آیات، معجزات، کرامات اور عبرت آموز واقعات

منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔

بنیادی زمرے

صحابی/صحابیہ کی کرامتنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کی رات کی تلاوت اور فرشتوں کا قریب آنا

صحیح بخاری ۵۰۱۸ اور صحیح مسلم ۷۹۶ حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کی ایک بابرکت رات کا واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ وہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کا گھوڑا بار بار بے چین ہوا، اور تلاوت روکنے پر پرسکون ہوجاتا تھا۔ ان کے بیٹے یحییٰ گھوڑے کے قریب تھے، اس لیے حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے بچے کی حفاظت کے لیے تلاوت روک دی۔ آسمان کی طرف دیکھا تو ایک سائبان یا بادل جیسا روشن منظر نظر آیا جس میں چراغوں جیسی روشنیاں تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ وہ فرشتے تھے؛ بخاری کے مطابق وہ ان کی آواز کے قریب آئے تھے اور مسلم کے مطابق ان کی تلاوت سن رہے تھے۔

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ · PER-000385 · صحیح حدیث
الٰہی نجاتعبرترحمت یا برکتمخالفین پر حجت

حضرت جریج کی بے گناہی: شیر خوار بچے کی گواہی جس نے جھوٹا الزام ختم کردیا

صحیح بخاری ۳۴۳۶، ۲۴۸۲ اور صحیح مسلم ۲۵۵۰ الف بنی اسرائیل کے عابد حضرت جریج کا واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ والدہ کی پکار کے باوجود وہ نماز میں مشغول رہے، پھر ایک عورت نے انہیں گناہ پر آمادہ کرنا چاہا مگر ناکام رہی۔ وہ ایک چرواہے سے حاملہ ہوئی اور بچے کی نسبت جھوٹے طور پر حضرت جریج کی طرف کردی۔ لوگوں نے عبادت گاہ گرا دی اور انہیں رسوا کیا۔ حضرت جریج نے وضو اور نماز کے بعد شیر خوار بچے سے پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے؛ بچے نے بول کر چرواہے کی نشاندہی کردی اور حضرت جریج کی بے گناہی ظاہر ہوگئی۔

جریج عابد · PER-000389 · صحیح حدیث
ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکتمخالفین پر حجت

نابینا درباری کی بینائی مومن لڑکے کی دعا کے بعد واپس آنا

صحیح مسلم اصحاب الاخدود کے مومن لڑکے کی طویل روایت میں ایک نہایت واضح شفا کا واقعہ محفوظ کرتی ہے۔ بادشاہ کا ایک نابینا درباری تحائف لے کر لڑکے کے پاس آیا اور بینائی کی بحالی چاہی۔ لڑکے نے فوراً اپنی مستقل شفا دینے کی قدرت سے انکار کیا اور کہا کہ شفا صرف اللہ دیتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر درباری اللہ پر ایمان لائے تو وہ اس کے لیے دعا کرے گا۔ درباری ایمان لایا، لڑکے نے اللہ سے دعا کی، اور اللہ نے اس کی بینائی واپس کر دی۔ جامع ترمذی اور صحیح ابن حبان بھی اسی بنیادی واقعے کے متوازی طرق محفوظ کرتے ہیں۔

اصحاب الاخدود کا نوجوان · PER-000390 · صحیح حدیث
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاتدعا کی قبولیتمخالفین پر حجت

مؤمن لڑکے کی پہاڑ اور سمندر سے دو مرتبہ غیر معمولی نجات

صحیح مسلم ۳۰۰۵ میں ظالم بادشاہ کی مؤمن لڑکے کو قتل کرنے کی دو مسلسل کوششیں محفوظ ہیں۔ لڑکے نے دین چھوڑنے سے انکار کیا تو پہلے اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر نیچے پھینکنے کا حکم دیا گیا۔ لڑکے نے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس طرح چاہے اسے ان لوگوں کے مقابلے میں کافی ہوجائے؛ پہاڑ ہلا، اسے لے جانے والے گر گئے اور وہ سلامت چل کر بادشاہ کے پاس واپس آگیا۔ پھر اسے کشتی میں سمندر کے درمیان لے جا کر پانی میں پھینکنے کا حکم ہوا۔ اس نے دوبارہ دعا کی، کشتی الٹ گئی، اسے قتل کرنے والے ڈوب گئے اور وہ پھر محفوظ واپس آکر بولا کہ اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔

اصحاب الاخدود کا نوجوان · PER-000390 · صحیح حدیث
الٰہی نجاتعبرترحمت یا برکتمخالفین پر حجت

حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ: عظیم آگ سے محفوظ رہنے کی تاریخی روایت

بعد کے معتبر تاریخی مصادر حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کا ایک مؤثر واقعہ محفوظ کرتے ہیں۔ یمن میں جھوٹے مدعیِ نبوت اسود عنسی نے انہیں بلایا اور اپنے دعوے کو ماننے کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابو مسلم رحمہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی مگر اسود کے دعوے کو رد کردیا۔ ایک بڑی آگ جلائی گئی اور انہیں اس میں ڈال دیا گیا، مگر روایت کے مطابق آگ نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا۔ اسود کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ انہیں یمن سے نکال دیا جائے۔ بعد میں وہ مدینہ پہنچے، جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے واقعے سے انہیں پہچان لیا، گلے لگایا اور رو پڑے۔

ابو مسلم خولانی · PER-000391 · قدیم تاریخ
صحابی/صحابیہ کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ اور پانی کے غیر معمولی عبور کی روایت

کلاسیکی مصادر میں صحابی علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے لشکر کے بارے میں ایک غیر معمولی روایت محفوظ ہے۔ راستے میں پانی حائل ہوا تو روایات نماز، دعا اور اللہ کا نام لے کر آگے بڑھنے کا ذکر کرتی ہیں۔ پھر جماعت نے پانی عبور کیا اور متن اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان کے پاؤں اور سواریوں کے سم پانی سے نہ بھیگے۔ یہ واقعہ صحابی کی کرامت کے طور پر احتیاط کے ساتھ شائع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ محفوظ اسانید میں نمایاں کمزوریاں موجود ہیں۔

حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ · PER-000392 · قدیم تاریخ
الٰہی نجاتنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت

سفینہ اور وہ شیر جس نے انہیں سلامتی کی طرف رہنمائی کی

کلاسیکی ماخذ ایسی روایات محفوظ کرتے ہیں جن میں حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور مولیٰ (غلام) تھے، ایک شیر سے روبرو ہوئے۔ مصنف عبد الرزاق ۲۱۶۱۹ میں شیر انہیں لشکر تک پہنچاتا ہے۔ دلائل النبوۃ للبیہقی جلد ۶ صفحات ۴۵–۴۶، المستدرک للحاکم ۴۲۳۵ جلد ۲ صفحہ ۶۷۵، اور دلائل النبوۃ لأبی نعیم روایت ۵۳۵ میں کشتی ٹوٹنے کے بعد شیر انہیں محفوظ راستے تک پہنچاتا ہے۔

حضرت سفینہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ · PER-000395 · بعد کی مناقب و کرامات
صحابی/صحابیہ کی کرامتعبرترحمت یا برکت

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور واپس آنے والا سلام

صحیح مسلم میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ انہیں ایک غیر معمولی سلام آتا تھا، داغنے کے علاج کے بعد وہ سلام رک گیا اور جب انہوں نے یہ علاج چھوڑ دیا تو دوبارہ آنے لگا۔ صحیح مسلم کے اصل الفاظ سلام کرنے والوں کا نام نہیں بتاتے۔ امام بیہقی اور امام حاکم کی کلاسیکی روایات اس سلام کو صراحت کے ساتھ فرشتوں کا سلام قرار دیتی ہیں۔ اس لیے واقعہ بلند اعتماد کے ساتھ شائع کیا جا سکتا ہے، مگر دونوں ماخذی تہوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ · PER-000396 · قدیم تاریخ
صحابی/صحابیہ کی کرامتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دریائے نیل کے نام خط اور قدیم مصری رسم کا خاتمہ

کلاسیکی مصری مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے زمانۂ حکومت میں اہلِ مصر نے دریائے نیل کے سالانہ بہاؤ سے وابستہ ایک قدیم رسم کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق قبطی مہینے بؤنہ کی بارہ راتیں گزرنے پر ایک کنواری لڑکی منتخب کی جاتی، اس کے والدین کو راضی کیا جاتا، اسے بہترین لباس اور زیور پہنایا جاتا اور پھر نیل میں ڈال دیا جاتا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ رسم ختم کر دی۔ جب نیل حسبِ معمول نہ بڑھا تو انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، جنہوں نے ایک تحریر بھیجی کہ دریا صرف اللہ کے حکم سے جاری ہوتا ہے۔ روایت کے مطابق یہ تحریر نیل میں ڈالنے کے بعد پانی نمایاں طور پر بڑھ گیا۔ محفوظ سند کمزور اور منقطع ہے، اس لیے واقعہ کو قطعی تاریخ کے بجائے محتاط کلاسیکی کرامت کی روایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ · PER-000393 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات اور جنازے کے وقت غیر معمولی نشانیاں

ہجویری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب میں ذوالنون مصری رحمہ اللہ کی وفات کے گرد چند غیر معمولی نشانیوں کا ایک مربوط بیان محفوظ کیا ہے۔ ان کے مطابق وفات کی رات ستر لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا، وفات کے بعد ایک تحریر ظاہر ہوئی، اور جنازے کے اوپر پرندے جمع ہو کر سایہ کرنے لگے۔ امام ذہبی نے بھی الگ روایت میں جنازے پر پرندوں کے سایہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ایک تاریخی نقل میں تحریر پیشانی کے بجائے قبر پر بتائی گئی ہے، اس لیے اس اختلاف کو الگ روایت کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔

ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ · PER-000450 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکت

ابراہیم خواص رحمہ اللہ کے قدموں کا پتھر میں موم کی طرح دھنسنا

ہجویری رحمہ اللہ نے ابراہیم خواص رحمہ اللہ کے ایک پہاڑی سفر سے متعلق ایک نہایت دل چسپ کرامتی روایت محفوظ کی ہے۔ سفر کے دوران ان کے ساتھی نے چند اشعار پڑھے جن سے ابراہیم خواص پر گہرا اثر ہوا۔ اشعار دوبارہ سن کر وہ تواجد کی شدید کیفیت میں آگئے اور پتھریلی زمین پر اپنے قدم حرکت دینے لگے۔ روایت کے مطابق ان کے قدم پتھر میں ایسے دھنس گئے جیسے وہ موم ہو۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے اور ہوش آنے پر جنت میں ہونے کا ذکر کیا۔

ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ · PER-000437 · بعد کی مناقب و کرامات
ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہ

مالک بن دینار رحمہ اللہ: مچھلیوں کے منہ میں جواہرات اور سمندر پر چلنے کی کرامت

ہجویری رحمہ اللہ کشف المحجوب میں مالک بن دینار رحمہ اللہ سے متعلق ایک غیر معمولی کرامت نقل کرتے ہیں۔ سمندری سفر کے دوران جہاز میں ایک جواہر گم ہوگیا اور مالک بن دینار پر اسے لینے کا الزام لگا۔ روایت کے مطابق مچھلیاں منہ میں جواہرات لیے سطحِ سمندر پر آئیں، مالک نے ایک جواہر لے کر مدعی کو دے دیا، اور اس کے بعد وہ پانی پر چلتے ہوئے ساحل تک پہنچ گئے۔

مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ · PER-000424 · بعد کی مناقب و کرامات