعد کی تعمیرات مقام کی بعد کی تاریخی تہیں ہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کے ممتاز فرد، عبدالمطلب بن ہاشم اور بنو زہرہ کی ہالہ بنت اُہیب کے فرزند تھے۔ قدیم سوانحی کتابیں ان کی کنیت ابو عمارہ اور ابو یعلیٰ بیان کرتی ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا تھے، مگر ثویبہ، جو ابو لہب کی آزاد کردہ باندی تھیں، دونوں کو دودھ پلانے کے باعث وہ آپ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ مآخذ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب العمر قرار دیتے ہیں، لیکن عمر کے قطعی فرق کے بارے میں مختلف روایات ہیں، اس لیے کسی ایک عدد کو یقینی نہیں کہنا چاہیے۔

سوانحی اور نسبی مآخذ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی نسبت سے مزید تفصیل محفوظ کرتے ہیں۔ ان کے بیٹوں میں یعلیٰ، عامر اور عمارہ کے نام ملتے ہیں؛ مختلف کتب میں ماؤں کی تعیین کی بعض جزئیات مختلف ہیں، لیکن خولہ بنت قیس بن قہد ان کی معروف ازواج میں مضبوطی سے محفوظ ہیں اور سلمیٰ بنت عمیس بھی ان کی اہلیہ اور ان کے گھرانے کی ایک والدہ کے طور پر منقول ہیں۔ بیٹیوں میں امامہ اور امۃ اللہ کے نام محفوظ ہیں۔ ابن عبدالبر کے مطابق ان کی اولاد میں صرف یعلیٰ کے بیٹے ہوئے، مگر وہ بھی آگے مستقل نسل نہ چھوڑ سکے۔ ان کی بہن حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ، جن کی حضرت حمزہ کے ساتھ تدفین منقول ہے، ان کی بہن امیمہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے اور اس طرح ان کے حقیقی بھانجے تھے۔ ان معلومات کو کسی غیر ثابت رجسٹری رشتے میں تبدیل نہیں کیا گیا۔

اسلام سے پہلے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ قریش کے معزز جنگجو طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور طاقتور شکاری اور ماہر مبارز کے طور پر معروف تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے کی ابتدائی سیرت روایت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب وہ شکار سے واپس آئے اور انہیں معلوم ہوا کہ ابو جہل نے صفا کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور اذیت پہنچائی۔ انہوں نے کمان سے ابو جہل کو مارا اور علانیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ واقعہ پہلے خاندانی دفاع اور پھر شعوری ایمان کی صورت اختیار کرتا ہے؛ اصل واقعہ سیرت میں معروف ہے، اگرچہ مکی دور کی قطعی تاریخ میں اختلاف ہے۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے فوری عوامی اثرات ہوئے۔ ابن اسحاق کی روایت، جسے بعد کے سوانح نگاروں نے محفوظ کیا، بتاتی ہے کہ قریش نے محسوس کیا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کے ایک طاقتور شخص کی پشت پناہی حاصل ہے، چنانچہ ان کی بعض ایذا رسانیاں کم ہوئیں۔ ان کی اہمیت صرف جسمانی قوت تک محدود نہ تھی؛ ان کا فیصلہ ظاہر کرتا تھا کہ نئی دینی وابستگی مکی قبائلی دباؤ پر غالب آ سکتی ہے۔ ان کی جرأت نے مظلوم مسلمانوں کو حوصلہ دیا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمایاں ابتدائی محافظوں میں شامل کر دیا۔

ہجرت کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مدینہ کی مہاجر جماعت میں شریک ہوئے اور ابتدائی منظم عسکری ذمہ داریاں سنبھالیں۔ سیرت و مغازی کے مآخذ انہیں عیص کے قریب ساحلِ بحر کی مہم کا امیر بتاتے ہیں، جس میں تقریباً تیس مہاجر اور سفید جھنڈا تھا۔ بعض کتابیں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باندھا ہوا پہلا باقاعدہ لواء کہتی ہیں، تاہم ابتدائی سریات کی ترتیب میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ اس جماعت کا سامنا قریش کے کہیں بڑے قافلہ دستے سے ہوا، مگر مجدی بن عمرو جہنی نے درمیان میں صلح کرا دی اور جنگ نہ ہوئی۔

غزوۂ بدر ۲ ہجری میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ان تین مسلم مبارزوں میں شامل تھے جنہوں نے قریش کے ابتدائی چیلنج کا جواب دیا۔ صحیح بخاری سورۂ حج میں دو مقابل گروہوں سے متعلق ایک آیت کو ان مبارزوں سے جوڑتی ہے: ایک طرف حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم، اور دوسری طرف عتبہ، شیبہ اور ولید۔ ہر مبارز کے بالمقابل شخص کی تعیین میں روایات مختلف ہیں، لہٰذا یقینی بات یہ ہے کہ حضرت حمزہ اس مقابلے اور مسلم فتح کے مرکزی کردار تھے۔ دوسرے مآخذ انہیں قریش کے نمایاں جنگجوؤں کے قتل سے بھی جوڑتے ہیں، جس نے بعد میں ان سے انتقام کے ارادے کو جنم دیا۔

شوال ۳ ہجری، ۶۲۵ عیسوی کے غزوۂ اُحد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اگلی صفوں میں لڑے۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، مگر بہت سے تیر اندازوں کے مقررہ مقام چھوڑنے کے بعد میدان شدید اضطراب کا شکار ہوا۔ بعد کی سوانحی روایات انہیں غیر معمولی قوت سے لڑتے اور خود کو اسد اللہ کہتے ہوئے بیان کرتی ہیں۔ ان کی شہادت کا مضبوط ترین بیان صحیح بخاری میں حضرت وحشی بن حرب کی طویل روایت ہے۔ وحشی نے بتایا کہ جبیر بن مطعم نے بدر میں مارے گئے رشتہ دار کا بدلہ لینے کے لیے حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے پر آزادی کا وعدہ کیا، اس لیے وہ براہِ راست مبارزے کے بجائے موقع کا منتظر رہا۔

حضرت وحشی کی روایت کے مطابق حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے پہلے سباع بن عبدالعزیٰ کو قتل کیا، پھر وہ ان کی کمین گاہ کے قریب سے گزرے۔ وحشی نے نیزہ پھینکا جس سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔ یہ عینی اور ذاتی بیان قاتل، طریقۂ قتل اور انتقامی محرک کو غیر معمولی وضاحت سے ثابت کرتا ہے۔ ابتدائی تاریخی و سوانحی کتابیں یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ ان کے جسم کا مثلہ کیا گیا۔ مشہور بعد کی داستانیں مزید تفصیلات اور مخصوص افراد کی کارروائیاں بیان کرتی ہیں، مگر تمام اسانید یکساں مضبوط نہیں؛ اس لیے یہاں ثابت شدہ مثلے کا ذکر ہے، ہر ڈرامائی جزئیے کو قطعی نہیں کہا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھ کر غمگین ہونا سوانحی روایت میں نمایاں طور پر محفوظ ہے، اور یہ بھی منقول ہے کہ آپ کو اندیشہ تھا کہ ان کی بہن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی حالت دیکھ کر شدید صدمے میں مبتلا ہوں گی۔ تجہیز و تکفین کی بعض روایات کی تفصیلات مختلف ہیں۔ شہدائے اُحد کے بارے میں زیادہ مضبوط عمومی ثبوت یہ ہے کہ انہیں وہیں دفن کیا گیا جہاں وہ شہید ہوئے اور مدینہ واپس منتقل نہیں کیا گیا۔ حضرت حمزہ پر بار بار الگ نمازِ جنازہ پڑھنے کی روایات، اُس دن شہداء کے اجتماعی تدفینی طریقے کے ثبوت سے کمزور ہیں۔

ابن اسحاق کی سیرت میں حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے اہلِ خاندان سے یہ روایت محفوظ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے ماموں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن فرمایا، اور ابن اسحاق واضح کرتے ہیں کہ یہ خاص تفصیل انہوں نے صرف عبداللہ کے گھر والوں سے سنی۔ مرکز بحوث و دراسات المدینہ الگ طور پر حمزہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایتی قبر کو قبرستانِ شہدائے اُحد کی خاص طور پر معروف مشترک قبر قرار دیتا ہے۔ موجودہ نقشاتی فہرست میں بھی اسی معروف علاقے میں قبرِ حمزہ کا الگ موجودہ نشان درج ہے، اور اس ریکارڈ کے مخصوص جغرافیائی خانوں میں اسی موجودہ نشان کا نقشاتی مقام رکھا گیا ہے۔ اس طرح شہادت تاریخی طور پر معروف مشترک قبر اور قابلِ تصدیق موجودہ مقام دونوں کی تائید کرتی ہے، مگر موجودہ سطحی نشان کو اصل عہدِ اُحد کی غیر تبدیل شدہ ساخت نہیں بناتی۔

مدینہ کے ورثہ جاتی تحقیقی خلاصے میں پہلی تدفین میدانِ اُحد کے قریب ہونے اور ۴۹ھ / ۶۶۹ء میں سیلاب کے خطرے کے باعث اجساد کو موجودہ قبرستان کے معروف مقام کی طرف منتقل کیے جانے کی روایت درج ہے۔ یہ عہدِ نبوی کی ہم عصر دستاویز نہیں بلکہ بعد کی تاریخی مقام نگاری ہے۔ یہی تحقیق بعد کے ادوار کے گنبدوں، احاطوں، صندوقوں، مسجد اور متعدد تعمیرات یا انہدامات کا سراغ بھی دیتی ہے۔ یہ تعمیراتی مرحلے یادگار اور حفاظت کی تاریخ کا حصہ ہیں، اصل قبر کے نشان یا عمارت کے بلا تبدیلی باقی رہنے کا ثبوت نہیں۔ موجودہ احاطہ اسی لیے روایتی مشترک قبر کے علاقے کی نشان دہی کرتا ہے، جبکہ اس کی ظاہری سطح بعد کی مداخلتوں کی عکاس ہے۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاریخی اہمیت قرابت، اخلاقی انتخاب، قیادت اور قربانی کے امتزاج میں ہے۔ انہوں نے اپنے سماجی مقام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا، مدینہ کی ابتدائی مہمات میں ذمہ داری قبول کی، بدر میں نمایاں کردار ادا کیا اور اُحد میں شہید ہوئے۔ اسد اللہ اور سید الشہداء کے القاب مسلم ادبی و تاریخی حافظے میں ان سے گہری نسبت رکھتے ہیں، اگرچہ ان کے بعض مخصوص حدیثی صیغوں کی قوت یکساں نہیں۔ یوں ان کی سوانح میں صحیح روایات، قدیم سیرت، خاندان سے منقول تدفینی یاد اور بعد کی یادگار روایت جمع ہوتی ہیں، اور ہر پہلو کو اس کی مناسب ماخذی قوت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے نے مکہ کی ابتدائی جدوجہد کا توازن بدل دیا۔ ان کی حفاظت سے ظلم مکمل ختم نہیں ہوا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنہائی کم ہوئی اور یہ واضح ہوا کہ قریش کا ایک معزز جنگجو شعوری طور پر نئے دین کو اختیار کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس لیے یادگار ہے کہ سماجی جرأت کو محض قبائلی وقار کے بجائے عقیدے کی خدمت میں استعمال کیا گیا۔

ان کا مدنی کردار ابتدائی سریہ کی تنظیم، بدر کے آغاز کی مبارزت اور اُحد کی اگلی صفوں کی لڑائی کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔ یہ واقعات اس مطالعے کے لیے اہم ہیں کہ پہلی مسلم جماعت کمزوری سے منظم عوامی ذمہ داری تک کیسے پہنچی۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عسکری شہرت کو عمومی مدح کے بجائے نامزد اور ماخذ سے ثابت واقعات کے ذریعے بیان کرنا چاہیے۔

ان کی شہادت غزوۂ اُحد کے فیصلہ کن نقصانات میں سے تھی۔ حضرت وحشی کی تفصیلی شہادت، مثلے کی روایات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم میدان کی شدت اور جماعت کے انسانی نقصان دونوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ شہداء کو میدان ہی میں دفن کرنے کے عمل نے اُحد کے جغرافیے کو بھی عہدِ نبوی کی تاریخی یاد کا حصہ بنا دیا۔

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ معروف مشترک قبر کی شہادت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ قبرستان کی اکثر غیر معین قبروں کے مقابلے میں زیادہ مخصوص شناخت رکھتی ہے۔ اس کی ابتدائی بنیاد ابن اسحاق کے ہاں صراحت سے خاندانی روایت ہے، جسے مرکز بحوث و دراسات المدینہ کی اسی مشترک قبر کی شناخت اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے موجودہ الگ نقشاتی نشان سے مزید تقویت ملتی ہے۔ اسی لیے مخصوص جغرافیائی خانوں میں موجودہ مقام کو بلند اعتماد کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے، لیکن ۴۹ھ / ۶۶۹ء کی منقول منتقلی اور بعد کی تعمیراتی تبدیلیاں احتیاط لازم رکھتی ہیں: تاریخی طور پر مشترک قبر کی شناخت اور اس کی اصل سطحی ساخت کا بلا تبدیلی باقی رہنا ایک ہی بات نہیں۔

خاندانی روابط

ماخذ

Siyar A'lam al-Nubala' | al-Dhahabi | vol. 1, pp. 172–184 | biography and Uhud material
Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | vol. 3 | biography of Hamza ibn Abd al-Muttalib
Al-Muntazam fi Tarikh al-Muluk wa al-Umam | Ibn al-Jawzi | vol. 3, p. 179 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/421/411/ | mother and named children
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | vol. 35, p. 165 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/11242/ | Khawla bint Qays as wife
Sahih al-Bukhari | 4072 | Wahshi's account of Hamza's killing
Sahih al-Bukhari | 4744 | Badr champions
Sahih Muslim | 1448 | Hamza as the Prophet's foster-brother
Al-Sirah al-Nabawiyyah | Ibn Hisham transmitting Ibn Ishaq | shared-burial family report
Medina Research and Studies Center | https://mawsuea.mrsc.org.sa/ar/milestones/141 | shared grave and site history

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔